اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نواز شریف کے استقبال کیلئے 10لاکھ افراد جمع کرنے کا ہدف ؟

1c772ac0 68dd 40f2 8205 0b98bb9f9766 jpg

صارم ارشد عباسی

21 اکتوبر کو مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کے فقید المثال استقبال کےلیے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں اور مسلم لیگ نون کی قیادت کی جانب سے ارکان اسمبلی اور عہدے داروں کو مینار پاکستان لاہور پر 10 لاکھ افراد جمع کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔تاہم پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس ہدف کا نصف بھی جمع کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اسے بہت بڑی اور تاریخی کامیابی تصور کیا جائے گا۔

91913878 35b8 49ea 9f09 d57c563ca6dd jpg

واضح رہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی اور استقبال کے حوالے سے دو سے زائد زائد مرتبہ پلان تبدیل ہو چکا ہے۔پہلی تجویز کے طور پر مسلم لیگ نون کے قائد کو اسلام اباد ایئرپورٹ پر اترنا تھا تاہم بعد ازاں طے کیا گیا کہ وہ لاہور ایئرپورٹ پر اتریں گے اور ایئرپورٹ پر ہی ان کا عظیم الشان استقبال کیا جائے گا جس میں دس لاکھ کے قریب لوگ جمع کیے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز پارٹی رہنماؤں کے لاہور میں منعقدہ اجلاس میں ایک بار پھر پلان میں تبدیلی کی گئی اور یہ طے کیا گیا کہ ایئرپورٹ کے بجائے کارکنوں کو مینار پاکستان پر جمع کیا جائے جہاں نواز شریف ان سے خطاب کریں۔تاہم یہ اجتماع اتنا بڑا اور تاریخی ہو کہ اس کے نقش انے والے الیکشن پر ثبت ہو جائیں۔

ماڈل تحریک انصاف کا سونامی جلسہ یا بے نظیر بھٹو کا فقیدالمثال استقبال؟

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف دبئی سے اٹلی پہنچ گئے

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف دبئی سے اٹلی پہنچ گئے

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون کی قیادت نے اپنے رہنماؤں کو 2011 کے تحریک انصاف کے سونامی جلسے کو بیٹ کرنے کا ہدف دیا ہے تاہم اس بات کو عام نہیں کیا گیا تاکہ یہ تاثر نہ ملے کہ مسلم لیگ نون تحریک انصاف کی مقبولیت سے خوفزدہ ہے یا اس کی تقلید کر رہی ہے۔ اسی طرح لیگی قیادت کے ذہن میں بے نظیر بھٹو کا 1986 کا فقید المثال استقبال بھی ہے جب وہ ضیاء الحق کے دور میں جلا وطنی سے واپس ائی تھی۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ چند بڑے اجتماعات میں سے ایک تھا۔

لیگی ذرائع کے مطابق اتنے بڑے جلسے کے لیے یقینی طور پر کروڑوں نہیں شایدارب روپے سے بھی زیادہ درکار ہوں تاہم فنڈ ریزنگ نواز لیگ کے لیے کبھی کوئی بڑا مسئلہ نہیں رہا کیونکہ اس کے رہنماؤں اور فنانسرز میں کئی بڑے بزنس مین شامل ہیں البتہ اس سے بڑا اور مشکل ٹاسک لوگوں کو جمع کرنے کا مطلوبہ ہدف پورا کرنا ہے۔

سینئر تحقیقاتی صحافی وسیم عباسی کے مطابق مینار پاکستان کی جلسہ گاہ بھرنے کے لیے سابق ارکان صوبائی اسمبلی کو فی کس 3600 افراد جمع کرنے کا ہدف دیا گیا ہے جبکہ ارکان قومی اسمبلی کے لیے یہ ہدف ڈبل یا اس سے زیادہ ہو سکتا ہے ۔رپورٹ کے مطابق یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ مینار پاکستان کہ احاطے میں شرکاء کے لیے ایک لاکھ نشستوں کا انتظام کیا جائے گا جبکہ باقی لوگ کھڑے ہو کر خطابات سنیں گے۔قبل ازیں 50 ہزار نشستوں کا انتظام کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
علاوہ ازیں جلسہ گاہ تک لوگوں کو لانے کے لیے ٹرانسپورٹ سروس کا انتظام بھی کیا جائے گا جس کے لیے ارکان اسمبلی اور پارٹی رہنماؤں کو ذمہ داریاں تفویض کر دی گئی ہیں ۔

مریم نواز اور حمزہ شہباز بیک وقت متحرک

مسلم لیگ ( ن ) کی چیف آرگنائزر مریم نواز وطن واپس پہنچ گئیں

مسلم لیگ ( ن ) کی چیف آرگنائزر مریم نواز وطن واپس پہنچ گئیں (فائل فوٹو)

ذرائع کا کہنا ہے کہ جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے مرکزی ذمہ داری مریم نواز اور حمزہ شہباز کو دی جا رہی ہے ان میں سے اول الذکر جنوبی پنجاب جبکہ آخر الذکر وسطی پنجاب کے تنظیمی دورے کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو موبلائز کیا جا سکے ۔
واضح رہے کہ مریم نواز نے چند روز پہلے اسلام آباد سمیت شمالی پاکستان کا دورہ کیا اور کے پی کے کی تنظیم کو بھی متحرک کیا گیا۔ امکان ہے کہ ملک بھر کی پارٹی تنظیمیں نواز شریف کے استقبالی جلسے میں شرکت کیلئے لوگوں کو لے کر پہنچیں گی۔ذرائع کے مطابق پارٹی رہنماؤں کو خبردار کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ نون نواز شریف کے اس استقبالی جلسے کو اپنی سیاسی زندگی اور موت کا مسئلہ تصور کرتی ہے لہذا اس شو کو کسی صورت ناکام یا فلاپ نہیں ہونا چاہیے۔

shahbazsharifhamzashahbaz

نواز لیگ کا انتخابی بیانیہ کیا ہوگا ؟

مسلم لیگ نون کو جن مشکل حالات میں الیکشن کا سامنا ہے ،ان حالات میں انتخابی بیانیے کو ٹھوس شکل دینا ایک مشکل کام ہوگا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز لیگ نے اس حوالے سے بڑی حد تک حکمت عملی مرتب کر لی ہےاور معاشی بحالی کا نعرہ ہی اس کا انتخابی بیانیہ ہوگا جس کے لیے نواز لیگ کے سابق ادوار میں ہونے والے ترقیاتی کام اور معاشی اہداف کے حصول میں کامیابی کے اعداد و شمارکو عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔واضح رہے کہ 2018 میں ہونے والے الیکشن میں "ووٹ کو عزت دو اور مجھے کیوں نکالا "کا بیانیہ استعمال کیا گیا تھا تا ہم وہ تحریک انصاف کے سونامی کے سامنے نہیں ٹھہر سکا۔

71a2aab0 2b2b 40b7 a284 37ad6e3cfe2c jpg
لیگی ذرائع کے مطابق انتخابی مہم کے دوران سیاسی مظلومیت کا تاثر قائم کر کے سابق آرمی چیف جنرل باجوہ ، سابق ڈی جی ائی ایس ائی جنرل فیض حمید اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی نشانے پر رکھا جائے گا تاکہ عوام کا لہو گرمایا جا سکے۔ اس حوالے سے نواز شریف نے گزشتہ روز اپنے خطاب میں ان میں سے چند ایک نام لے کر اشارہ بھی دے دیا ہے۔تاہم مجموعی طور پر نواز شریف خود کو ایک سیاسی اسٹیٹس مین کے طور پر پیش کریں گے جو انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتا اور ملک کی معاشی کشتی کو بھنور سے نکالنے کے لیے ذاتی انا اور مسائل سے بالاتر ہو کر سوچنے کے لیے تیار ہے۔

 

Target of gathering 10 lakh people to welcome Nawaz Sharif? نواز شریف کے استقبال کیلئے 10لاکھ افراد جمع کرنے کا ہدف ؟


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481