اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ہادی برحق، نور مجسم ۔۔ صلی اللہ علیہ وسلم

f3785a83 a7a3 4e72 8ae3 454382a99179 jpg

تحریر:ام عزوہ

مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے چندہ جمع کرنے والے مولانا صاحب چندہ دینے والے چھوٹے چھوٹے بچوں کو نام سے پکار کر شاباشی کے بعد دعائیں دیتے۔۔پھر وقفے وقفے سے وہ خود یا کوئی شاگرد بچہ کوئی نعت پڑھتا اور میں کام کرتے ہوئے بے ساختہ اس نعت کو اپنی زبان سے بچے کے ساتھ دہرا رہی ہوتی تھی۔ایک عجیب کیفیت۔۔۔۔ایک والہانہ پن۔۔حالانکہ اس مسلک سے میرا تعلق نہیں۔لیکن اپنے نبی سے میرا جو تعلق قرآن اور پھر میرا دل گواہی کے ساتھ بتاتا ہے بس اس محبت کی کیفیت میں تھی میں۔۔۔

میرا بیٹا جس مسلک کی مسجد میں جاتا ہے وہاں درج بالا سرگرمیاں نہیں ہوتیں۔۔لیکن چھوٹے چھوٹے بچوں کو تاکید کی گئی تھی کہ بارہ ربیع اول کو چھٹی کے دن وہ لازمی تین سو بار درود شریف پڑھ کرہادی دوعالم کو  ہدیہ کریں گے۔۔مجھے یہ بات بھی بہت بھلی لگی۔میں نے بھی تہیہ کیا کہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ بیٹھ کر اس کا اہتمام کروں گی۔۔اگر آپ میرے فرقے کی کھوج میں اور اسی سوچ میں پڑے ہیں کہ اصل میں کس مسلک سے میرا تعلق ہے ۔۔۔????تو میرا کوئی مسلک یا فرقہ نہیں ہے۔میں سوائے مسلمان ہونے کے اور کچھ نہیں کہلوانا چاہتی۔

کوشش ہو تو ان کاموں سے اجتناب کی توفیق رب سے مانگی جائے، جو دین میں اضافے کا سبب بن کر گلے کا طوق بن جائیں۔باقی نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر مسلمان کے دل میں بستے ہیں۔گناہ گار سے گنہگار مسلمان اپنے دل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا سمندر رکھتا ہے۔آئیے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تصور کی آنکھ سے دل میں محسوس کریں۔۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت نرم طبیعت کے مالک مشفق و مہربان تھے ۔
چہرہ مبارک پر ہمیشہ خوبصورت مسکراہٹ رہتی۔
سر مبارک اعتدال کے ساتھ بڑا اور مضبوط تھا،دونوں کندھوں کے درمیان قدرے فاصلہ اور درمیان میں مہر نبوت تھی۔پیشانی مبارک کشادہ،ناک مبارک قدرے ابھری ہوئی چمکدار،چہرہ انور پر پسینہ موتیوں کی طرح چمکتا تھا۔۔چشم مبارک موٹی،پتلی نہایت سیاہ۔۔سفیدی میں سرخ ڈورے،پلکیں لمبی اور ابرو خمدار و گھنے درمیان میں فاصلہ۔۔۔
گردن مبارک نہایت خوبصورت اور لمبی رنگ میں چاند جیسی صاف اور شفاف تھی۔
(ماخوذ از شمائل ترمذی 7225)

ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق،تقوی اور انسانیت کے جس درجے پر فائز تھے۔۔۔اس کا چند فیصد بھی ہم اپنا لیں تو بخدا ولی بن جائیں ۔ولی بننے کے لیے پہاڑوں میں اکیلے پھرنا اور اس طرح کے کئی جوگ پالنے کے بجائے دنیا داری میں ہم اپنے نبی کی زندگی کا نمونہ نقل کرنے لگیں تو جینے کا قرینہ ا جائے اور آخرت سنور جائے۔۔۔

اور کچھ نہ کریں ہم۔۔۔بس خود اپنامحاسبہ کر لیں،کہ ہمارے اخلاق کیا ہیں،ہمارا تقوی کیا ہے۔۔۔۔ہم حقوق العباد کے معاملے میں کس مقام پر کھڑے ہیں۔۔۔
اور اپنے نبی کی زندگی کے اصول اور شب و روز کو پڑھ لیں۔۔۔
پھر ہم بھلے عشق کے کھوکھلے نعرے نہ لگائیں دل ہمارا سبز رہے گا نبی کی محبت میں۔
صلی اللہ علی النبی۔
صلی اللہ علی سیدنا محمد والہ وسلم۔
اللہ ہم سب کو اپنے نبی کریم مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے صحیح معنوں میں محبت کرنے والا بنا دے۔ آمین۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481