اے ز رویت ماہ و انجم مستنیر
آتشِ خود را ز جانم باز گیر
آپ کے چہرہ مبارک سے چاند اور ستارے روشنی پاتے ہیں
میری جان سے اپنی آگ (عشق) واپس لے لے
ایں امانت بازگیر از سینہ ام
خارِ جوہر برکش از آئینہ ام
میرے سینے سے یہ امانت واپس لے لیجیئے
میرے آئینے سے جوہر کا کانٹا
(جو میرے سینے میں کھٹک رہا ہے) نکال دیجئے ۔
یا مرا یک ہمدمِ دیرینہ دہ
عشق عالم سوز را آئینہ دہ
یا مجھے اسلاف جیسا ایک دوست عطا ہو
جو میرے عشق عالم سوز کے لیے آئینے کا کام دے۔
موج در بحر است ہم پہلوے موج
ہست با ہمدم تپیدن خوے موج
سمندر میں موج، موج کے پہلو میں ہے
موج کی فطرت اپنی ساتھی موج کے ساتھ مل کر متلاطم ہونا ہے۔
بر فلک کوکب ندیمِ کوکب است
ماہِ تاباں سر بہ زانوے شب است
آسمان پر ستارہ ستارے کا ساتھی ہے
چمکتے ہوئے چاند نے رات کے گود پر سر رکھا ہوا ہے۔
روز پہلوے شبِ یلدا زنَد
خویش را امروز بر فردا زند
دن تاریک رات کے پہلو میں رہتا ہے
اور آ ج اپنے آپ کو آنے والے کل سے پیوست رکھتا ہے۔
ہستئ جوئے بہ جوئے گم شوَد
موجۂ بادے بہ بوئے گم شوَد
ندی کا وجود ندی میں گم ہو جاتا ہے
خوشبو ہوا کی موج سے مل جاتی ہے۔
ہست در ہر گوشۂ ویرانہ رقص
می کند دیوانہ با دیوانہ رقص
ویرانے کے ہر گوشے میں رقص نظر آتا ہے
دیوانہ بھی دیوانے کے ساتھ رقص کر رہا ہے۔
گرچہ تو در ذات خود یکتاستی
عالمے از بہر خویش آراستی
اگرچہ اے اللہ! آپ اپنی ذات میں یکتا ہیں
پھر بھی آپ نے اپنے لیے کائنات کو آراستہ فرمایا ہے۔
من مثالِ لالۂ صحراستم
درمیانِ محفلے تنہاستم
مگر میں لالۂ صحرا کی مانند محفل کے اندر بھی تنہا ہوں۔
خواہم از لطفِ تو یارے ہمدمے
از رموزِ فطرتِ من محرمے
میں آپ کے کرم سے ایک ایسے غمگسار دوست کا خواہاں ہوں
جو میری فطرت کے رموز سے واقف ہو۔
ہمدمے دیوانۂ فرزانۂ
از خیالِ ایں و آں بیگانۂ
ایسا دوست جو دیوانہ بھی ہو اور عقلمند بھی
اور دنیا کے نفع و ضرر سے بلند تر ہو۔
تا بہ جانِ او سپارم ہوے خویش
باز بینم در دلِ او روے خویش
تاکہ میں اپنا جنوں اس کے سپرد کر دوں
اور پھر اس کے دل کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھوں۔
سازم از مُشتِ گِلِ خود پیکرش
ہم صنم او را شوَم ہم آزرش
اپنی مٹھی بھر خاک سے اس کا جسم بناؤں
پھر خود اس کا بت بن جاؤں، اور خود ہی اسے تراشنے والا بھی بن جاؤں
اسرارِ خودی

