اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جب مری کے سردار باز خان نے فرنگی راج کو للکارا

8f2629c6 fd3b 447d b1a0 11083efd3902 jpg

حبیب عزیز ۔۔ صاحب تحریر

fa7bac18 961b 4b0d 835c 3000c624a52f jpg

مہاڑیو پہرارو تے سنگیو۔۔
ائی اس ماتم اوپر تس تے اس دور دور سی آئے اں۔اچھو آئی ملی تے ایک عہد کراں کہ اپنے اس خوبصورت علاقے وچا غیر ملکی فرنگیاں نی حکومت جب تک ختم ناں کراں، اس ویلے  توڑی اس آرام نال نیاں بہنے۔۔۔
(30 جولائی 1857 سندھیاں مری)

یہ وہ پہلا عوامی خطاب تھا جو خطہ کوہسار کی جنگ آزادی کے نامور جانباز سردار باز خان عباسی نے پہاڑی زبان میں ایک جنازے میں شرکت کے بعد کیا تھا۔

30 جولائی 1857 کو مری کے موضع سندھیاں کی ایک بزرگ شخصیت سردار امیر خان نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ان کے انتقال کی خبر صبح سویرے ہی  پورے خطہ کوہسار میں پھیل گئی۔دور دراز کے دیہات سے لوگ جوق در جوق جنازے میں شرکت کے لئیے پہنچے۔سندھیاں کا پورا گاؤں انسانی سروں کا سمندر معلوم ہو رہا  تھا۔ہر طرف لوگ ہی لوگ نظر آتے تھے۔ بعد از دوپہر سردار امیر خان کو سپرد خاک کیا گیا۔۔تدفین کے بعد ماتم میں آنے والے خطہ کوہسار کے ممتاز حریت پسند لیڈ سردار باز خان عباسی نے پہاڑی زبان میں مختصر اور جامع خطاب کیا جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔اس خطاب کے بعد مری میں جنگ آزادی شروع ہوگئی۔۔

1857 کی جنگ آزادی میرٹھ چھاؤنی سے شروع ہوئی تھی۔جس کی تپش پورے ہندوستان میں پھیل گئی تھی۔خطہ کوہسار مری، ہزارہ، کشمیر بھی جنگ آزادی میں باقی ملک سے پیچھے نہ رہا۔۔

باز خان عباسی کون تھے ؟؟

آج کل کی نئی نسل شائد ان کا نام بھی نہ جانتی ہو۔پرانی نسل کو بھی جنگ آزادی کے اس ہیرو سے متعلق خاص علم نہیں تھا۔

باز خان کا خطاب کسی ایک شخصیت کو نہیں ملا تھا۔یہ دو چچا زاد بھائی تھے جنہیں مشترکہ طور پر یہ خطاب ملا تھا۔ باز کی طرح تیزی سے پلٹ جھپٹ کر حملہ کرنے والے ان دو جانبازوں کو بڑے باز خان اور چھوٹے باز خان کہا جاتا تھا۔
بدقسمتی سے ہمارے خطہ کوہسار کی تاریخ کے ان تابناک کرداروں کا احوال کبھی بھی تحریری طور پر محفوظ نہیں کیا گیا۔مختلف رسائل و جرائد میں جو واقعات منظر عام پر آتے رہے ان میں ایک باز خان عباسی کا تذکرہ مختلف انداز میں کیا جاتا رہا۔کسی نے لکھا کہ ان کو ایجنسی گراونڈ مری میں جنگ آزادی میں شکست کے بعد توپ کے سامنے کھڑا کرکے کر شہید کردیا گیا تھا۔کسی نے لکھا کہ ان کو جلاوطن کرکے جزائر انڈیمان یعنی "کالا پانی” بھیج دیا گیا تھا۔

cbb335e7 4c49 4a6f 9013 288327fb8d59 jpg

اس طرح ہماری قومی تاریخ کے ان عظیم کرداروں پر وقت کی گرد کی ایسی تہہ جمی کہ یہ تاریخ قصہ پارینہ بن گئی۔یہ تاریخ دو بھائیوں کی لازوال قربانی کا ایسا قصہ ہے جس کو کبھی درستگی سے لکھا نہیں گیا۔

بڑے باز خان کا نام ذوالفقار علی خان تھا جبکہ چھوٹے باز خان کا نام سلطان احمد خان تھا۔یہ دونوں آپس میں کزن یا چچا زاد بھائی تھے۔ان کے پردادا کا نام سردار خان تھا اور یہ موضع ملوٹ ڈھونڈاں تحصیل مری کے رہنے والے تھے۔۔ذوالفقار علی خان کی  پیدائش 1810 میں ہوئی جبکہ سلطان احمد خان 1820 میں پیدا ہوئے۔دونوں بھائی بچپن سے ہی یک جان دو قالب تھے۔

سلطان احمد خان کا ننہیال اسلام آباد کے قریب واقع مری کا گاؤں پھلگراں تھا۔ روایت کے مطابق لڑکپن میں دونوں بھائی ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لئیے پھلگراں گئے۔اس زمانے میں شادی کی تقریبات بہت لمبی ہوا کرتی تھیں جن مختلف مردانہ کھیلوں اور حرب و فن کے مظاہرے بھی کئیے جاتے تھے۔پھلگراں کی شادی کی اس تقریب میں پورے راولپنڈی سے لوگ آئے ہوئے تھے۔

مختلف پہلوان اور فن سپاہ گری کے ماہر اپنے اپنے ہنر دکھا رہے تھے۔دونوں بھائی تقریب میں بیٹھے ان مظاہروں سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ کسی نے انہیں بھی میدان میں اترنے کی دعوت دی۔دونوں بھائی ایک ساتھ میدان میں اترے ۔ان دونوں نے کھیل اور حربی مہارت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ تمام دیکھنے والے عش عش کر اٹھے۔۔۔سلطان احمد خان کے نانا خود بھی بہت طاقتور پہلوان رہ چکے تھے۔وہ فرط مسرت سے میدان میں آئے اور ان دونوں بھائیوں کو گلے سے لگا کر انہیں بڑا باز خان اور چھوٹا باز خان کا خطاب دیا۔
اس طرح ہماری تاریخ کا امر نام ” باز خان عباسی ” ہمیشہ کے لئیے دلوں میں محفوظ ہوگیا۔

بڑے باز خان جنگ آزادی کے قائد تھے اور چھوٹے باز خان ان کا بازوئے شمشیر زن ۔۔۔

بڑے باز خان کو جنگ آزادی کے بعد جلاوطن کرکے کالا پانی بھیج دیا گیا اور چھوٹے باز خان کو مری ایجنسی گراؤنڈ میں انکے چالیس حریت پسند ساتھیوں سمیت توپ کے سامنے کھڑا کرکے شہید کردیا گیا۔

جنگ آزادی کی یہ داستان خونچکاں بھی ہے اور دلیری اور بہادری کے واقعات سے بھرپور بھی ہے۔اس میں بے سروسامانی کے عالم میں سینہ سپر ہونے والے مرد کوہستانی کا ذکر بھی ہے اور اپنوں کی غداری کا تاریک باب بھی موجود ہے۔

2a3f28bf 0ae9 44bd 9283 84386bb4e620 jpg

بڑے باز خان کا بچپن صوم و صلوات کے پابند گھرانے والے ماحول میں گزرا۔اسی ماحول کا اثر تھا کہ انگریزوں کی آمد سے برسوں پہلے نوعمر باز خان سید احمد شہید کی قیادت میں کئی معرکوں میں بہادری کے جوہر دکھا چکے تھے۔بالا کوٹ کے مقام پر سید احمد شہید کی شہادت کے بعد بھی باز خان عباسی کے سینے میں روشن آزادی کی شمع گل نہ ہوئی۔۔اب ان کے سامنے انکی خوبصورت دھرتی پر قابض انگریز سامراج تھا ۔1849 میں پنجاب پر قبضے کے بعد انگریز چند سالوں میں اپنا راج مری تک پھیلا چکے تھے۔

ایسے میں 1857 میں شروع ہونے والی جنگ آزادی مری تک آ پہنچی۔اس جنگ کے مقامی قائد سردار باز خان عباسی تھے اور چھوٹے باز خان ان کے دست راس تھے۔

13 مئئ 1857 کی روشن صبح کو چیف کمشنر پنجاب سر جان لارنس کو جنگ آزادی کی میرٹھ میں شروعات کی اطلاع دی گئی۔چیف کمشنر اپنی اہلیہ کے ساتھ مری میں موجود تھا۔مری سینی ٹوریم کے نام سے آباد ہونے والا یہ نیا شہر ان دنوں برطانوی پنجاب کا گرمائی ہیڈ کوارٹر ہوا کرتا تھا۔انگریزوں کی طرح مری کے قبائل کو بھی جنگ آزادی شروع ہونے کی اطلاع مل چکی تھی۔مری ناردرن کمانڈ کا ہیڈ کوارٹر بھی تھا اور فوجی لحاظ سے بہت محفوظ مقام تھا۔انگریزوں کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کی جنگ آزادی یہاں تک پہنچ سکتی ہے۔

باز خان عباسی کی موضع سندھیاں میں عوامی تقریر کے بعد مری میں جنگ آزادی کی شروعات ہوئی۔

مقامی لوگوں کے پاس سوائے جذبہ شہادت کے کوئی ہتھیار نہیں تھا۔مالی طور پر بھی مقامی مسلمان بہت پیچھے تھا۔باز خان عباسی اور انگے ساتھیوں نے قریہ قریہ گھوم کر اپنے لوگوں کو جنگ آزادی میں شرکت کی ترغیب دی۔
تھوڑے عرصے میں حریت پسند افراد کا ایک مضبوط گروہ سردار باز خان عباسی کی قیادت میں انگریز سے لڑنے کے لئیے تیار ہوگیا۔ہتھیاروں اور رسد میں کمی کی وجہ سے گوریلا جنگ لڑنے پر مشاورت ہوئی۔

باہمی اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ 2 ستمبر 1857 کی شب مری میں انگریز کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا جائے۔

بدقسمتی سے اس حملے کی مخبری قبل از وقت انگریز تک پہنچا دی گئی۔ ایک خاتون سنو جان جن کے شوہر انگریزوں کے پاس کام کرتے تھے نے یہ خبر انگریز اسسٹنٹ کمشنر بٹئ تک پہنچا دی۔اسسٹنٹ کمشنر نے اسی وقت مری میں مقیم انگریزی فوج کے کمانڈر کیپٹن بیری اور لیفٹیننٹ بریکر سے ایک خفیہ اجلاس میں مشاورت کی اور اس حملے کو روکنے کی حکمت عملی طے کرلی۔راولپنڈی سے خاموشی سے مذید فوجی دستے منگوا لئے گئے جنہں حملے کے ممکنہ راستوں پر مشین گنوں سے مسلح کرکے تعینات کردیا گیا۔

باز خان عباسی اور انکے ساتھیوں کو قطعا علم نہ تھا کہ انکے حملے کی اطلاع انگریزوں تک پہنچ چکی ہے۔۔

حسب پروگرام 2 ستمبر کی شام سینکڑوں جانباز لاٹھیوں پرچھیوں بلموں اور ٹوپی دار بندقوں سے مسلح ہوکر جنگل میں ایک جگہ جمع ہوئے اور رات ہونے کا انتظار کرنے لگے۔

رات بھیگتی جارہی تھی۔ادھی رات کے قریب 300 افراد کے ہر اول دستے نے پیش قدمی شروع کی جن کی قیادت باز خان کے قریبی ساتھی رسمت خان عرف رستم خان کے پاس تھی۔رستم خان عباسی کا تعلق ضلع باغ کشمیر سے تھا۔وہ شروع سے ہی باز خان عباسی کے قریبی ساتھی تھے۔

6f39d7b9 9ce1 4801 9f01 9ec49bc0a99b jpg
ہر اول دستے نے سب سے پہلے کمشنر راولپنڈی کی کوٹھی پر حملہ کیا اور اسے جلا کر خاک کردیا۔یہاں کسی قسم کی مزاحمت اور حفاظتی بندوبست نہ دیکھ کر حریت پسندوں کو شک گزرا کہ معاملہ کچھ گڑبڑ ہے۔اصل میں انگریزوں نے جنگی حکمت عملی کے تحت کوٹھی پہلے ہی خالی کردی تھی۔

حریت پسندوں کا دوسرا دستہ سردار خان کی قیادت جب موجودہ لاک وڈ ہوٹل کے ویران مقام پر پہنچا تو وہاں گھات لگا کر بیٹھے کیپٹن رابنسن کی کمان میں موجود دستے نے اس پر ہیوی مشین گن کا فائر کھول دیا۔یہ دستہ اس وقت کے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس تھا۔خونریز جھڑپ میں مجاہدین کی بڑی تعداد شہید ہوگئی۔بہت سے گورے اور گورکھے بھی مارے گئے۔تیس سے زاید حریت پسندوں کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا جنہیں بعد میں سخت سزائیں دی گئیں۔

باز خان عباسی کی قیادت مںں حملہ کرنے والے دستے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔مشین گن اور توپ سے فائرنگ کی وجہ سے اس دستے میں شامل زیادہ تر لوگ پہلے ہی ہلے میں شہید ہوگئے۔باز خان بھی زخمی ہوئے۔برستی گولیوں میں ان چند جانباز ساتھیوں نے انہیں وہاں سے زخمی حالت میں نکالا۔
مختلف جگہوں پر اس شب سینکڑوں حریت پسند شہید ہوئے۔
انگریز نے مخبری کی وجہ سے پوری تیاری کر رکھی تھی جس کی وجہ سے یہ حملہ ناکام ہوا۔اگلے دن 3 ستمبر کو انگریز نے خوف کی وجہ سے مزید کورکھے منگوائے اور انہیں مری شہر کے کونے کونے میں تعینات کردیا۔

سنو جان کی مخبری اور اپنوں کی غداری کے باعث جنگ آزادی کا پہلا حملہ ناکام ہوگیا۔جس میں سینکڑوں لوگ شہید ہوئے مگر جنگ ابھی باقی تھی۔باز خان ابھی زندہ تھا۔دوسری طرف انگریزوں نے مری کے حفاظتی انتظامات بہتر کرنے شروع کردئیے۔جگہ جگہ چوکیاں بنائیں گئیں۔گاؤں دیہات میں چھاپے مار کر حریت پسندوں کو تلاش کیا جانے لگا۔دیہاتوں میں پٹواری اور نمبرداری سسٹم بنا گیا۔انعام خوار مقرر کئیے گئے تاکہ ہر خبر کی اطلاع مل سکے۔

a0fb55e9 68ae 47e8 8cc1 0f44215629c7 jpg

 

مری میں امی چند نامی نیا ہندو تحصیلدار راولپنڈی سے تبدیل ہوکر آیا اور اس نے اپنے آقاوں کی خوشنودی کے لئیے مقامی لوگوں کو شدید تنگ کرنا شروع کردیا۔موضع جاوا پر حریت پسندوں کی مدد کا الزام لگا کر بدترین حملہ کیا گیا۔کھڑی فصلوں اور مکانوں کو آگ لگادی گئی۔امی چند اس معاملے میں سب سے آگے تھا۔
اس موضع کے ایک نوجوان مراد خان پر ان واقعات کا بہت اثر ہوا۔مراد خان پہلے سے باز خان کا ساتھی تھا۔اس نے امی چند سے انتقام کی ٹھان لی۔۔۔

(خطہ کوہسار مری کی داستان حریت کا یہ پہلا حصہ ہے۔جسے مخلتف کتابوں اور سینہ بہ سینہ روایات سے اخذ کیا گیا ہے۔تاریخی طور تمام حوالوں کی درستکی کا دعوی ممکن تو نہیں لیکن مجموعی طور پر ڈیرھ صدی پہلے لڑی جانے والی اس جنگ کے موضوع پر یہی مواد ملتا ہے۔آپ سب دوستوں سے گزارش ہے تاریخی طور پر کسی واقعے کی تصیح کرنا چاہیں تو ضرور کمنٹ کریں۔اگلا حصہ انشاءاللہ جلد اسی میڈیم کی زینت بنے گا)

اسلام آباد پاکستان
مورخہ 26 ستمبر 2023


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481