اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کوہالہ یا باب کشمیر تحریر: عبید اللہ علوی

6e76466a a192 4775 af04 e0fcaacd83f3

2488e69a 8997 4c02 ad01 74c2d01d58fa 1 jpg

نامور صحافی عبایداللہ علوی مرحوم۔۔ صاحب تحریرو تحقیق
دریائوں کے کنارے دنیا  کےتقریبا” ہر ملک میں شہر آباد ہیں، اسی طرح قدیم وتستا، کشن گنگا اور آج کے دریائے جہلم کے شرقی اور غربی کنارے کے مری سے بارہ کلو میٹر شمال اور آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کے جنوب میں بیس کلو میٹر کی مسافت پر کوہالہ کا دوسو سالہ قدیم ایک ٹائون آباد ہے ۔آج ہم اس کی تاریخ بیان کریں گے۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ نے تخت لاہور پر سترہ سو نناوے میں قبضہ کرنے کے بعد جب سرکل بکوٹ سمیت مری اور ہزارہ کو بھی اپنی سلطنت میں شامل کیا تو مقامی قبائل میں شدید بے چینی پیدا ہوئی کیونکہ اس خالصہ راج نے اس علاقے میں آٹھ صدیوں سے قائم گکھڑ حکومت کا نہ صرف خاتمہ کردیا تھا بلکہ پر سکون اور ترقی یافتہ کوہسار کے زرعی تمدن کو بھی زوال آمادہ کیا، اٹھارہ سو اکتیس کے سانحہ بالا کوٹ کے بعد تو یہ صورت حال ہو گئی تھی کہ دریائے کنہار، دریائے جہلم کے کناروں پر مجاہدین نے جام شہادت نوش کر کے کوہسار کی ایک نئی تاریخ مرتب کر ڈالی جو اہلیان کوہسار کی جرات، شجاعت اور بے لوث جہاد کی ایک سنہری داستان کی حیثیت رکھتی ہے۔

کوہالہ کے نام کی اصلیت

تاریخ و تمدن ہند میں کوہالہ ایک قد یم موسیقار، دیوی، مشروب اور مقامات کا بھی قدیم نام ہے، یہ سنسکرت کے دو الفاظ "کو” اور "ہالہ” کے مجموعہ ہے جس کا مطلب ناقابل فہم زبان ہے،دوسرا معنی ایک روحانی مشروب کا ہے، تیسرا ترجمہ موسیقی کا آلہ بھی ہے، انڈولوجی کے ایک سکالر پنڈورانگ وامان کین اپنی کتاب "ہسٹری آف سنسکرت پوئیٹک” میں کوہالہ کا ویدک مفہوم خوشبو قرار دیتے ہیں، کوہالہ ہندو بچوں کے نام بھی ہوتے ہیں، کوہالہ بوہی ایک طبی پودے کا نام بھی ہے، جبکہ برصغیر پاک و ہند کے علاوہ دنیا میں مختلف مقامات کا نام بھی کوہالہ ہے، زیر بحث کوہالہ "باب کشمیر” ہے جہاں سے اہل ہند صدیوں سے کشمیر کے راستے ہزارہ اور پنجاب آتے رہے ہیں،

"ڈھونڈی” زبان کیسے وجود میں آئی؟

اس روٹ پر قرنوں کے سفر اور اختلاط سے ایک نئی زبان "ڈھونڈی” وجود میں آئی جس کا ستر فیصد اثاثہ یہاں کے قدیم کیٹھوال قبیلہ سے منسوب کیٹھوالی زبان کا ہے، اگر دیکھا جائے تو لفظ کوہالہ ڈھونڈی زبان کے لفظ "کوہال” کی جدید شکل ہے جس کے معنے موجودہ دور میں اسی زبان کے متبادل لفظ میں "سرنی” یا گئو خانہ کے ہیں جہاں مویشی باندھے جاتے ہیں لیکن چونکہ اس کوہالہ سے نشیب میں کنیر پل کے پار گوجر کوہالہ بھی موجود ہے، گوجر برادری برصغیر کی قدیم آریائی قبیلہ کی ایک شاخ ہے اس لئے لفظ کوہالہ کا وہی معانی اور مفہوم قابل قبول ہو گا جو گوجری میں ہو گا،hunzabridage jpg

انڈولوجی کے ایک اور سکالر رالف ایل ٹرنر اپنی مرتب کردہ لغت "اے کمپیریٹو ڈکشنری آف انڈ و آرین لینگویجز”، جلد سوئم کے صفحہ ایک سو تریاسی میں لفظ کومال کی ذیل میں کوھالہ کے معنی نرم، نوجوان اور پیارا کے بتاتے ہیں، لہذا گوجری کے اس مفہوم سے ایک ہی بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ نیو کوہالہ پل کے مشرق میں بشیر خان کے ہوٹل اور پٹرول پمپ والی جگہ قدیم دور میں "فردوس بر روئے زمیں ” ہوئی ہو گی، اس کی ایک شہادت دریا کی اس گزرگاہ سے بھی ملتی ہے جو گوجر کوہالہ، کنیر پل سے پانچ سو فٹ اوپر دومیل باسیاں اور سامنے متروک اور ویران ریسٹ ہائوس کے پاس ملتی ہے، اگر دریا کا یہ دہانہ اتنا زیادہ وسیع ہوا ہو گا تو یقینا” یہ عہد قدیم کا بہت ہی خوبصورت مقام رہا ہو گا۔

کوہالہ کی تاریخی حیثیت

کوہالہ کے معانی، ماخذ اور اس کی اصلیت پر کوئی متفق ہو یا نہ ہو مگر اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ گندھارا تہذیب کامرکز سلطنت ٹیکسلا اپنے عہد کی وہ سپر پاور تھی جو وسطی ایشیا سے جزائر غرب الہند تک پھیلی ہوئی تھی، یہاں پرہی اڑھائی ہزار سال قبل ادھا یونیورسٹی بھی موجود تھی جو شمالی ہند میں علم و فضل کا سب سے بڑا مرکز تھی اور یہاں پر ہند کا قدیم آئین ساز چانکیہ کوٹلیہ، ماہر لسانیات پانینی جیسے استاد علم کی شمع روشن کئے ہوئے تھے اور ہندوستان بھر سے طلبا اپنی پیاس بجھانے یہاں آتے تھے،

بدھا یونیورسٹی کا ایک کیمپس شاردہ آزاد کشمیر میں بھی تھا ، ان دونوں کیمپس کو نیو کوہالہ پل کا راستہ آپس میں ملاتا تھا، طلبا اگر ٹیکسلا سے چلتے تو راستہ سری نگر کوہالہ روڈ والا ہی ہوتا تھا جبکہ گوجر کوہالہ اس وقت ایک نیلم پوائنٹ تھا جہاں قیام و طعام کی بہترین سہولیات دستیاب تھیں، طلبا یہاں پر تھکاوٹ اتارنے کے بعد چلتے اور ان کی اگلی منزل کوہ موشپوری کی چوٹی پر موجود ہنو مان جی کا مندر ہاوا کرتاتھا ،جہاں وہ چند روز ماتھا ٹیکتے اور پھر نتھیا گلی اور کوہالہ بالا کے راستے ٹیکسلا پہنچتے، ٹیکسلا سے آنے والوں کا روٹ بھی یہی ہوتا تھا، بدھا یونیورسٹی کی ایک روایت یہ بھی تھی کہ جو طالب علم فارغ التحصیل ہو جاتا وہ استاد کے پائوں دودھ سے دھو کر وہ دودھ پی لیتا جس کا مطلب یہ ہوتا کہ اس نے علم کا جام اپنے اندر انڈیل لیا ہے، اڑھائی ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی کوہسار میں ایک محاورہ مقامی زبان میں بولا جاتا ہے کہ "پیر تہوئی تہوئی پینا”۔۔۔۔۔۔۔، در اصل یہ اسی روایت کی ایک نشانی ہے جو کیٹھوالی زبان سے موجودہ ڈھونڈی زبان میں منتقل ہوئی ہے۔

دریائے جہلم کیسے وجود میں آیا۔۔۔۔۔۔؟

نیلم پوائنٹ پر سیاحوں کا سیلاب مگر انتظامیہ ندادر

نیلم پوائنٹ پر سیاحوں کا سیلاب مگر انتظامیہ ندادر

دریائے جہلم کیسے وجود میں آیا۔۔۔۔۔۔؟ اس علمی سوال کا جواب دوہزار پانچ میں اکسفورڈ پریس کے زیر اہتمام کمبرلی ہوسٹن کی کتاب دی ایشئین سائوتھ ایسین ورلڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ سٹوڈنٹس سٹڈی گائیڈ کے باب دوئم کے صفحہ چودہ پر ٹائم لائن کے عنوان سے دیکھی جا سکتی ہے، فاضل مصنف لکھتے ہیں کہ چار لاکھ سال پہلے کشمیر کا یہ علاقہ ایک ارضی واقعہ کے نتیجہ میں ظہور میں آیا جہاں ایک بہت بڑی جھیل بن گئی، دولاکھ سال پہلے یہاں ایک بہت بڑا زلزلہ آیا۔

اس کے نتیجے میں موجودہ دریائے جہلم کی گزرگاہ پر ایک دراڑ بن گئی اور پانی نے پنجاب کی طرف بہنے کیلئے چلنا شروع کر دیا، دس ہزار سال پہلے پھر ایک زلزلہ آیا اور دریائے جہلم کے ارد گرد بڑے بڑے پہاڑ نمودار ہو گئے، اسی تھیوری پر قیاس کرتے ہوئے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کسی زمانے میں خوفناک زلزلہ آنے سے گوجر کوہالہ کا وجود مٹنے، اڑھائی ہزار سال قبل ہنوں کے ہاتھوں ٹیکسلا کی تباہی کے بعد کوہالہ کا یہ روٹ بھی متروک ہو گیا ہو گا یا اس کی جگہ موجودہ کوہالہ آباد کیا گیا ہو گا، زلزلے آج بھی آتے ہیں اور دوہزار پانچ کے بڑے اور آخری زلزلہ نے تو کوہسار کا رنگ ہی بدل دیا۔

کوہالہ کی تجارتی حیثیت

کوہالہ یوں تو صدیوں سے ایک گزرگاہ کے طور پر جانا جاتا ہے، دیکھا جائے تو کشمیر کی پنجاب سے تجارت کوہالہ کی ہی مرہون منت رہی ہے، اسے حقیقی تجارتی حیثیت اٹھارہویں صدی کے وسط میں اس وقت ملی جب بنجاب سے گکھڑ اقتدار ختم ہوا اور مری اور سرکل بکوٹ سمیت تمام کوہسار دربار لاہور کی جھولی میں آ گرا، 1767 میں راولپنڈی جو محض گجنی پورا کے نام سے ایک قصبہ کے طور پر جانا جاتا تھا یا سید پور اور جھنڈا چیچی میں گکھڑ حکمرانوں کے چند محلات تھے یہاں پر سکھ حکمران ملکا سنگھ نے قبضہ کے بعد موجودہ شیخ رشید کی لال حویلی کے مقام پر ایک قلعہ بنایا، نرنکاری بازار میں چند دکانیں بنیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے راجہ بازار کی شکل اختیار کر لی۔

شمال میں پتن کے مقام پر کچھ دکانیں تو تھیں مگر ملکا سنگھ نے راجہ بازار کی تجارت کو کشمیر تک وسعت دینے کیلئے دیول اور موجودہ اہلڈ کوہالہ بازار کو ایک تجارتی منڈی میں تبدیل کرنے کی بنیاد ڈالی، پنجاب سے ہندو ساہو کاروں کو وہاں لا بسایا، مقامی لوگوں کو بیدخل کر کے ان کی اراضی ان کے نام کی گئی اور پھر مقامی لوگوں کو زراعت، تجارت وغیرہ سے بھی فارغ کر دیا گیا اور ان سے بیگار لی جانے لگی،

سود سمیت قض نہ لوٹانے پر خوفناک سزا رائج تھی

راولپنڈی سے سامان تجارت پہلے دیول آتا تھا، یہاں سے ڈیمانڈ کے مطابق کھودر کے راستے ضلع باغ اور کوہالہ بھیجا جاتا تھا، اسی عہد میں کوہالہ میں تہہ در تہہ دکانیں اور کوٹھیاں بھی بنیں، یہ ہندو ساہو کار مقامی لوگوں سے اون پون غلہ خریدتے اور پھر انہیں ہی تین گنا قیمت پر واپس بیچتے، ان مجبور لوگوں کو پھر سود پر ان کی غمی خوشی پر قرضے دئے جاتے اور پھر انہیں گہنوں اور جائیداد سے محروم کر دیا جاتا، جس کے پاس لوٹانے کیلئے کچھ نہ ہوتا اس کا سر منڈوا کر سر پر اخروٹ رکھ کر اوپر مٹی سے بھری پرات گھمائی جاتی جس کی وجہ سے اس کے سر کی ہڈی ٹوٹ جاتی اور قرخ دار مر بھی جاتا، یہ خوفناک اور دردناک سلسلہ 1768میں کوہالہ بازار کے قیام سے 1848میں انگریزوں کی آمد تک جاری رہا۔

انگریزوں نے کشمیر کی تجارت میں تیزی لانے کیلئے کوہالہ میں 1871 کو معلق پل بنایا جو 1893 میں ایک سیلاب کے نتیجے مں بہہ گیا، دوسرا آہنی پل 1899میں تعمیر ہوا ۔ باسیاں کے شاہنواز خان کو ان دونوں پلوں کا ٹھیکہ ایوارڈ ہوا جبکہ بیروٹ کے پہلے انجینیئر مستری نور الٰہی نے ان دونوں پلوں کو نہ صرف ڈیزائن کیا بلکہ اس کی نگرانی میں انکی تعمیر مکمل ہوئی، پلوں کی وجہ سے سری نگر کا برا ہ راست تجارتی رابطہ راولپنڈی سے ہو گیا اور کشمیری اجناس پنجاب پہنچنے لگیں، اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ کی داغ بیل بھی ڈالی گئی،

دیوان سنگھ کا بھتیجا کاکا سنگھ سرکل بکوٹ کا پہلا ڈرائیور تھا

1910 میں ترمٹھیاں کے دیوان سنگھ کی چار بسیں راولپنڈی سرینگر روٹ پر دوڑنے لگیں، دیوان سنگھ کا بھتیجا کاکا سنگھ سرکل بکوٹ کا پہلا ڈرائیور تھا۔اس روٹ پر اسی بس کا 1920میں پہلا حادثہ برسالہ کہ مقام پر ہوا جس میں بیروٹ کے میاں میر جی شاہ سمیت 20افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔انگریزوں نے کوہالہ کو تجارتی مرکز کی حیثیت کے ساتھ ساتھ ایک سیاحتی مرکز بھی بنایا، یہاں پر ایک ریسٹ ہائوس، تار گھر، پوسٹ آفس، ایک شراب خانہ اور بعد میں منشیات ڈپو بھی بنایا، یہ بازار ایک میل لمبا تھا اور اس کی حیثیت باب کشمیر کی تھی، اس سے قبل 1855 کے لگ بھگ کوہالہ کو ہزارہ کی کمشنری سے جھری کس کی اراضی کے تبادلے میں مری کا حصہ بنایا گیا اور اس کی لیز ایک سو سال کیلئے پنجاب حکومت نے حاصل کر لی۔ 1947 تک کوہالہ کی 85 فیصد تجارت ہندو ساہوکاروں کے ہاتھ میں تھی اور مقامی مسلمان محض خریدار تھے۔

اولڈ کوہالہ اب محض ماضی کا ایک قصہ ہے
عہد حاضر میں اگرچہ کوہالہ اپنی مرکزی حیثیت کھو چکا ہے، سردار مہتاب کے عہد میں سڑکوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے کوہالہ پر اہلیان سرکل بکوٹ کا انحصار نہ ہونے کے برابر ہے، آزاد کشمیر میں بھی منڈیاں قائم ہونے کے بعد یہاں سے اب کچھ بھی برآمد نہیں ہو رہا، اب تو نیو کوہالہ برج کی تعمیر کے بعد گوجر کوہالہ کی تجارتی حیثیت دوبارہ بحال ہوئی ہے، یہ اولڈ کوہالہ اب محض ماضی کا ایک قصہ ہے جو تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو چکا ہے۔

کوہالہ کی دفاعی حیثیت،بھارتی فضائیہ نے کئی بار نشانہ بنایا

پاکستان بننے کے بعد کوہالہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے بھی اہمیت اختیار کر گیا، اگست 1947 میں کوہالہ پل بند کر دیا گیا تھا جو دسمبر میں دوبارہ کھولا گیا اور یہاں سے پنڈی مری اور مری ہلز ٹرانسپورٹ کے نئے روٹ کا اجرا ہوا۔ کشمیر میں جوں جوں حالات خراب ہوتے گئے توں توں کوہالہ پل اور بازار پر بھارتی حملوں میں بھی شدت آتی گئی، 2نومبر 1947 کو بھارتی بزدل فضائیہ نے کوہالہ پر پہلا حملہ کیا تاہم اس سے صرف ایک دکان کو نقصان پہنچا، اسی ماہ میں بیس روز بعد بھارت نے کوہالہ پر دوسرا حملہ کیا، 21اگست 1949کو تیسرے بھارتی حملے میں متعدد افراد زخمی جبکہ ایک مقامی شخص سجاد جاں بحق ہو گیا، 1985 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں کے دوران بھی اس پل پر کئی ایک حملے کئے گئے مگر پاکستانی شاہینوں نے بھارتی بزدلوں کے کوہالہ کو تباہ کرنے کے خوابوں کو منتشر کر دیا۔

کوہالہ کی سیاسی حیثیت

روایت ہے کہ چمیاٹی کے عبدالرزاق عباسی نے کوہالہ پل پر پنڈت لال نہرو کو تھپڑ رسید کیا تھا، انیس سو پینتیس کے قانون ہند کی منظوری کے بعد 1936میں برصغیر کے پہلے انتخابات ہوئے، ان انتخابات کی سیاسی اہمیت کے پیش نظر کوہالہ سرکل بکوٹ کا مرکز بن گیا، یہاں پر پنجاب اور ہزارہ کی سیاسی تاریخ کے پہلے عوامی جلسے مسلم لیگ، کانگریس، ہندو سکھ نیشنلسٹ پارٹی، ڈیمو کریٹک پارٹی اور احراروں کے جلسوں سے صاحبزادہ عبدالقیوم (بعد میں وزیر اعلیٰ سرحد بنے)، صاحبزادہ پیر حقیق اللہ بکوٹی، سردار حسن علی خان، عبدالرحمٰن خان (لورہ)، سرادر کالا خان، سردار نور خان، سردار عبدالرب نشتر اور دیگر نے خطاب کیا،

قائد اعظم کی کوہالہ آمد،جب پنڈت نہرو کو زناٹے دار تھپڑ پڑا

download 1 2

26جولائی1945 کو قائد اعظم کشمیر سے کوہالہ پل عبور کر کے جب غربی کوہالہ میں داخل ہو ئے تو فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اتھی، آپ کو اہلیان کوہسار نے اپنے کندھوں پر اٹھا لیا، اور ان کی کار کے پیچھے احترام میں دیول تک گئے اور صلیال (داخلیات بیروٹ) سے انہیں رخصت کیا، 1946 میں پنڈت نہرو شیخ عبداللہ اور سرحد کے آخری کانگریسی وزیر اعلی ڈاکٹر خٓان کے ہمراہ کشمیر سے واپسی پر کوہالہ پل عبور کرنے لگا، یو سی بکوٹ اے ایک بہادر شخص حلوائی ہوٹل والے نے ملنے کے بہانے کوہالہ پل کے درمیاں پنڈت نہرو کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ دے مارا،

ایک روایت یہ بھی ہے کہ طمانچہ رسید کرنے والا چمیاٹی کا عبدالرزاق عباسی تھا تاہم یہ طمانچہ بعد میں کشمیر کی قسمت میں آج تک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ کوہالہ پل آزادی کے دوران کشمیریوں کیلئے ایک زندگی اور موت کا سوال بن گیا اور باسیاں کے مرد مجاہد سردار یعقوب خان نے اس کا محافظ بن کر کشمیریوں کے لئے زندگی کی علامت اور ان لے دلوں میں امر ہو گیا، 1952 میں جب سرکل بکوٹ میں پاکستانی تاریخ کے پہلے الیکشن ہوئے تو سرکل بکوٹ میں ماضی کے کانگریس نواز امیدوار سردار حسن علی خان کیخلاف اسی کوہالہ میں عوام نے اپنی نفرت کا اظہار کیا اور اس کے مقابلہ میں حضرت پیر حقیق اللہ بکوٹی کو کامیاب کرایا،

یہی وہ کوہالہ پل ہے جہاں صدر ایوب خان، وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو، صدر ضیاء الحق، وزیراعظم نواز شریف اور دیگر سیاسی زعما نے خطاب کیا، یہاں پر 1977 میں پی این اے کی بھٹو مخالف تحریک کے دوران سابق ایئر مارشل اصغر خان نے بھٹو کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ میں بھٹو کو کوہالہ پل پر  لٹکائوں گا، یہ جملہ امر ہو گیا اور ان الفاظ کی عملی تعبیر کسی اور شکل میں سامنے آئی ،تاہم ملک کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔۔

آزاد کشمیر یونیورسٹی مظفر آباد کے سابق پروفیسر صابر آفاقی کہتے ہیں کہ علامہ اقبال نے اپنے سفر کشمیر کے دوران کوہالہ پل سے گزرتے ہوئے اپنی بانگ درا کی پہلی نظم ہمالہ کا آغاز کیا تھا جو سری نگر پہنچ کر مکمل کی تھی۔ یہ پہلے اشعار اس طرح ہیں۔
اے ہمالہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے فصیل کشور ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں

Iqbal jpg
کاش……… آج کا کوہالہ بھی مقامی لوگوں کے دلوں میں بھی اسی طرح زندہ ہوتا مگر عہد غلامی کی اس علامت کو مٹنا ہی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ سو وہ مٹ گئی، اب نیا سویرا ہے اور نئی نسل اپنی منزل آسمانوں میں ڈھونڈ رہی ہے کوہالہ کی پستیوں میں نہیں۔

جب قائد اعظم نے تاریخی کوہالہ پل عبور کیا؟

download 2 2

1920۔۔کوہالہ پل کی ایک نایاب تصویر

یوں تو کوہسار پر گکھڑوں کے یکطرفہ اقتدار کے خلاف معرکہ آرائی اور رنجیت سنگھ کے دربار لاہور اور پھر جموں کے تہزیب و تمدن کے دشمن گلاب سنگھ کی بدکردار اور لٹیری حکومت کے خاتمہ کے بعد ہند بھر کے مسلمانوں کی طرح اہلیان کوہسار کے ہاتھ کچھ بھی تو نہ آ سکا، پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے نتیجے میں برطانوی استعمار نے جب برصغیر سے اپنا بوریا بستر لپیٹنا شروع کیا تو سوال پیدا ہوا کہ انگریزوں کے اس خلا کو کون پر کرےگا، یہاں تو ایک ہزار سال تک مسلمانوں نے حکومت کی تھی، جس کی وجہ سے تمدن خور ہندوستانی تہذیب کو نئی اقدار حکومت و سماج سے آشنا ہوئی اور اس بتکدے میں ہکتا و تنہا رب الارباب کی صدائیں بلند ہوئیں……….یہی وہ دوقومی نظریہ کی اساس تھی جس نے ہندو، ہندی اور ہندوستان کا نعرہ مسترد کرتے ہوئے مسلم، اردو اور پاکستان کا فلک شگاف نعرہ لگا دیا اور قائد اعظم کی سرفروشانہ قیادت میں جنوب مشرقی ایشیا میں اسلام کا قلعہ یعنی پاکستان قائم کر دیا، جہاں آج ہم آزادی کے سانس لے رہے ہیں۔
برصغیر کے پہلے انتخابات میں مسلم لیگ کی کامیابی اور کوہسار میں ہندونواز کانگریس سمیت دیگر جماعتوں کے عوامی استرداد کے بعد یہ بات الم نشرخ ہو چکی تھی کہ ہادی دوعالم ﷺ کے پروانے مسلم لیگ، قائد اعظم اور پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے آپشن کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں اور گکھڑوں کے آٹھ سو سالہ اقتدار کے خاتمہ، رنجیت سنگھی اور گلاب سنگھی راجواڑوں نے اہلیان کوہسار کی تہذیب و ثقافت کو لوٹنے کیلئے کھتریوں کی ایک بڑی تعداد کو یہاں لا بسایا تھا انہیں بھی معلوم ہو گیا تھا کہ اب یہاں ان کی کو ئی گنجائش نہیں رہی اور اب انہیں اس پاک سرزمین سے انخلا کرنا ہی پڑے گا۔

59856eb7748ea jpg

چنانچہ ایبٹ آباد شہر سے باہر کانگریس اور سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان سمیت دیگر مسلم لیگ مخالف جماعتوں کا کوئی اثرو رسوخ نہ ہونے کے برابر تھا، 23 مارچ 1940ء کی قرارداد لاہور جو بعد میں قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی کی منظوری کے بعد سرکل بکوٹ کی سیاست میں تبدیلی رونما ہوئی اور سرکل بکوٹ کے کانگریس نواز جاگیردار سردار حسن خان لے بھی چولا بدلا اور مسلم لیگ جوائن کر لی اور اہلیان کوہسار نے انگریزی اقتدار کے آخری 1945ء کے الیکشن میں سرداری کی پگ اسی کے نام کر دی۔۔۔۔۔

مگر۔۔۔۔۔ آزادی کے بعد 1952ء کے پہلے الیکشن میں اسے ہمیشہ کیلئے مسترد کر دیا۔ سردار حسن علی خان کی اسی یونین کونسل بوئی کے رہائشی کشمیری نژاد سید غلام حسین کاظمی نے بر صغیر کی تاریخ صحافت میں پہلی بار1936 میں ایبٹ آباد سے ہفت روزہ پاکستان کے نام سے اخبار نکال کر پاکستان کا پیغام عام مسلمانوں تک پہنچانے کی کوشش کی، چوہدری رحمت علی تو اس وقت تھرڈ ائر کے سٹوڈنٹ تھے۔ ان کا یہ دعویٰ بلکل درست نہیں کہ وہ لفظ پاکستان کے خالق ہیں بلکہ پاکستان کا نام تو سرکل بکوٹ کے ایک پسماندہ دیہاتی علاقے بوئی کے سید غلام حسین کاظمی کے ذہن کی اختراع ہے، جدید علمی تحقیقات نے بھی اس کی تصدیق کر دی ہے۔(تفصیلات کیلئے دیکھئے Pakistan Chronicle از عقیل عباس جعفری بحوالہ روزنامہ جنگ راولپنڈی، 16اگست2012ء

قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد قیام پاکستان کی منزل جنوب مشرقی ایشیا کے مسلمانوں کو چند قدم کے فاصلے پر نظر آنے لگی لیکن ابھی حصول منزل کیلئے کافی جد و جہد کی ضرورت تھی، سحر پیدا کرنے کیلئے ابھی ہزاروں ستاروں اور سیاروں کی قربانی پیش کی جانی تھی۔
شمالی پنجاب میں مسلم لیگ کی مقبولیت اور کانگریس و حکمران یونینسٹ پارٹی کے زوال کے آثار نمایاں تر ہوتے جا رہے تھے، جوہر لال نہرو اس صورتحال سے پریشان تھے۔ اس سلسلے میں وہ کشمیر کے راستے کوہسار آنے کیلئے کوہالہ پل پر پہنچے ، مگر کوہسار کے مسلمانوں نے محارہ کے طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر تھپڑ رسید کر کے نہرو کو غربی کوہالہ میں قدم بھی رکھنے نہیں رکھنے دیا اور اسے وہاں سے ہی واپس دہلی جانا پڑا، یہ تھپڑ بھی قیام پاکستان کی نا گزییریت کی ایک اینٹ تھی، قائد اعظم محمد علی جناح نے اس خطہ کے لوگوں اور اپنے جانثاروں سے براہ راست رابطے کیلئے یہاں آنے کا پروگرام بنایا، آپ جولائی 1944ء میں کشمیر کے راستے کوہالہ کے قریب برسالہ کے مقام پر پہمچے، قائد کی جھلک دیکھنے کیلئے غربی کشمیر، سرکل بکوٹ اور مری کے کوہساروں کے چپہ چپہ سے لوگوں کا سمندر امڈ آیا تھا، قائد اعظم کی کار کو کوہسار کے پھولوں سے لاد دیا گیا تھا، قائد نے یہاں چائے نوش جاں کی اور پھر آدھے گھنٹے بعد کوہالہ پل پر پہمچے تو اہلیان کہسار ان کے ہاتھ چومنے کیلئے آگے بڑھنے لگے، کوہالہ کا یہ تاریخی پل پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجھنے لگا، آپ نے ہاتھ ہلا ہلاکر پاکستان کے متوالوں کے سچے اور سُچے جذبات کو سراہا، جب قئد اعظم نے کوہالہ پل عبور کیا تو ان کے عقیدت مند انہیں کوہالہ ریسٹ ہائوس لے آئے اس ریسٹ ہاؤس کے ایڈمنسٹریٹر حاجی عبدالکریم خان آف باسیاں نے ان کا استقبال کیا اور انہیں بھولوں کا گلدستہ بھی پیش کیا

حاجی عبدالکریم خان کون تھے؟

حاجی عبدالکریم خان
قیام پاکستان سے پہلے کے اصل مسلم لیگی اور تحریک آزادی پاکستان کے مقامی ہیرو حاجی عبدالکریم خان کا تعلق سہریاں باسیاں سے تھا، سابق جج اور کچہری راولپنڈی کے سینئر وکیل شعیب عباسی اور کچہری ایبٹ آباد کے وکیل سجاد عباسی ان کے پوتے ہیں، انہوں نے 1950 میں حج کیا تھا، قیام پاکستان کے وقت کوہالہ ڈاک بنگلہ کا انتظام انہی کے پاس تھا، قائد اعظم کے دورہ مری کے دوران کوہالہ پل پر انہوں نے نہ صرف قائد اعظم کو گلدستہ پیش کیا بلکہ کوہالہ کے ڈاک بنگلہ میں ان کی میزبانی بھی کی،مولاچھ میں ستونوں والی موجودہ دکانیں 1947 میں ان کا ہوٹل تھا،

اسی ہوٹل میں اسی سال ایک شخص ریٹائرڈ حوالدار عبدالقیوم اپنی ڈانگری پہنے ہوئے آیا، اور ان سے ان کے ساتھ ہونے والی ڈوگروں کی زیادتی بارے مدد طلب کی، حاجی صاحب نے اس کی بات سن کر اسے ایک وفد کی صورت میں روات میں سردار نور خان اور سردار کالا خان سے ملنے کی تاریخ دی، مقررہ تاریخ پر قیوم خان سمیت یہ وفد سرداران روات سے ملا اور انہوں نے اس وفد کو مسلم لیگ (پاکستان بنانے والی) کے صوبائی صدر خان عبدالقیوم خان کو ریفر کیا، خان صاحب نے اس وفد کی از حد پذیرائی کی اور انہیں ایک درجن بندوقیں اور کارتوس ری فل کرنے کی مشین بھی دی، باسیاں سے حاجی عبدالکریم خان اور سردار یعقوب خان نے کوہسار کے پہلے شاعر مولانا یعقوب علوی بیروٹوی کے جہادی ترانوں کی گونج میں دیگر مجاہدین کے ہمراہ دریائے جہلم عبور کر کے پہلے ساہلیاں تھانے پر قبضہ کیا اور پیش قدمی کرتے ہوئے بارہ مولا تک پہنچ گئے۔۔۔۔۔۔ ان کے ہوٹل میں آنے والا جولی چیڑھ کا برٹش آرمی کا ریٹائرڈ حوالدار بعد میں مجاہد اول سردارعبدالقیوم خان کہلایا ۔۔۔۔۔۔ ان کی دعوت پر خان عبدالقیوم خان نے کوہالہ کا دورہ کیا اور پاکستان کے حق میں ریفرنڈم کی راہ ہموار کی۔۔۔۔۔۔۔ وہ بوئی کے کانگریسی رکن قانون ساز اسمبلی سرحد سردار حسن علی خان کے قریبی دوست بھی تھے مگر 1951 کے پاکستان کے پہلے الیکشن میں ڈنکے کی چوٹ پر سرکل بکوٹ کے پہلے MLA حضرت پیر حقیق اللہ بکوٹیؒ کا ساتھ دیا، ان کی وفات اسی ماہ مارچ 1961 میں ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آسمان تیری لحد پہ ۔۔ شبنم افشانی کرے سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
سرکل بکوٹ کے ہزاروں افراد کا قافلہ ان کے ساتھ دیول تک ساتھ آیا۔نور الٰہی عباسی اپنی کتاب تاریخ مری (نیا ایڈیشن) کے صفحہ نمبر 185پر لکھتے ہیں۔
اس موقع پر لوئر دیول کے بزرگ رہنما امیر احمد خان صفوں کو چیرتے ہوئے آگے نکل کر قائد اعظم کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، انہوں نے بصد خلوص احترام پھولوں کا گلدستہ پیش کرتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا کہ برگ سبز است، تحفہ درویش است، (ایک بزرگ کی طرف سے سبز پتوں کا تحفہ قبول کر لیجئے) یہ کہتے ہوئے بابا امیر خان کی نظریں بابائے قوم کے چہرے پر مرکوز ہو گئیں ۔۔۔۔۔ قائد اعظم نے بابا جی سے پوچھا۔
بابا جی بتائیں میں کون ہوں اور میرا مشن کیا ہے؟
جی آپ مسلمانوں کے عظیم رہنما اور قائد اعظم محمد علی جناح ہیں اور برصغیر کے مسلمانوں کے لئے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ بابا احمد خان نے بڑی متانت سے جواب دیا۔
قائد اعظم نے مری پہنچ کر جو تقریر کی وہ اگرچہ انگریزی زبان میں تھی اور اس کا مری کے ممتاز مسلم لیگی رہنما خواجہ محمود احمد منٹو ساتھ ساتھ اردو میں ترجمہ بھی کر رہے تھے (یہ تقریر پاکستان نیشنل آرکائیوز اسلام آبادکے ریکارڈ میں موجود نہیں) نور الہی عباسی ہی اس کے راوی ہیں، اپنی کتاب تاریخ مری میں لکھتے ہیں۔
۔۔۔۔ میں جانتا ہوں مری کا پتہ پتہ مسلم لیگی ہے جبکہ ہمیں ہندو کانگریس اور انگریز سامراج کا سامنا ہے،،چکی کے یہ دو پاٹ ہمیں پس دینے پر تلے ہوئے ہیں،آپ دونوں کے درمیان لوہے کے چنے بن جائیے تاکہ پس نہ جائیں۔ (، اس موقع پر راجہ کالا خان نے نہ صرف قائد اعظم کی میزبانی کی بلکہ انہیں قبائل کوہسار کی طرف سے مسلم لیگ کے فنڈ میں ایک لاکھ روپے کا چیک بھی پیش کیا )۔
قائد کا کوہسار سرکل بکوٹ اور مری کا یہ پہلا اور آخری دورہ تھا، آپ کے اس دورے کا اثر یہ ہوا کہ یہاں مقیم کانگریسیوں کے حوصلے پست ہو گئے، علاقے میں ایک نیاجوش و ولولہ دوڑ گیا اور واقعی کوہسار کا پتہ پتہ مسلم لیگی ہو گیا، اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ جنوب مشرقی ایشیا کے مسلمانوں کی عید آزادی کی صبح نمودار ہو گئی۔۔۔۔لیکن آج 70 سال بعد وہ خواب جسے اقبال اور قائد اعظم نے دیکھا تھا اس کی تعبیر معکوس نے قوم کو مایوسیوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔۔۔۔ کیا خلد بریں میں موجودہ پاکستانی حالات پر قائد اور اقبال کی روح تڑپتی نہ ہو گی؟

*****************************


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481