ایم سی ہائی سکول جھیکاگلی مری کے بچوں کے حق میں آواز اٹھانے والے نوجوانوں کے خلاف وکلاء کے ایک گروپ نے ایف آئی آر کٹوا دی۔
تفصیلات کے مطابق مری کے چند وکلاء کی جانب سے ہردلعزیز نوجوان سماجی کارکن اور مری ڈویلپمنٹ فورم کے رکن حمادسکندر عباسی، عام آدمی لیگ کے نقاش احمد عباسی ، محسن منشاء اور صلاح الدین کے خلاف مری تھانہ میں مقدمہ درج کرایا گیا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مذکورہ افراد نے گورنمنٹ ایم سی ہائی اسکول کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جھوٹا پراپیگنڈا کیا اور وکلا کے مقدس پیشے کو بدنام کیا۔
درخواست میں دعوٰی کیاگیاکہ ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ ایف آئی آر میں نامزد کئے گئے محسن منشا ایم سی ہائی اسکول جھیکا گلی مری کے استاد ہیں۔
مری کے سیاسی و سماجی حلقوں،اساتذہ اور طلبہ سمیت سول سوسائٹی کے افراد نے مخصوص ایجنڈے کے تحت درج کرائی گئی ایف آئی آر کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض وکلا کی جانب سے یہ اقدام شریف اور مہذب افراد کو ہراساں کرنے کے مترادف ہے جو معاشرے کے سدھار اور تعلیم کے تحفظ و فروغ کیلئے اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اپنے خلاف مقدمے پر حماد سکندر کا ردعمل
ہاں بھئی – ہم پر ایف آئی آر دے دو اور
ہماری آواز کو بند کر دو کیونکہ ہم تعلیم کی بات کرتے ہیں.
ہم نے تو صرف یہ کہا تھا کہ تعلیم کا راستہ پہلا راستہ ہے، یہ وہ راستہ ہے جو آپ کو قانون اور انصاف کی طرف بھی لے کر جاتا ہے اور سچ اور حقیقت سے بھی روشناس کرتا ہے، یہی عرض کی تھی کہ بس تعلیم کی طرف جانے والے اس رستے کی پگڈنڈیوں کو نہ اکھاڑو، اسے یوں ہی رہنے دو، روشنی کی شمع ماضی کی یادوں کے ساتھ جلنے دو ۔ایک دن روشنی پھیلے گی ۔۔۔۔
لیکن آپ ۔۔۔۔ لیکن آپ تعلیم کے حق میں لگائی گئی صدا کو اپنے خلاف "قتل کی دھمکی” سمجھے، ہم تعلیم کی جان بچانے والے، اس کے حق میں صدا لگانے والے، تعلیم کو پہلی ترجیح بتلانے والے ، آپ کو ہی دھمکی آمیز کیوں معلوم ہوئے؟ یہ سوچنے کا مقام ہے کہ آپ اور تعلیم آمنے سامنے ایک دوسرے کی ضد میں کھڑے ہیں اور تو اور آپ نے اس بزدلی میں ایک قابل استاد "پروفیسر محسن منشاء” کو بھی نہ چھوڑا جو ہر روز صبح اندھیرے میں پنڈی سی نکلتا ہے اور مری کے بچوں کو پڑھا کر شام کو پنڈی پہنچتا ہے اور وہ کس اعلیٰ پائے کا استاد ہے۔، یہ اہلیانِ علاقہ خوب جانتے ہیں.
ہماری آواز کو بند کر دو کیوں کہ ہماری آواز کا گلا گھونٹ کر آپ کو تسکین ملے گی، آپ کو کالے کوٹ اور قانون کی آڑ میں اپنی ناک اونچی کرنے میں مزہ آئے گا۔ لیکن بھولے بادشاہو کیوں جھوٹ کا سہارا لے کر ایک مقدس پیشے کو بدنام کر رہے ہو؟ جو پیشہ سائلوں کو انصاف کی فراہمی میں تعاون ومدد فراہم کرتا ہے، ان کے لئیے حقوق کی راہ ہموار کرتا ہے، جو مظلوموں کی آواز کا دعویدار بھی ہے اور رب تعالی کی طرف سے سعادت اور مقام بھی ہے.
کیوں آخر اس کالے کوٹ اور مقدس پیشے کے درپے ہو، کیوں خوف اور دبدبے کی علامت بننا چاہتے ہو؟ کیوں؟ اپنے علاوہ ان ہزاروں لاکھوں اپنے پیٹی بھائیوں کی ساکھ مجروح کر رہے ہو جو صبح سویرے گھر سے نکلتے ہیں تو نماز قرآن کی تلاوت کے بعد دیانتداری اور ایمانداری کا گھونٹ پی کر نکلتے ہیں.
ہم مٹ بھی گئے تو ان شاء اللہ تعلیم کی صدا تو لگتی رہے گی۔ مگر اے کاش تمھاری انا اتنی بڑی نہ ہوتی کہ آپ اور تعلیم ایک دوسرے کی ضِد میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہوتے.
کاش اے کاش ۔

آؤ دیکھو ہم صفِ تعلیم کے ہراول دستے میں کھڑے ہیں اور یہیں پر جان بھی دینی پڑی تو دے دیں گے. اگر یہ اتنا بڑا معاملہ تھا جس پر بات بھی نہیں کی جاسکتی تھی تو ٹھیک ہے اس بزدلانہ فعل کا ہم سامنا کریں گے. آپ قانون کے رکھوالے نہ کہلوائیں کیونکہ یہ تو عیاں ہو چکا کہ آپ قانون کے نام پر عام لوگوں کا استحصال کرنے والے لوگ ہیں۔
تعلیم سب سے پہلے – تعلیم سب کے لئیے
Case registered against those who raised voices in favor of MC School Murree, ایم سی سکول مری کے حق میں آواز اٹھانے والوں کیخلاف مقدمہ درج


