علامہ اقبال کی نظم شاعر کے مطابق قوم کا ایک اہم ہدف ’’منزلِ صنعت ‘‘ ہے اور اس منزل کو پانے کی تگ و دو کرنے والوں کو انھوں نے قوم کے ’’دست و پا ‘‘ قرار دیا ہے۔ جب کہ شاعر (اور دیگر راہنماؤں ) کو انھوں نے قوم کے دیدہ بینا یا بہ الفاظ دیگر ’’ آنکھیں اور دماغ ‘‘ قرار دیا ہے ۔
وطن عزیز کی منزلِ صنعت کا ایک اہم سنگ میل شجر مبارک زیتون کی کاشت ہے ۔ چناں چہ قوم کے دل و دماغ اور ہاتھ پاؤں ، یعنی زیتون کے ماہرین اور کاشت کاروں کو ایک جسم کی طرح مل بیٹھنے اور زیتون کے فروغ کے لئے ۲۴ ستمبر ۲۰۲۳ ء کو سہگل زیتون فارمز چکوال روڈ کلر کہار میں ایک زیتون میلے کا انعقاد کیا گیا۔چوں کہ زندگی کے جھمیلے میں ، میلے ایک سُکھ کی سانس اور جذبات کی آنچ کا کردار ادا کرتے ہیں ۔ اس لیے ہم نے اس میلے کے اعلان کے ساتھ ہی اس میں شرکت کا ارادہ کر لیا تھا اگرچہ زندگی کے جھنجھٹ نے اس ارادے کی منسوخی پر مجبور کر دیا تھا ۔ لیکن حضرت استاد جی کے حکم پر میلے کی طرف روانہ ہوا۔
میلے کی شروعات تو صبح نو بجے تھی لیکن بندہ کچھ دیر سے میلے میں پہنچا ۔ایک وسیع میدان کے درمیان کہ جس کے اردگرد زیتون کے پودے لگے تھے ایک خوب صورت چبوترہ بنایا گیا تھا ۔اسٹیج کے تینوں اطراف پاکستانی زیتون کی مختلف مصنوعات کے اسٹال لگے ہوئے تھے جب کہ بعض اسٹالوں پر لذت کام و دہن کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔

باقاعدہ پروگرام کی ابتدا سے پہلے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عاشقان زیتون ایک دوسرے سے ملاقاتیں کر رہے تھے ۔ جب کہ بعض احباب اسٹالوں کا معائنہ کر رہے تھے۔بارانی زرعی یونیورسٹی میں آمد و رفت کے سبب بعض حضرات سے بندے کی شناسائی ہو چکی تھی لہذا سب سے پہلے تو ان سے ملاقات کی ۔ ڈاکٹر رمضان انصر صاحب ، ڈاکٹر اظہر اقبال صاحب کے علاوہ جناب وسیم صاحب سے ملاقات ہوئی ۔
اس کے علاوہ بعض احباب سے رابطہ سوشل میڈیا کے ذریعے تھا ان سے بالمشافہہ ملاقات کا موقع ملا ۔ جناب مدثر صاحب صدر آلیو فیڈریشن پنجاب ، جناب احمد بزدار مالک برگ زیتون فارم بلوچستان سے شرف ملاقات حقاصل ہوا۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز حمد و ثنا اور نعت پاک سے کیا گیا ۔ جناب یوسف شاہ صدر آلیو فیڈریشن پاکستان نے اپنے ابتدائی خطاب میں مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے ساتھ زیتون مشن کا تعارف پیش کیا ۔
اعظم نذیر ایورڈ ‘‘ کا پس منظر
اس میلے کا ایک اہم کام ’’ اعظم نذیر ایورڈ ‘‘ سے کسی کو نوازنا ہوتا ہے ۔ اعظم نذیر صاحب مرحوم زیتون مشن کے اولین راہ پیماؤں میں سے تھے ۔آپ کے ہمراہی بتاتے ہیں کہ جب پاکستان میں زیتون کا پھل تجارتی سطح پر سامنے آیا تو اس سے مختلف قسم کی مصنوعات تیار کرنے کا رجحان اور اہتمام نہیں تھا ۔اس موقع پر زیتون کے کاشت کار اس پھل سے تنگ آ گئے کہ جس کے نہ تو خریدار تھے اور نہ یہ خود اس سے مصنوعات تیار کر سکتے تھے۔ کئی کاشت کاروں نے ارادہ کیا کہ آج کے بعد ہم زیتون کاشت نہیں کریں گے بلکہ لگے لگائے زیتون کے درختوں کو بھی کاٹ کر آگ سینکنے کے لیے استعمال کریں گے۔ اس موقع پر اعظم نذیر صاحب نے اپنی تجوری کا منھ زیتون کے لیے کھولا اور زیتون خرید کر اس سے مصنوعات تیار کرنے کا کام شروع کیا ۔
بقول راویان وہ ایک ایک کلو زیتون خریدنے کے لیے بھی دور دراز کا سفر اختیار کر لیتے تھے ۔ اس طرح انھوں نے پاکستان میں زیتون سے مصنوعات سازی کے کام کی داغ بیل ڈالی ۔ زیتون کے خادموں کی حوصلہ افزائی کے لیے جب کسی ایوارڈ کے اجرا کا فیصلہ کیا گیا تو اعظم نذیر صاحب کی انھی خدمات کے اعتراف میں اس ایوارڈ کا نام آپ کے نام نامی پر رکھا گیا ۔امسال یہ ایوارڈ جناب ڈاکٹر رمضان انصر صاحب کو دیا گیا ۔ یہ گویا ڈاکٹر صاحب کی خلوص و محبت اور محنت کا ایک اعتراف ہے ۔
’’پھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیم ‘‘
’’پھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیم ‘‘ کے مصداق زیتون مشن جاری تو تھا لیکن اس کا وہ غلغلہ نہ تھا جو آج ہمارے سامنے ہے ۔اس کا سہرا ڈاکٹر رمضان انصر صاحب اور ان کی ٹیم کے سر ہے کہ انھوں نے اس مشن میں پبلک سیکٹر کو متحرک کیا ۔ بڑے سے لے کر چھوٹے کاشت کار تک کی سرپرستی اور معاونت کی ۔ اگر میں اپنا ایک چھوٹا سا واقعہ سناؤں تو غیر مناسب نہ ہو گا کہ جب میں پہلی دفعہ زیتون کی قلمیں لینے باری میں گیا تو ’’ عملے ‘‘ کے رویے سے دل برداشتہ ہو کر بغیر قلمیں لیے باہر نکل آیا ۔بھوک نے ستایا تو نزدیکی ہوٹل پر کھانا کھانے بیٹھ گیا ۔ خیال آیا کہ باری کے آفیشل ای میل ایڈرس پر ای میل تو کر دوں۔ حیرت انگیز طور پر میری ای میل فوری چیک ہوئی اور کھانے کے دوران ہی ڈاکٹر رمضان صاحب کی کال آئی کہ آپ سیدھے میرے دفتر آ جائیں ۔ اس ذرہ نوازی پر میں حیران کے ساتھ شادمان بھی تھا۔ چناں چہ نہ صرف مجھے قلمیں دی گئیں بلکہ مزید راہنمائی بھی بہت اچھی طرح کی گئی۔اگرچہ یہ ایک معمولی ساواقعہ ہے لیکن اس ماحول میں کہ سرکاری محکموں کا ایک چوکیدار تک سیدھے منہ بات نہیں کرتا ایک ڈاکٹر اور آفیسر کا کام میں اتنی دلچسپی لینا بہت بڑی بات ہے۔
پروگرام کی مہمان خصوصی قرۃ العین ملک صاحبہ اسسٹنٹ کمشنر چکوال تھیں ۔ انھوں نے ڈاکٹر رمضان صاحب کو ان کے تمغے سے نوازا ۔اپنی تقریر میں انھوں نے زیتون مشن میں ڈاکٹر رمضان صاحب اور ان کی ٹیم کی کوششوں کی تعریف کی ۔ چکوال کے علاقے میں بیری کے خود رو ، درخت بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں جن سے عمدہ شہد حاصل کیا جاتا ہے۔ اس شکایت پر کہ یہاں بیری کے درخت غیر ضروری طور پر کاٹے جا رہے ہیں انھوں نے اپنے علاقے میں بیری کے درخت کاٹنے پر پابندی لگانے کا اعلان بھی کیا ۔ بندے کی نظر میں یہ ایک اہم فیصلہ ہے کیوں کہ حدیث پاک میں ( غیر ضروری طور پر ) بیری کے درخت کاٹنے کی شدید مذمت وارد ہوئی ہے ۔
جناب حکیم محمد سعید مرحوم کی یا د گار ہمدرد لیبارٹریز کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب افضل باری صاحب نے بھی اسٹیج کو رونق بخشی اپنی تقریر میں زیتون مشن پر کام کرنے کرنے والوں کو سراہنے کے ساتھ انھیں بعض ادویاتی اہمیت کی حامل جڑی بوٹیوں کی کاشت کی طرف متوجہ کیا اور اس ضمن میں اپنے ادارے کی کوششوں کا بھی مختصر ذکر کیا ۔اس کے بعد مختلف علاقوں سے آئے ہوئے زیتون کے کاشت کاروں اور کارکنوں اور اسٹالز کے منتظمین کے علاوہ اٹلی سے آئے ہوئے زیتون کے ماہرین کے ایک وفد کو بھی یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں ۔
اب اسٹالز کی طرف آتے ہیں تو زیتون کے علاوہ بھی بعض قدرتی اشیا ء کے اسٹالز لگائے گئے تھے ۔ایک طرف زم زم مارٹ ، شور کوٹ کا اسٹال تھا جس میں مختلف علاقوں کے قدرتی شہد مہیا کیے گئے تھے۔
ایک اسٹال امیر انجیر فارم چکوال کی طرف سے لگایا گیا تھا ۔ جس میں خشک انجیر ، شربت انجیر ، انجیر سیرپ اور انجیر جام موجود تھے ۔
جام کی ایک قسم چینی میں بنائی گئی تھی جب کہ ایک قسم شہد میں تیار کی گئی تھی ۔ زیتون کی مصنوعات بنانے والی بعض پاکستانی کمپنیوں مثلاً اولیو پاکستان، پاک آلیو ، برگ زیتون ، گرین اولیور ، زیتون پاکستان اور الزیتونیہ کے اسٹال بھی موجود تھے۔ ان کی مصنوعات میں زیتون کا تیل، سبز اور سیاہ زیتون کے مختلف اچار ، مربہ زیتون ، زیتون جام ، عرق زیتون ، سرکہ زیتون سبز اور سرکہ زیتون سیاہ ، قہوہ زیتون ، زیتون پیسٹ، بادام زیتون ، میٹھا زیتون وغیرہ شامل تھیں ۔ اس کے علاوہ زیتون کے تیل میں تیار شدہ مٹھائیاں مثلاً برفی ، کیک رس ، کیک اور ریوڑیاں بھی موجود تھیں ۔ تمام اسٹالز پر مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے مصنوعات کے ڈبے کھلے دلوں سے کھول رکھے گئے تھے ۔
خریدار اور غیر خریدار دونوں کو ’’ لا تعداد بار ‘‘ چکھنے کی نہ صرف اجازت تھی بلکہ با اصرار ان کی خدمت میں یہ سوغاتیں پیش کی جاتی تھیں ۔
میلے کے اختتام پر بندے نے حضرت استاذ مفتی ابولبابہ شاہ منصور کی خدمت میں میلے کی کارگزاری پیش کی اور اپنے علاقے میں کی جانے والی کوششوں سے بھی آپ کو آگاہ کیا۔ حضرت نے بندے کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی فرمائی اور آپ کا یہ جملہ ’’ خود کو زیتون میں فنا کر دو ، اللہ تمھیں بقا دے گا ‘‘ میرے لیے ایک سرمایہ حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت استاذ مفتی ابو لبابہ شاہ منصور مدظلہ کے بعض احباب کی طرف سے کلر کہار گیسٹ ہاؤس میں ’’ دیسی غذاؤں‘‘ پر مشتمل ظہرانے کا اہتمام تھا ۔ حضرت کے حکم پر ہم بھی اس میں شامل ہوئے ۔
مور والا مزار
گیسٹ ہاؤس کی زیریں جانب جھیل ہے اور بالائی سمت ’’موروں والےمزار ‘‘ کی باوقار عمارت ہے ۔ اگرچہ ہم مزار کی زیارت تو نہ کر سکے البتہ وہاں کے چند مور ہماری فرحت نظر کے لیے گیسٹ ہاؤس کے لان میں ٹہلنے پہنچ آئے تھے ۔ ہمارے میزبانوں نے بتایا کہ یہاں آس پاس مور بکثرت پائے جاتے ہیں ۔ظہرانے کے بعد ہم کچھ دیر یہاں کے نظاروں سے لطف اندوز ہوئے اور نماز عصر و رسم ِ چائے ادا کرنے کے بعد یہاں سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوئے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے ملک کو زیتون میں خود کفیل بنائے اور جملہ خادمانِ زیتون کو اجر عظیم سے نوازے۔





