اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پاکستان میں 97 فیصد خواتین حجاب کرنا پسند کرتی ہیں، سمیحہ راحیل قاضی

پاکستان میں 97 فیصد خواتین حجاب کرنا پسند کرتی ہیں، سمیحہ راحیل قاضی

پاکستان میں 97 فیصد خواتین حجاب کرنا پسند کرتی ہیں، سمیحہ راحیل قاضی

۔یہ انتہائی خوش آئند رجحان ہے حجاب کا کلچر تیزی سے بڑھتا چلا جارہا ہے،حجاب ایک پورا کلچر اور نظام ہے

جماعت اسلامی ضلع شرقی حلقہ خواتین کے اجتماع سے خطاب سابق رکن قومی اسمبلی اور انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین کی صدر سمیحہ راحیل قاضی نے کہا ہے کہ اچھی اجتماعیت سے نوجوانوں کو جوڑیں تو وہ کبھی مایوسی ، ڈپریشن کا شکار نہیں ہوں گے۔ مایوسی کا بہترین علاج اچھی اجتماعیت ہے ۔ رائے عامہ کے مختلف جائزوں کے مطابق پاکستان میں ستانوے فیصد خواتین حجاب کرنا پسند کرتی ہیں ۔

97 of women in Pakistan like to wear hijab Sameeha Raheel Qazi 2 jpg

یہ انتہائی خوش آئیند رجحان ہے ۔ الحمدللہ حجاب کا کلچر تیزی سے بڑھتا چلا جارہا ہے۔ وہ جماعت اسلامی ضلع شرقی حلقہ خواتین کی جانب سے مقامی ہال میں ” حجاب ایک رویہ، ایک طرزِ فکر” کے موضوع پر اجتماع سے خطاب کررہی تھیں ۔ اس موقع پر ناظمہ کراچی محترمہ اسماء سفیر جے آئی یوتھ ضلع شرقی کی نائب نگراں مریم بنت ظفر اور رضوانہ قطب نے بھی خطاب کیا۔ سمیحہ راحیل قاضی نے اپنے خطاب میں کہا کہ خالق کائنات نے ہمیں باوقار تہزیب دی ہے۔ ہماری نوجوان نسل کے سر پر ٹرنسجینڈر ایکٹ ایک بہت بڑے فتنے کی صورت کھڑا ہے ۔

 

پاکستان میں 97 فیصد خواتین حجاب کرنا پسند کرتی ہیں، سمیحہ راحیل قاضی

پاکستان میں 97 فیصد خواتین حجاب کرنا پسند کرتی ہیں، سمیحہ راحیل قاضی

جسکا مقابلہ قرآن و سنت پر عمل پیرا ہوکر ہی ممکن ہے ۔ 911 کے بعد،اسلامو فوبیا کا تاثر پھیلتا چلا گیا اور فرانس نے سب سے پہلے حجاب پہ پابندی لگائی ۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز پر مسلمان خواتین کی حقیقی نمائندگی نہیں تھی ۔ بیجنگ کانفرنس کے بعد سوڈان کی خدیجہ کرار نے یہ سفارشات پیش کیں تاکہ بڑے عالمی پلیٹ فارمز پر مسلمان عورت کی صحیح نمائندگی ہوسکے ۔

 

انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریہ رکھنے والے اتنے مضبوط ہیں کہ تعلیمی اداروں سے پارلیمنٹ تک حجاب عام کیا اور معاشرے میں سر ڈھکنے کا رجحان بڑھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کو قرآن کریم کی اصلاحات اور واقعات سے ہی حقائق سمجھانے ہیں تاکہ وہ گمراہی کو پہچانیں اور اس سے بچیں۔ سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ حجاب ایک پورا کلچر ہے ، نظام ہے ، رویہ ہے جو مرد اور عورت کے طریق زندگی کو مکمل واضح کرتا ہے اور معاشرے کو بہترین صورت عطا کرتا ہے ۔

مرد کے کردار میں کوئی تبدیلی نہیں مگر آج عورت کے اوپر دوہری ذمہ داری عائد کردی گئ ہے جسکی وجہ سے عورت کے کردار اور فرائض میں وسیع تبدیلیاں واقع ہوئیں اور عورت بھاری بوجھ تلے دب گئ ہے ۔ فطرت سے ہم آہنگ زندگی متاثر ہوئی ہے ۔ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارا نوجوان مایوس ہو کر ملک سے نکلنے کی سوچ میں ہے ۔ حکومتی اقدامات میں یہ بات ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے کہ نوجوان کو ملک میں ہی مواقع فراہم ہوں ۔

 

بنوقابل جیسے پراجیکٹس لڑکیوں کے لئے بہترین موقع ہے گھر بیٹھے ورکنگ کیلئے ۔ اس پروگرام جیسے مزید اقدامات حکومتی سطح پر نہایت ضروری ہیں تاکہ بچے اور بچیاں مایوسی کی کیفیت سے نکل سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم فیملی ازم کے علمبردار ہیں جس میں عورت اور مرد کو اسکے فطری مقام پر رکھا جائے

 

اور شوہر اگر ایک درجہ اوپر ہے تو ماں کو باپ سے تین درجہ فوقیت دی گئی۔ مرد اور عورت ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ مخالف نہیں ہیں ۔ جس معاشرے میں ماں بچوں کیلئے فارغ نہیں ہے وہاں نوجوان اپنے والدین کیلئے بھی دستیاب نہیں ہوسکتے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481