اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کمپلیکس سے کمپلیکس تک (جمیل الرحمن عباسی)

3f83700c 8fba 4155 a971 240272fe5bf8

”ہر ایک کو اپنے حصے کا دکھ خود اٹھانا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اور جب تم مرنے جا رہی تھیں تو بہت سارے دلوں کو غمگین کیے جا رہی تھیں” ٹوٹے پھوٹے لہجے میں،امرت کور کے یہ جملے مطیع بھائی مجھے اس شام سنا رہے تھے جب میں لاہور سے بیروٹ پہنچا تھا۔ گرمیوں کے موسم میں کوئی لاہور کی تپتی دھرتی سے رہائی پا کر بیروٹ کے ٹھنڈے ٹھار پہاڑوں میں پہنچے تو اس کی خوش بختی اور خوشی کااندازہ کیجیے لیکن خوشی کا انحصار حالات پر بھی بہت کچھ ہوتا ہے جو اس وقت اچھے نظرنہ آتے تھے۔ہر آمد پر منتظر میزبانِ مہرباں بستر پہ جا پڑا تھا تو خوشی کہاں؟ درد ان پر حملہ آور تھا۔ مقابلے کی شدت کا یہ عا لَم کہ چارپائی بول رہی تھی۔سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی، ماتھے پہ عرق لیکن چہرے پہ نہ کرب نہ قلَق بلکہ ایک سکون و سپردگی کی کیفیت پھیلی ہوئی تھی ۔میں شاعر ہوتا تو ان کے اس حال پر کوئی شعر ضرور کہتا یہ نہ ہوا تو بعد میں انہیں خود ہی یہ شعر کہنا پڑا:

درد آیا تھا چیختا لیکن
مسکراتا ہی رہا کوئی
میں ان کی باتوں سے زیادہ ان کے چہرے پر غور کر رہا تھا۔ بہت کمزور ہو چکے تھے ،ان کے کپکپاتے ہونٹ گویا کہہ رہے تھے:
سوکھے ہونٹ ، سلگتی آنکھیں ، سرسوں جیسا رنگ
برسوں بعد وہ دیکھ کے مجھ کو رہ جائے گا دنگ

تیرہ دن پہلے ان کا سرطان (کینسر ) تشخیص ہوچکا تھا۔ان دنوں ہم محمد بن جمیل کے انتظار میں تھے ۔25 جون کو وہ تشریف لائے ، دو دن محمد اور امّ محمد کی مدارات کرنے کے بعدآج میں ان کا سر دبا رہاتھا۔ آمدِ محمد کی اطلاع جب انہوں نے پائی تو بہت خوشی کا اظہار کیا اور کسی سوچ میں ڈوب گئے۔ جب ابھرے تو اتنا کہا ”ایک آیا اور ایک گیا”بعد میں اس خیال نے شعری صورت یوں اختیار کی :
دنیا لاہور کا سٹیشن ہے
آیا چلا گیا کوئی

c7b91144 5b16 4354 8b33 4b20ca1ef7bc jpg

”جانتے ہو امرت کور کا دکھ کیا تھا” وہ بمشکل گویا ہوئے” اس کی جواں سال بیٹی جل مری تھی ۔۔۔بس یہی اس کا روگ تھا،، میرا روگ بھی یہی تھا میرا جواں سال بھائی اپنا جگر جلا چکا اور مرنے کے گھر رہنے جا رہا تھا۔ وہ رہنے کے گھر جا بھی چکے اورمیں سوچتا ہوں جس بہادری سے انہوں نے موت کو گلے لگایا فیض کو سچ کر دکھایا:
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جا ن تو آنی جانی ہے اس جان کی تو کوئی بات نہیں

کسی نے پریشان نہ ہونے کی نصیحت کی تو کہنے لگے مجھے تو کوئی پریشانی نہیں یہ میرے چھوٹے بھائی پریشان ہو جاتے ہیں،، چھوٹے پریشان ہو ہی جاتے ہیں چھوٹے جو ہوئے ،سو چھوٹوں نے پریشانی سے بچنے کے لیے انہیں کمپلیکس (پمز )لے جانے کا قصد کیا۔ اس طرح اُس سفر کا آغاز ہوا جس کا کمپلیکس ہی میں ختم ہونا طے تھا۔ رات سے ہی ان کی طبیعت زیادہ خراب تھی۔ راستے میں چند بار بقول جونؔ ، خون بھی تھوک چکے تھے ۔ لیکن پھر بھی پر اعتماد تھے۔ ان کے قریبی دوست مستفیض بھائی نے طبیعت کی خرابی کے بارے میں پوچھا تو انہیں یوں جواب لکھ بھیجا :

محنت کا خون سرمائے نے چوسا تو کچھ نہیں
میں نے جو اپنا خون بھی تھوکا تو فسانہ

کمپلیکس میں چند روز کے معالجے سے طبیعت کچھ سنبھل تو گئی لیکن بہرحال ان کے احوال اچھے نہ تھے۔ وہ عرصہ حیات کے بہت مشکل وقت سے گزر رہے تھے لیکن اس کڑے دَور میں بھی انہوں نے زندگی کو جینے کا فیصلہ کیے رکھا۔پہلے تو وہ کچھ کتابیں منگوائیں جنہیں پڑھنے کی آرزو رکھتے تھے، کارل مارکس کی نظمیں، احمد ندیم قاسمی کی’ آبلہ’ اور احمد فراز کی’ سب آوازیں میری ہیں’وغیرہ

پھر، دوستوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ ، ہسپتال کے صحن میں شروع کیا، سرشام ہی محفل آرائی فرما لیتے جو نصف اللیل تک رہتی۔چند دنوں بعد رات صحن ہی میں بسر کرنے لگے ۔گویا ہسپتال کے اندر پکنک کا ماحول بنا ئے رکھا۔

دس بارہ دن کے علاج کے بعد ڈاکٹرز نے صاف کہہ دیا کہ ہمارے پاس تو اس مریض کا کوئی علاج نہیں، سوائے وقتی آرام و تسکین کے، البتہ شیخ زائد ہسپتال میں جگر کے کینسر کا ایک جدید علاج( tace) متعارف کرایا گیا ہے۔ اگر آپ کوشش کرنا ہی چاہتے ہیں تو وہاں چلے جائیں۔کوشش کرنے میں کیا حرج، دوستوں سے مشورے کے بعد لاہور جانے کا پروگرام بنایا گیا۔ مطیع بھائی نے کہا کہ لاہور جانے سے پہلے میں ایک دفعہ بیروٹ جاؤں گا۔

934c37db 3e4a 486f a858 4c841c56fad2 jpg

ہائر سیکنڈری سکول بیروٹ اگرچہ بند تھا لیکن ایک چکر اس کا لگایا، یہ ان کی مادرِ علمی بھی تھی اور تدریسی خدمات کی مرکز بھی، کئی دوست ان سے ملنے ادھر ہی پہنچ گئے۔اگلے دن ان کے زیر اہتمام چلنے والے کالج ’’ام القری برائے طالبات‘‘ کا دورہ کیا۔ اپنی سٹوڈنٹس اور ٹیچرز وغیرہ سے ملاقات کی۔مزید ایک آدھ دن بیروٹ میں گزارنے کے بعد انہیں لاہور شیخ زائد ہسپتال لے جایا گیا۔یہاں مختلف وقفوں میں تقریبا دو ماہ زیرعلاج رہے لیکن’’درد بڑھتا گیا جو ں جوں دوا کی‘‘ کے مصداق بیماری اور درد و الم کی فراوانی بڑھتی ہی جارہی تھی۔ان کی ذہنی کیفیت کا اندازہ، مستفیض بھائی کو بھیجے گئے اس شعر سے ہوتا ہے:

حیران ہوں روؤں دل کو کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

پھر جب زیادہ کمزور ہو گئے تو بیروٹ چلنے کی خواہش کی، ہم بھی ان کے علاج سے مایوس ہو ہی چکے تھے۔اگرچہ بعض سہولیات کی وجہ سے انہیں لاہور ہی میں رکھنا چاہتے تھے لیکن ان کی ضد بڑھتی رہی سو گاؤں کی طرف رخت سفر باندھا۔ کیا ہی سوگوار شام تھی وہ جب ہم لاہور سے بیروٹ کو روانہ ہو رہے تھے’’وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے‘‘کی طرح کی صورت حال تھی ۔

ae5d8d28 e166 4abe 9b82 a4e94cba1486

مطیع الرحمٰن مرحوم کے کلاس فیلوز کا گروپ

کتنی آس لے کر ہم لاہور وارد ہوئے تھے اور آج بے نیل و مرام لوٹ رہے تھے۔جانے سے قبل مومنہ ،نور الھدی ،طوبی ،عروہ وغیرہ سے خوب باتیں کیں۔ ننھے محمد کوبلوا کر ملے اور کہنے لگے اسے میرے سینے پہ لٹا دو ،کافی دیر اسے لٹائے رکھا اور جب ہمارے گھر والوں کو یہ کہہ کر باہر نکلے کہ ’’اچھا بھائی کھایا پیا بخش دینا ‘‘ تو کتنی ہی چھریاں چل گئیں دلوں پر لیکن جانے والا،اور صاف نظر آتا تھا کہ وہ جہان سے جانے والا ہے ،بہت دکھی بھی تھا لیکن دکھ چھپائے ہوئے تھا۔ایمبولینس نے جب ہمارے دروازے پر آکر ہلکا سا سائرن بجایا اور گھر کے عقب میں واقع میو گارڈن کے بلند و بالا درختوں سے چمگادڑوں کے پھڑ پھڑاہٹ ، چیلوں کی چیخوں کی آواز اور کھمبے کی بتی کی یرقان زدہ روشنی میں دروازوں کی آڑ سے جھانکتی مائیوں کی کھسر پھسر نے کسی’’ موت کی وادی ‘‘ کا سماں باندھ دیا جہاں بہت سارے کالے ناگ شہزادے کو ڈسنے کے لیے پھنکار رہے ہوں :

گُزر رہی ہیں گلی سے، پھر ماتمی ہوائیں
کِواڑ کھولو ، دئیے بُجھاؤ! اُداس لوگو
جو رات مقتل میں بال کھولے اُتر رہی تھی
وہ رات کیسی رہی ، سناؤ! اُداس لوگو
لاہور سے نہیں بڑی محبت تھی،کئی بار دیکھ چکے تھے۔ یہاں تک کہ ایام مرض میں بھی طبیعت کچھ سنبھلتی تو زمان پارک سے گزر کر’’نہر والے پل‘‘پر چلے جاتے اور نہر کے کنارے رختوں کے سائے میں بیٹھے رہتے ۔

’’میٹرو بس‘‘ دیکھنے کے خواہش رکھتے تھے ۔ہم اکثر ان کی تکلیف کے سبب ٹال دیتے لیکن جب ذوالفقار بھائی ملنے آئے تو آنجناب اور محمد نظار صاحب کے ساتھ جا کر یہ خواہش بھی پوری کی ۔اسی حال میں ایک دن کسی کو ساتھ لے کر اردو بازار کی سیر بھی کی ۔گوپال متل کی ’’لاہور کا جو ذکر کیا‘‘ کو بہت پسند کرتے تھے اور لاہور کی ادبی فضا کا کافی ذکر کرتے ۔ جب ہماری گاڑی شہر سے نکل رہی تھی تو باوجودیکہ ان کے لیے بیٹھنا مشکل تھا اٹھ کر بیٹھ گئے، ریلوے سٹیشن،شاہی قلعہ ، مینار پاکستان اور ،راوی ضعیف سبھی کو حالانکہ کئی بار دیکھ چکے تھے لیکن آج کے دیکھنے کی کیا بات کہ سب کو ’’آخری دفعہ ‘‘ دیکھا ،سبھی کچھ بلکہ پورا لاہور ہی اداسی میں ڈوبا ہوا تھا۔اس دن انہوں نے جسے بھی دیکھا ،ڈوب کر دیکھا،اندر اترجانے والی نظروں سے بغور دیکھا، گویا الوداع کہہ رہے ہوں یا اجازت طلب کرتے ہوں:

شہرِ دل اور شہرِ دنیا الوداع
ہم تو دونوں کی طرف سے کٹ گئے
اس کے بعد تمام ہی راستے میں لیٹے رہے۔گاؤں میں آ کر تیمارداری کے لیے آنے والے دوستوں او ر رشتہ داروں سے خوب ملاقاتیں کیں۔اپنی ’’سرنی‘‘(جانوروں کا باڑہ) میں گئے ،اپنی محبو ب بچھی (بچھڑیا) کودیکھا اپنے سامنے اسے چارہ ڈلوایا اور کافی دیر بیٹھے رہے۔ان کی آخری نظم ’’ مجھے بیروٹ کہتے ہیں ‘‘ میں اسی بچھی کا ذکر ملتا ہے اور یادش کہ یہی بچھڑیا ان کی تدفین کے بعد ان کی قبر پر بیٹھی پائی گئی۔خیردو تین دن ہی گاؤں میں رہ پائے ۔طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو دوبارہ کمپلیکس میں لے جائے گئے اور چند دن ہسپتال میں رہنے کے بعداٹھارہ ستمبر کی شام کو خالق حقیقی سے جا ملے:
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا دیکھا
اس بیماری ’’جگر ‘‘نے آخر کام تمام کیا

مطیع صاحب ہی نے کہیں لکھا ہے کہ ’’ شخصیتیں بہت پرپیچ ہوتی ہیں‘‘اس کے باوجود شخصیتوں کو کھوجا جاتا رہا ہے۔شخصیت کی جڑیں کہا جاتا ہے بچپن کے کھیتوں میں ہوتی ہیں۔ان کا بچپن میں نے دیکھا تو ظاہر ہے نہیں ، سنا ہے ۔والدہ محترمہ کے بیان کے مطابق بچپن میں بہت ہی ’’نمازی پرہیزی ‘‘ قسم کے آدمی تھے۔ چھوٹی عمر میں راولپنڈی کے کسی دینی مدرسہ میں بھی داخل کیے گئے لیکن وہاں سے جلد ہی خروج کیا۔تفصیلات تو معلوم نہیں البتہ اتنا یاد ہے کہ جب ہم چھوٹے تھے تو ہمیں مدرسے سے بھاگنے کاواقعہ سنا کر بہت ہنسایا کرتے تھے ۔

جس رات مدرسے سے چھپ کر، بس میں بیٹھ کر بیروٹ کی راہ لی تو اندھیرے میں اپنے ’سٹاپ‘ کو نہ پہچان سکے اور آگے کہیں بہت دور جا کر اترے تھے اور رات کسی کے گھر میں گزارنے کے بعد اگلے دن صبح گھر میں وارد ہوئے تھے۔ مدرسے سے بھاگنے والوں کے ساتھ جو کچھ گھر میں ہوتا ہے اس میں سے ان کے ساتھ کیا کیا اور کتنا کتنا کچھ ہوا،راوی اس باب میں خاموش ہے۔

1396051614341446811590344 1 jpg
اسبابِ خروج و وجوہات پربھی کبھی ان سے بات نہ ہو سکی۔اس تجربہ زندگی میں ان پر کیا کچھ بیتی اور کیا کیا روگ وہ سمیٹ پائے ،ظن و تخمین سے کیا حاصل ،اتنا البتہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں سے کچھ روگ انہیں لگے ضرور ہیں۔ اس کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول بیروٹ کے طالب علم بنے۔سکول کے ذہین لیکن شرارتی طلباء میں ان کا شمارہوتا تھا۔حتی کہ سید ممتاز حسین شاہ صاحب سے ’’ مطیع الشیطان ‘‘ کا لقب پایا۔کرکٹ وغیرہ کے شوق کے ساتھ بقول اقبال ’’ آہ تو بھی کیا اسی چیز کی شیدائی ہے ‘‘ پرستارانِ حسن میں شامل رہے ہیں ، میٹرک کے دورکا ایک شعر:

ہم تم کو پلا دیں گے خون جگر بھی
سانسوں کی گرم ہوا چاہتے ہیں
عام طور پراس عمر میں اسی طرح کے ’ معنی خیز شعر ‘ ہی صادر ہوتے ہیں۔آخر ہمارے علامہ صاحب کو بھی’’۔۔۔۔کی گود میں بلی دیکھ کر ‘‘ نظم لکھنا پڑی تھی۔ بہرحال جوان اور تازہ محبتوں سے دل پر کیا بیتتی ہے ،اہل دل واقف ہیں:
کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار
اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں

یہاں سے انہوں کیا کچھ روگ سمیٹے ہیں اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے۔روگ یاکمپلیکس شخصیتیں بناتا بھی ہے۔تخلیق کا جرثومہ اسی کی ذات سے پھوٹتا اور سرطان کی طرح فکر وخیال کو جکڑ کے شعر و نثر کے ’ ناسور‘کا باعث بنتا ہے، کبھی عشق حقیقی کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے اور کبھی عشق مجازی کے روپ میں، مطیع صاحب نے ہردو کا تجربہ کیا،عشق و محبت کی اس راہ میں جو سب پر گزرتی ہے وہ ان پر بھی گزری، طعنہ و دشنام ، مقاطعہ و مجادلہ کی منزلیں سَر کیں، آخر وصل و وصالِ یار سے دوچار ہوئے ، اولاً مجاز اور پھر حقیقت میں ، سو ان کے فن اور عشق دونوں نے آسودگی پائی ۔

مجازی کا قصہ کہ جسے باقاعدہ عشق کہا جا سکے ،یوں ہے کہ ایک مورت کے ، کہ پیکر حسن و جمال سمجھی جاتی تھی، پرستار ہوئے۔ دشنام و رسواسے فیض یاب ہوئے، جنون ِعشق میں قریہ قریہ دیوانہ وار پھرے ، آخررہ نوردی شوق کی ترک کی، لیلی کی ہم نشینی کی خاطر محمل قبول کیا، بیاہ کے بندھن میں بندھے ،گویا عشق کی معراج پہ پہنچے ’ مہراج ‘ ہوئے۔انہی دنوں ایک نظم میں، جس کے بارے میں یاد نہیں پڑتا شائع ہوئی یا نہیں،لکھتے ہیں:
میں تجھ کو بھول جاؤں گا
تُو مجھ کو بھول جائے گی
جواں جذبوں کو رعنائی
جو کوئی گل کھلائے گیخزانے ہم محبت کے
اسی پہ تو لٹائیں گے

گل و بلبل ،جتنے ’’گُل ‘‘ اس دم تلک کھلا چکے تھے، قدرت نے انہی پر اکتفا کیا ،جذبے کوئی نیا گل نہ کھلا سکے۔پس یہ دونوں ’’ دو ‘‘ ہی رہے چنانچہ ایک دوسرے کو بھلا بھی نہ سکے ۔ ایک عرصہ ہنگام ِحسن و عشق میں مجذوب رہے، دربار ِسخن میں معتوب ہوئے اور شغلِ شعر گوئی معطل رہا کہ ان کے بحر کی موجیں اضطراب سے گزر کر سکون پذیر ہو ئیں، تا آنکہ عشق ِحقیقی کے طوفان سے روشناس ہوئے ۔ایک دَور ختم ہوا اور دوسرے میں داخل ہوئے۔

دوسرے دَور کو معرفت کا دَور کہا جا سکتا ہے۔یہ وہ دَور تھا جب وہ تصوف و سلوک کے کوچہ گرد بنے۔پیر نقیب الرحمن صاحب کہ پیرابن پیر ہیں ،کی درگاہ کے مرید ہوئے ،اکثر خانقاہ میں حاضری دیتے۔ وظائف و اَوراد میں مشغول رہتے۔ اس خانوادے سے ہماری خاندانی نسبت یہ ہے کہ والدصاحب مرحوم و مغفور کا شمار، نقیب الرحمن صاحب کے والد ماجد حضرت پیر حبیب الرحمن ؒ کے خاص مریدین میں ہوتا تھا بلکہ ان کی یاداشتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ منصب نیابت پر فائز ہونے کے قریب تھے کہ داعی اجل کو مستجیب ہوئے۔ خیر اس دَور میں مطیع صاحب کی پروازِ فکر بلند تھی ۔کئی لازوال خیال باندھے اور پہاڑی کے چراغ بنے:

صنوبر پھول اور خوشبو
چھپا بیٹھا ہے سب میں تو
ہاتھوں میں فقط چرخہ
مگر دل محوِ اللہ ھُو
یہ ایک دَور تھا نہ رہا ۔مطیع صاحب کی طبیعت نے ایک اور پلٹاکھایا، کچھ عرصہ اپنی سی ڈگر پہ چلا کیے یہاں تک کہ ایک مرد قلندر کہ خالد محمود عباسی کہلاتا ہے ،کے حلقہ احباب میں شامل ہو گئے ۔رمضان کی راتیں گھر سے باہر گزارنے لگے۔ پتا چلا خالد عباسی صاحب کے دورہ ترجمہ قرآن میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ ان کی زندگی کا ایک نیا دَور تھا۔گویا یہ ان کی پلٹ تھی طریقت سے شریعت کی طرف ۔کچھ عرصہ بعد خالد صاحب کے پیر و مرشد ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کی بیعت کا قلادہ گلے میں ڈال ، داعی دین اور مدرس ِقرآن کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ کئی دوستوں کو ڈاکٹر اسرار صاحب کی انقلا بی د عوت سے روشناس کرایا ۔اس دَور میں اصلاح ِرسوم و معاشرت کے ضمن میں کئی اہم کام کیے ۔ مشق سخن اس دَور میں بھی اکثروبیشتر معطل ہی رہی ۔میں عرض کرتا کہ آپ اپنی دعوت کے فروغ میں شاعری سے بھی کام لیں۔ اس رخ پر اگر وہ کام کرتے تو حالی و نعیم نہ سہی لیکن کافی قابل قدر کام سامنے آ سکتا تھالیکن شاید میرے کہے میں اثر نہ تھا۔

بہرحال اپنی اس ’’جون ‘‘میں وہ دین کی ایک بلند آہنگ آواز تھے جو کسی بڑے سے بڑے رتبے کے شخص کے سامنے بھی دبتی نہ تھی ۔یہاں تک ہم نے سنا کہ سرِ محفل ’’بڑے سردار صاحب ‘‘کے سامنے بھی سیکولر جمہوریت کی خرابی کہنے سے چوکے نہیں لیکن جلد ہی یہ آواز بیٹھ گئی۔

ع
” اٹھ گیا نالہ فگن مارے گا دل پہ تیر کون”
اس رجعت کا سبب حرم سے بدگمانی بھی ہو سکتی ہے اور عدم خوئے دلنوازی بھی،انسان خود بھی تو پچھڑ جاتا ہے کہ ہے ہی خطا کاپتلا،یہ تو ہوئے داخلی اسباب ،لیکن ہر انقلاب کی طرح اس تبدیلی میں بھی کچھ خارجی عوامل بھی ضرورتھے ۔چاہے کسی کو سجھائی نہ دے،ہم تو اسے دیکھتے ہیں کہ
ع
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک کربلا و نجف

جیسا کہ معروف ہے حق کے راستے پہ گھات لگانے والے ،کچھ نظر آتے ہیں اور کچھ نظر نہیں آتے، کچھ مٹی کے ہوتے ہیں اور کچھ دیگر عناصرِ لطیفہ سے تشکیل پاتے ہیں ، ہم نام کیوں لیں جاننے والے جانتے ہیں ۔اقبال نے انہیں ’’نظام کہنہ کے پاسدار‘‘ قرار دیا ہے۔ پس یہ جب کسی کو معرض ِانقلاب میں دیکھتے ہیں تو آلیتے ہیں۔ لھو الحدیث کی محفلیں سجاتے ، مُوہ کے جال میں پھاندتے اورنتیجتًا دکھ دیتے ہیں۔
معروف مذہبی روایت میں رقص و سرودکالھو الحدیث قرار پانا تو معروف ہے ہی ،ہم ان جرگوں کو بھی لھو الحدیث کا پرتَو کہتے ہیں جن کا بنیادی فلسفہ ہی یہ ہوتا ہے کہ ہم نے ’’کُوڑ سچ ‘‘ کرکے بات ختم کرنا ہے اور یہ بھی کہ ہمیں اسلام اور قانون کا نہیں پتا ہم تو رواج کے مطابق فیصلہ کریں گے او ر آپ کو ماننا ہو گااور جہاں ’’حق گوئی ‘‘سے پیشتر دیکھا جائے کہ کون میری پارٹی سے متعلق ہے اور کون دوسرے جتھے میں ہے۔’’جرات و بیباکی ‘‘ کا مظاہرہ کرنے سے قبل فریق کی حیثیت کو جانچ لیاجائے ، بیان سنتے وقت کھنکار لیا جائے اورگواہی لینے سے پیشتر آنکھ کو مار لیا جائے تو بتائیے ’’گلستان کا انجام ‘‘کیا ہوگا؟

پس نظام کہنہ کے ان پاسداروں سے ایک خاص وقت میں بچنا پڑتا ہے بعد میں چاہے مَتھا لگا بھی لیا جائے کچھ نہیں بگڑتا، الا ما شا اللہ ۔ مطیع صاحب نے وقت سے پہلے مَتھا لگا لیا،اس خاص وقت میں جب ان سے پہلو بچانا چاہیے تھا نہ بچا سکے پس ان کے ’’انتخاب ‘‘میں آگئے اور انہیں منتخب کر لیا گیا اپنے قول زُخرُف کے لیے ،وہ اس کا شکار بنے اور بچ نہ پائے بلکہ ان کے ساتھی بن گئے اورجسے وہ خودسیدھا رستہ کہتے تھے اس سے بھٹک گئے!!

سیدھے رستے سے فرار تو ہوئے پر سکون نہ پا سکے اور کیسے پاتے کہ دلوں کا سکون توجب کہ وہ زندہ ہوں صراط الہی کے سوا کہیں نہیں،انسان جب پہلے پہل فطرت کے خلاف کرتا ہے تو اسے خاصی دقت اٹھانا ہوتی ہے۔قابیل نے جب قتل کرنا چاہا تو بڑی تگ و دو اسے خود اپنے ساتھ کرنا پڑی ۔ حق سے ہٹنا ،حق پر چلنے سے بہت زیادہ مشکل ہے۔ یہ مشکل کام کئی بیرونی عناصر کی مداخلت ہی سے آسان ہوتا ہے جس کی طرف کچھ اشارے ہوچکے ۔
قرآن میں ہی مذکور بلعم باعورہ کے قضیے سے بھی اسے سمجھا جا سکتا ہے۔ انتظار حسین نے ’’مکھی‘‘کے ذریعے بھی یہ سبق سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ بہرحال جب انسان بھٹکتا ہے تو وہ کہیں اَور دل لگا کے جینا چاہتا ہے تاکہ فطری جذبہ پرستش و محبت کا رخ کہیں موڑ سکے ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی عاشق نامراد وصال صنم سے مایوس ہو کر ساغر و مینا سے جی بہلانا چاہے۔مطیع صاحب نے اپنی کشمکش کا اظہار یوں کیا ہے:
بھلا کب خوش ہوں گے سیدھے رستے سے جو بھاگے ہیں
اگر ساقی کی زلفوں میں بھی پیچ وخم نہیں ہوں گے

پس اس کشمکش سے چھوٹنے کے لیے ’’زَہرہ دنیا ‘‘ کے دامن میں سکون کے متلاشی بنے، کافی گفتگو خاندانی مسائل کی فراوانی اور وسائل کی کمیابی پر ہونے لگی۔ دولت کمانے کے منصوبے ان کے ذہن میں پلنے لگے۔ میں دبے لفظوں عرض کرتا ’’ آپ کو دولت سے کیا سروکار آپ جس کام میں لگے تھے اسی میں لگے رہتے‘‘۔کہتے ’’مجھے دولت سے کیا لینا دینا لیکن میں چاہتا ہوں میرے بھائی ،میرا خاندان ترقی کرے ،میرے بھائی بَند ہیں ،میں ان کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ میں خاموش ہو گیا شاید اس لالچ میں کہ متوقع دولت میں سے کچھ مجھے بھی مل جائے ۔

فرمان مرتضوی:
رَضينا قِسمَةَ الجَبّارِ فينا ( ہم خدائے جبار کی اس تقسیم پر راضی ہیں)
لَنا عِلمٌ وَلِلجُهّالِ مالُ (کہ ہمارے لیے علم اور جاہلوں کے لیے مال ہے)
سے عقیدت رکھتے تھے جبھی تو جنابِ مخلص کی’’چشم فردا ‘‘کے ابتدایئے میں ان الفاظ کا بڑے اہتمام سے ذکر کرتے ہیں ۔
اگرچہ عقیدت ، اور فکر میں استلزام کا دعوی نہیں کیا جا سکتالیکن میرا خیال ہے کہ وہ اس فرمان علی ،عالی شان کے قائل تو تھے لیکن اس یقین کو خاندانی محبت میں پس پشت پھینکا ۔ یہ محبت جوانہیں حصول دولت کے ’چوگان‘ میں لے گئی، خاندان ہی کی تھی ،مال کی نہ تھی یا کم از کم ابتداً نہ تھی، یہ میرا گمان ہے اگر اسے خوش گمانی سمجھا جائے تب بھی درست ہے کہ دین ہمیں اسی کا حکم دیتا ہے۔
البتہ اگر بعد میں کسی وقت ،یا مال کے ملنے پر اس سے دل بھی لگا بیٹھے ہوں تو اچھنبے کی کیا بات کہ بقول خداوندی’’انسان مال کی محبت میں بڑا شدید ہے‘‘اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ کے خاص بندوں کے علاوہ (ہم جیسے )عام لوگوں کی اکثریت یہ محبت وافررکھتی ہے چاہے اقرار کا حوصلہ قاصررکھتی ہو۔
(١١)
بہرحال مال کمانے کے چکر میں آپ اسکول سے چھٹیاں لے کر عازمِ کراچی ہوئے اور ایک کاروبار کی طرح،اس طرح ڈالی کہ مختلف ہاتھوں میں آج تک چل رہا ہے۔مزید یہ کہ وہاں موجود خاندانی جائداد کی تعمیر نو اور اس کاانتظام بہتر کیا لیکن یہ ان کا اعلیٰ سے ادنیٰ کا سفر تھا کاش یہ نہ ہوا ہوتا۔۔۔۔
میں کہتا تو یہی ہوں کہ کہنا آسان ہے ، کرنے کو شاید وہی کرتاجو وہ کر گزرے تھے۔ مثالیت اور عملیت میں فرق مسلمہ حقیقت ہے۔اپنے ان منصوبوں میں انہیں کامیابی اپنے اندازوں کے مطابق نہیں ملی اور اسے وہ ناکامی سمجھتے تھے۔ایک دن مجھ سے کہنے لگے ’’ بعض لوگ ہوتے ہیں جو محنت بہت کرتے ہیں لیکن انہیں ملتا تھوڑ اہے اور میں انہی میں سے ہوں۔میں نے ہتھ پیر بہت مارے لیکن مجھے ملا حساب ہی کا ہے‘‘۔یہ دَور بھی گیا ،نہ رہا۔
اب ان کی زندگی کا آخری دَور شروع ہوتا ہے۔اس دَور میں وہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی اصطلاح میں’’مجذوب سالک ‘‘تھے۔ سلوک کے میں بعض راہی ایسے ہوتے ہیں جورفتہ رفتہ، سلوک کے راستے پرسَلْکًاسَلْکًا چلتے ، سَبْقًاسَبْقًا آگے بڑھتے اورمنزل پہ منزل مارتے ہیں تب کہیں جا کر مجذوب کے مقام پر ترقی پاتے ہیں، یہ ’سالک مجذوب ‘ہیں۔ دوسرے ’مجذوب سالک‘ ہوتے ہیں جو پہلے جذب و مستی پاتے ہیں یا مست بنائے جاتے ہیں پھر سلوک کے رستے پر چلتے ہیں۔ دیکھنے میں سلوکِ جذب بہت اچھا لگتا ہے لیکن درحقیقت یہ بہت مشکل کام ہے۔ اس میں سالک کو ،کوٹ کوٹ کر سیدھا کیا جاتا ہے جیسے لوہار ٹین کو ،کوٹ کوٹ کر سیدھا کرتا ہے ۔ اس عمل میں انسان کی ستھرائی ایسے ہی پٹخ پٹخ کر کی جاتی ہے جیسے دھوبی کپڑے کو پتھرپہ مار مار صاف کرتاہے۔

1089249 islamnamazprayer 1518758603 jpg

اس عمل میں انسان کے بل اسی طرح نکالے جاتے ہیں جیسے چارپائی بُننے سے پہلے بان کو کس کر ستونوں سے باندھ لیا جاتا تھا۔ یہ جبری مشقت سے ملتا جلتا عمل ہے اسے ’’جبری شفقت ‘‘ کا نام دیا جا سکتا ہے۔ جبر کا ایک معنی زبردستی اصلاح کر دینا بھی ہے ، اس اعتبارسے یہ اللہ کی صفت ہے جس کا اظہار اسمِ حسیں ’’الجبار‘‘سے ہوتا ہے جس کی وضاحت(الْمُصْلِحُ أُمُورَ خَلْقِہِ الْمُتَصَرِّفُ فِیہِمْ بِمَا فِیہِ صَلَاحُہُمْ)سے کی گئی ہے۔ (مخلوق کے امور میں تصرف کرتے ہوئے ایسی اصلاح کرنا جس میں مخلوق کی بہتری ہو)
سلوکِ جذب کے عمل میں سالک کی کچھ نیت اور ارادہ اپنی اصلاح کا ہوتا ہے،غالب نے اسی طرف اشارہ کیا ہے :ع
’’مدت سے آرزو تھی سیدھا کرے کوئی‘‘
نیت و ارادے اور جبر و اصلاح میں ہر ایک کا کتنا کچھ حصہ ہے، ابتدا کیا ہے اور انتہا کیاہے، اس پر بات کی جا سکتی ہے اور کرنے والوں نے کی ہے لیکن پھر سہی ۔
کہا جاتا ہے کہ بعض مریدوں میں عمل کی سُستی پائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔اس کی تلافی میں اس کے ساتھ جبر کی دھینگا مشتی کی جاتی ہے ۔جبر، اصلاح میں ہو یا خراب میں، جبر بہرحال جبر ہی ہے ۔اس میں کُٹ کُٹائی، دَھکا مُکا، مارا ماری ہوتی ہی ہےسو یہ سخت دشوار راستہ ہے ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ ایک راہ یسیر(short cut) ہے اس میں سالوں کے فاصلے دنوں میں طے ہوتے ہیں جیسے اقبال نے کہا ہے کہ:
وادی عشق بسے دور و د راز است ولے
طے شود صد سالہ بہ آہے گاہے

سلوک جذب اللہ کی محبت کا مظہر بھی ہے ۔امام سیوطیؒ جامع الکبیر میں کئی ایک احادیث نقل کرتے ہیں جن کے مطابق ’’جب اللہ کسی سے محبت کرتا ہے اور اس کا بھلا چاہتا ہے تو اسے آزمائش میں مبتلا کرتا ہے، اسے گناہوں کی سزا دنیا ہی میں دے دیتا ہے۔ ،اس پر سختی بھیجتا ہے یہاں تک کہ وہ شخص اللہ کی جناب میں آہ و زاری اور دعا و مناجات کرتا ہے، اللہ اس کی دعا سنتا ہے پھر اسے نیک اعمال کی توفیق دیتا ہے اور اسی حال پر اسے موت دیتا ہے،، ۔
سو اللہ نے مطیع صاحب سے محبت کی اور خیر کا فیصلہ کیا،انہیں مارا ،پیٹا اور کوٹا گیا۔ ہاتھ پیر باندھ کرسرطان کی بیماری کے حوالے اس طرح کیے گئے کہ ڈاکٹروں نے اول وھلے ہی میں لاعلاج قرار دیا۔سارے راستے بند کر دیئے گئے سوائے ایک راستے کے کہ جو اللہ کی طرف جاتا تھا، اس طرح ان کی زندگی کا ایک اَوردَور شروع ہوا ، یہی ان کا پہلا تھا یہی ان کا آخری بنا:
بھاگے تھے بہت سو اسی کی سزا ہے
ہوکے اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں
تفصیل اس کی یہ ہے کہ میڈیکل کی لاچاری دیکھ کرجب روحانی علاج کاقصد کیاگیا تواکبر شاہ باجی (باژی) سے رجوع کیا گیا ،مظفر آباد میں رہائش پذیر بزرگ ہیں سنا ہے ان تک رسائی ہی بہت مشکل سے ہوتی ہے۔شرف ملاقات بخشنے میں بالکل سخی نہیں،غالبًا رفاق بھائی اور مستفیض بھائی کی کوششوں سے ایسا ممکن ہوا ۔معروف معنوں میں وہ حضرت کوئی عامل نہیں ہیں بلکہ صرف دعا کرتے ہیں اور حاضرین سے بھی کرواتے ہیں۔
نماز کی پابندی ، تلاوتِ قرآنِ پاک کا عہد لیتے اور ایک وظیفہ تلقین کرتے ہیں۔ مطیع صاحب دربار اکبری میں پیش ہوئے تو انہوں نے ان سے نماز کی پابندی ،تلاوتِ قرآنِ پاک اور وظیفے کی پابندی کا وعدہ لیا ،دعا کی اور فرمایا ’’اگر اس مریض کی زندگی باقی ہے تو اللہ اسے صحت دے گا”
اتنا تو ہمیں بھی پتا تھا لیکن؟۔۔۔سوچنے کا مقام ہے سوچتے رہنا چاہیے۔ !!

4f9a2916 3bae 4403 82c7 9a65237dae1b jpg

بہرحال مطیع صاحب نے ان کی باتوں کو خوب کس کر پلے باندھا، جب تک ان کے حواس مجتمع رہے اس عہد پر قائم رہے۔نمازوں کے وہ ایسے پابند ہوئے کہ جب وضو کے قابل نہ رہے تو تیمم کر کے نماز پڑھتے، اکثربیٹھ کر اور کبھی لیٹ کر بھی نماز پڑھ لیتے۔بعض دفعہ بے ہوشی کے عالم میں ’وضو اور نماز ‘میں ’مصروف ‘پائے گئے:
آؤ ایک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں ساغر کو خدا یاد نہیں
قرآن پاک سے اپنا ٹوٹا تعلق انہوں نے پھر استوار کر لیا تھا۔ عمومًا ہر نماز کے بعد چند آیات یا ایک چھوٹی سورت کی تلاوت کر لیتے۔ ان کی تجوید اور الفاظ کی ادائیگی بہت اچھی تھی۔ بتاتے تھے کہ ایلمنٹری کالج کوٹلی میں ایک استاد صاحب نے ہمیں قرآن پڑھنا سکھایا تھا۔ ان کا بڑے احترام سے ذکر کرتے ۔ برادرمِ مکرم کلیم الرحمن صاحب جو ایک عرصہ عرب دنیا میں رہے قرآن کی تلاوت بہت اچھی طرح سے بالکل عربی لہجے میں کرتے ہیں۔ ان سے فرمائش کر کے تلاوت سنا کرتے ،ان کی خوش الحانی کی تعریف کرتے اور کہتے کلیم کی تلاوت سن کر مجھے روحانی سکون حاصل ہوتا ہے۔
تلاوت کے بعد بعض اوقات مجھے حکم دیتے کہ ان آیات کا ترجمہ کرو میں ترجمہ کرتا تو بہت محظوظ ہوتے۔ ایک دن سورہ تکویر کی تلاوت کی اور اس کے بعد مجھے ترجمہ سنانے کی فرمائش کی ۔میں ترجمہ کرتے وقت جب آیت مبارکہ(عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا أَحْضَرَتْ)’’ اس دن ہر شخص جان لے گاجو وہ عمل کر کے لایاہو گا‘‘ پر پہنچا تو ان کے آنسو رواں ہو گئے۔ مجھے شرمندگی ہوئی کہ ترجمہ کرنے والے پر تو اثر نہیں ہے اور سامع رو رہا ہے۔ واقعی بابے ٹھیک فرماتے تھے ’’اپنے اپنے کان ہیں بھئی اپنے اپنے‘‘

تلاوت و نماز کے بعدبعض اوقات اجتماعی دعا کی فرمائش کرتے پھر کئی اساتذہ اور دوستوں کے لیے نام لے لے کر دعا کرواتے بالخصوص شاہ خالد بھائی ،ان کی والدہ مرحومہ اور بیروٹ کے بزرگ ،استاذ الاساتذہ آفتاب عباسی صاحب کے لیے صحت و سلامتی کی دعائیں کرتے۔اسی طرح عم زاد کلاں محترم ضیا ء الحق بھائی کا کافی ذکر فرماتے،خصوصا بیماری کے دنوں میں ان کی دیکھ بھال اور ’خدمت‘کا بہت زیادہ ذکر کرتے ۔بالکل اسی طرح نفیس بھائی کی مدارات و خدمات کا بہت دیر ذکر کرتے رہتے۔ان دنوں گزرے وقت کی بعض خاندانی شکر رنجییوں پہ کافی افسوس اور اظہار حسرت فرماتے۔
شاداب کالونی گڑھی شاہو میں ہمیں مُتَرْجِم و مفسرِ قرآن مولانا یوسف صلاح الدین رحمہ اللہ(صاحبِ احسن البیان) کے پڑوس میں رہنے کا شرف حاصل رہا ہے۔ مجھ سے پوچھاان سے ملاقات رہتی ہے۔ میں نے گھریلو مراسم اور اہلخانہ کے ، خانوادہ یوسفی سے تعلیمی استفادے کا ذکر کیا تو بہت خوش ہوئے اور ان سے ملاقات کی خواہش کااظہار کیا چنانچہ ایک شام ہم مولانا کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کی لائبریری دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور مطالعے کو مفید بنانے کے بارے میں ان سے اہم گفتگو کی۔
دوسری ملاقات ہوئی تو مولانا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ کافی دیر غور سے دیکھتے رہے پھر اچانک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اوراس دوران کہے جاتے تھے ’’میری زندگی رائگاں گئی‘‘ بعد َہ میں نے پوچھا کہ آپ ان کے ہاتھ کو اس قدر غور سے کیوں دیکھ رہے تھے؟ کہنے لگے ’’ میں سوچ رہا تھا کہ یہ ہاتھ کتنے خوش قسمت ہیں جنھوں نے قران پاک کا ترجمہ لکھا ہے”اتنی عقیدت ؟اللہ اکبر ۔۔۔۔ ان کو دیکھ کر اپنا اندر خالی اور کھوکھلا محسوس ہوا۔!!
ان کے درد کے لمحات بہت لمبے اور مصیبت سے بھرپور ہوتے تھے۔ ایک دفعہ کسی نے میسج کیا کہ درد تو نہیں ہوتا تو اسے لکھ بھیجا : ’’درد ؟ نہ بھیا ،بس اک آسمان زمیں پر اترا‘‘ ! لیکن حالت درد میں زبان سے اظہار نہ کرتے اور حتی الامکان برداشت کرتے ۔وہ خاندان بھر میں بہادر مشہور تھے، یہ بہادری بھی بڑی ظالم چیز ہے انسان کھل کے رو بھی نہیں سکتا،حالانکہ چوٹ بہادر کے بھی لگتی ہے وہ کوئی پتھر کا تھوڑے ہی ہوتا ہے ،مطیع صاحب کا ان دنوں کا ایک شعر اس بہادرانہ المناکی کو یوں بیان کرتا ہے:
کہاں کیا وہ چیتے سا جگر کیا کہیے
کسی کو زخم جگر دکھائیے تو کیا کہیے

بہرحال لمحاتِ درد میں درود شریف ان کی زبان پر جاری و ساری رہتا، گاہے گاہے کلماتِ استغفار، (رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا) (اَللّهُمَّ اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَ لِاُستَاذِی)کے ذریعے بھی بارگاہ ایزدی میں عرض گزار ہوتے۔ اور کبھی آیات مبارکہ(إِنَّ الَّذِین قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا)کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے۔
ٹھیٹھ مذہبی تعلق ان کی زندگی میں دو رہے ،ایک دربار عیدگاہ شریف سے اور دوسرا تنظیم اسلامی سے، نقیب الرحمن صاحب سے درودپاک اور ڈاکٹر اسرار احمد سے قرآن پاک کا تحفہ ملا تھا، ایک ذریعہ ہے اللہ سے تعلق کا اور دوسرا رسول ؐ سے تعلق کا ،بس آخری دَور میں ان دونوں کنڈوں کو تھامے رکھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی زندگی کا یہ دَور ’’مجمع البحرین‘‘ کی شان کا حامل ہے جس میں طریقت و شریعت دونوں کی جھلک پائی جاتی ہے۔
جب درد کے عالم میں درود شریف پڑھتے تو ہمیں بھی اس کا حکم دیتے ایک دن مجھ سے کہنے لگے ’’مجھے دَم کرو‘‘ میں حیران ،میں کیا دم کروں؟ اور سچی بات یہ ہے کہ میں نے نہ تو کسی کو دم کیا کبھی اور نہ مجھے کوئی دم آتا تھا میں پریشان ہو گیا پھر انہیں درود پڑھتے دیکھ کر میں نے بھی درود پڑھناشروع کر دیا۔ جب وہ خود کوپھونکتے تو میں بھی پھونک دیتا اور تھوڑی دیر بعدانہیں آرام ہو گیا۔ آرام تو انہیں اپنے پڑھے ہی کا ہوتا تھا لیکن اس کا ’ الزام ‘ وہ ہمیں دینے لگے اور باقاعدگی سے دم کرانے لگے ۔پہلے تو ہم خوش ہوئے کہ چلو ہمارا بھی دم چلنے لگا ہے لیکن بعد میں پتا چلا کہ یہ دم توہمیں درود شریف پڑھانے کا بہانہ تھا۔ درود شریف کی عظمت کے وہ بہت قائل تھے۔ چند دوست ان سے ملنے آئے تو ان کے سامنے بھی درود کی عظمت بیان کی مجھ سے کہنے لگے ’’جب ہم بیروٹ جائیں گے تو میں اپنے دوستوں کو بلاؤں گا اور ہم بذریعہ ٹرین جائیں گے اور راستے میں ہم بہت ساری باتیں کریں گے ہم اللہ کی باتیں کریں گے ،اسے خوش کرنے کی باتیں کریں گے، ہم درود کے بارے میں باتیں کریں گے۔ میرے دوست بہت اچھے ہیں وہ یقینا میری ان باتوں سے خوش ہوں گے اور ہم سب مل کر دین کے رستے پر آگے بڑھیں گے،، لیکن پھر کیا ہوا کہ وہ ’ آگے ہی بڑھ ‘گئے۔ع
جو بانٹتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے

ایک رات ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی ۔ہم ہسپتال لے جانے کے لیے گاڑی لے کر آئے تو انہوں نے ہسپتال چلنے سے انکار کردیا۔اس دن وہ، وجد و حال و جلال میں تھے ۔ بار بار کی منتوں کے باوجود ہسپتال جانے پر راضی نہ ہوئے کہنے لگے ’’ تم لوگ مجھے درو د اور ذکر کی تلقین کرتے رہتے ہو تمہارا خود ان چیزوں پر یقین نہیں ہے ۔آج میں ہسپتال نہیں جاوں گا ۔ادھر بیٹھ کر سب لوگ درود پڑھو میں بھی پڑھتا ہوں اگر درود پڑھنے سے مجھے آرام ہو گیا تو میں خوش قسمت اور اگر میں درود پڑھتے پڑھتے مر گیا تب بھی خوش قسمت‘‘ ۔میں حیران رہ گیا ’’ارے یہ تو(إِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ )کے قائل نکلے۔ تمام گھر والے ان کی حالت پر رو رہے تھے بہرحال کچھ نہ کچھ پڑھنے میں مصروف ہو گئے ۔تھوڑی دیر بعد انہیں آرام آگیا اوراب وہ رونے والوں کو ہنسارہے تھے!!

download 2 jpgپمز اسپتال اسلام آباد
علاج کے سلسلے میں ہم انہیں جھوٹی تسلیاں دینے کی کوشش کرتے رہتے لیکن وہ اپنے مرض کی ہولناکی اور شدت سے واقف تھے۔انہیں یہ بھی معلوم ہو چکا تھا کہ ڈاکٹر نے انہیں لا علاج قرار دیا ہے۔ان دنوں کا ایک شعر :
لاکھ کوشش کرو رہے سرسبز و شاداب
جس کی قسمت میں ہے جلنا وہ جلے گا
اس کے باوجود کبھی حوصلہ نہ ہارا،بلکہ تمام مشکلات کو نہ صرف ہنس کر بلکہ ہنسا کر گوارا کیا۔ان کے ایام مرض کی ظرافت و لطائف اگر جمع کیے جائیں تو کئی صفحات درکار ہوں لیکن یہ اس وقت مشکل ہے، کیا عجیب شخص تھا:
غم سے بہل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں
درد میں ڈھل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں

شیخ زائد ہسپتال میں ایک دن آصف علی حیدرؔ، ندیم سہیل، شہرام اقبال اور حسان ادریس عبدالسلام ملاقات کو آئے ۔آصف، ندیم، اور مطیع صاحب کی بذلہ سنجی ، شہرام اقبال کی متانت اور حسان کے بھولپن نے وہ سماں باندھ دیا کہ وارڈ ’چوپال‘ کا منظر پیش کرنے لگا ۔اپنی ذات تک سے بیزار مریض ’’عَلَی جُنُوبهم‘‘ محظوظ ہونے لگے۔ ان کی آنکھوں میں زندگی دِکھنے لگی، قریب تھا کہ وہ شفا پانے لگتے کہ نرسوں کی مداخلت بیجا نے یہ بزم مسیحائی مزید جاری رکھنے کی اجازت نہ دی ۔ مطیع صاحب یہ محفل طرب اختتام پذیر کرنے کو تیار نہ تھے بلکہ ہسپتال کے عقبی صحن میں جا کر محفل آرائی کا اعلان کیا ۔ نرس کو خود بلایا اور شام کی دوائی جلد لے کر اس اہم فریضے سے سبکدوش ہوئے اور ہم وارڈ سے نکل کر صحن کی طرف چلے۔ ندیم سہیل اور دیگر ساتھیوں نے ہمیں صحن میں چھوڑا اور خود ہمارے لیے افطار کا سامان لینے چلے گئے ۔ آم کا موسم چل رہا تھا دیگر اشیائے خورد و نوش کے علاوہ وہ لوگ بہت سارے آم کاٹ لائے تھے ۔ جب آموں کے ساتھ پورا انصاف ہو چکا تو حسان ادریس نے ایک بڑے حجم کا ایک سالم آم نکالا اور کہنے لگا ’’ یہ میں نے کٹوایا نہیں تھا کہ شاید کوئی چوسنا پسند کرے پھر مطیع بھائی کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا ’’ اگر یہ آپ چوسیں تو مجھے خوشی ہو گی ‘‘ مطیع بھائی نے آم لیا اور کہا ’’ اللہ آپ کو ایسی ہزاروں خوشیاں نصیب کرے‘‘ ۔
افطار و نماز کے بعد محفل از سر نو پیراستہ کی گئی۔ آصف علی کے بال بہت ہی گھنے ہیں اسے کہنے لگے ’’ آپ کے بال ہیں کہ وبال‘‘ ہلکے پھلکے مذاق اور نوک جھونک کے بعد ادبی گفتگو بھی ہوئی اور دینی موضوع پر بھی بات چلی، ۔کہنے لگے ’’ہمیں اپنی عبادت کو اپنے اور ا پنے رب کے درمیان رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے‘‘۔ ہم حیران تھے کہ یا خدا ،عبادت تواللہ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے وہ رکاوٹ کیسی؟ ہماری حیرت دیکھ کر کہنے لگے ’’جب انسان کو عمل کی توفق دے دی جاتی ہے تو انسان خود کو نیک سمجھنا شروع ہو جاتا ہے او ر توفیق بخشنے والی ذاتِ باری تعالی کو بھول جاتا ہے ۔یہی حجابِ اکبر ہے جس کی اگلی منزل اپنی عبادت پر فخر و اتراہٹ ہے‘‘۔
سانس سیدھی کر نے کے بعد کہنے لگے ’’میں کچھ عرصے سے نماز و تلاوت کی پابندی کر رہا ہوں تو خیال رہنے لگا کہ اب تو مرتے وقت کلمے کی توفیق مل ہی جائے گی۔ لیکن میری یہ غلط فہمی دور ہوگئی۔ کل مجھے شدید تکلیف ہوئی اور لگا کہ میں مرنے لگا ہوں۔ میں نے بہت کوشش کی کہ کلمہ طیبہ پڑھ سکوں لیکن میری زبان نے ساتھ نہ دیا تب میں نے جان لیا کہ یہ توفیق اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور اس پر کسی کا استحقاق نہیں ۔وہ جسے چاہتاہے اسے دیتا ہے پس اللہ سے توفیق مانگتے رہنا چاہیے‘‘۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
یہ ایک یاد گار نشست تھی ۔ آصف علی نے بہت سی محفلوں میں یہ ذکر کیا کہ میں نے اتنا بہادر شخص نہیں دیکھا کہ جس کے مرنے میں چند دن باقی ہوں وہ اس بات سے واقف ہو اور پھر وہ اتنا ہنسے اور ہنسائے۔

’’میں بہت کچھ کر سکتا تھا لیکن میں وہ سب نہ کر سکا ‘‘یہ تاسف و پچھتاوے کا جملہ انہوں نے شاہ خالد بھائی کے سامنے ادا کیا ’’مثلا ‘‘؟انہوں نے پوچھا ’’مثلًا میں کئی لوگوں میں صلح کر اسکتا تھا، معاشرے میں پھیلے ہوئے خاندانی و نسلی تعصب کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا تھالیکن آہ ہ ہ ہا۔۔۔۔،،
انسان کی عظمت اسی میں ہے کہ کچھ کر کے بھی سمجھے میں نے کچھ نہیں کیا ایسا پچھتاوا تو کئی جلیل القدر ہستیوں سے منقول ہے۔ اور خبر نبیؐ کے مطابق اہل جنت بھی اس احساس زیاں سے خالی نہ ہوں گے گویا یہ جنتی لوگوں کا احساس ہے۔انسان وہ سب کچھ نہیں کر سکتا جو کرنا چاہیے یا جو وہ کرنا چاہے،ہاں کچھ نہ کچھ ”ہاؤ ہو” بہرحال چاہیے:

لے آئے احساس زیاں کا اور بھلا کیا کرتے
خوب کہی کچھ نہ کرنے کی ہم نے کب آرام کیا
اسی’ فکر ضیاع‘کے تحت انہوں نے اپنی لازوال نظم ’’مجھے بیروٹ کہتے ہیں ‘‘ تخلیق کی جس میں انہوں نے اپنے گاؤں والوں کو ایک اہم پیغام، تعصب کے خاتمے کا دینے کی کوشش کی ہے۔
یہ ملال انہیں رہا کہ وہ تنظیم اسلامی کی دعوت کے لیے زیادہ کام نہ کر سکے ۔ایک دن کہنے لگے ’’ہم نے کس سنہ میں تنظیم کی بیعت کی تھی ‘‘ میں نے کہا ’’دو ہزار میں ‘‘کہنے لگے ’’تیرہ سال ہم نے ضائع کر دیئے‘‘۔
ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے دیرینہ ساتھی ، بقیۃ السّلف ، محترم رحمت اللہ بٹر صاحب، موصوف کی عیادت کو تشریف لائے تو انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔تنظیم ا سلامی کے ساتھ اپنے متحرک تعلق کے دَور میں وہ بٹر صاحب کے لیکچر سن چکے تھے۔کہنے لگے ’’میں آپ لوگوں سے دُور تو ہو گیا تھا لیکن آپ میرے دل سے کبھی نکلے نہیں۔ میں نے آپ کی بتائی ایک بات پلے باندھ لی ہے اور وہ یہ کہ اللہ سے حساب کتاب کے چکر میں نہ پڑو بس اس سے مغفرت کی درخواست کرتے رہو بس میں اب اسی پر عمل پیرا ہوں،،
جب بٹر صاحب رخصت ہونے لگے تو ان کے منع کرنے اور سخت تکلیف کے باوجود باہر تک انہیں چھوڑنے آئے اور کہنے لگے میں آپ کا درس سننے پھر آؤں گا۔

تنظیم اسلامی کے دیگر اکابرین کی طرح بٹر صاحب بھی رمضان میں تراویح کے ساتھ ، قرآن حکیم کی مختصر تشریح(دورہ ترجمہ قرآن) بیان کرتے ہیں۔مطیع صاحب کو پتا چلا کہ دو دن بعد ان کا ختم قرآن ہے تو مجھ سے کہنے لگے ’’ گاڑی کا بندوبست کرو میں ان کے دورہ ترجمہ قرآن کی آخری نشست میں شرکت کرنا چاہتا ہوں‘‘۔
بٹر صاحب کو پتا چلا تو انہوں نے افطاری کی دعوت دے دی چنانچہ ہم پہلے ان کے گھر حاضر ہوئے افطار کا اہتمام روایتی پنجابی اچار اور دیگر لوازمات کے ساتھ تھا۔ سادگی و وقار سے بہت متاثر ہوئے افطاری کے بعد بٹر صاحب کہنے لگے آپ کے آنے کی بہت خوشی ہوئی برجستہ کہا ’’اللہ آپ کو ایسی ہزاروں خوشیاں نصیب فرمائے‘‘۔
دورہ ترجمہ کا اہتمام ایک معروف ہال میں تھا۔ منتظمین نے انہیں ایک آرام دہ صوفہ مہیا کردیا۔اگرچہ طبیعت کچھ بہتر نہ تھی اور پاؤں سمیت جسم کے نچلے حصے پر کافی سوجن ہورہی تھی لیکن تمام تر درد و الم کے باوجود دورہ ترجمہ میں شامل ہوئے اور اختتامی دعا کے بعد بٹر صاحب سے اجازت طلب کر کے واپس ہوئے۔
راستے میں ایک گل فروش کی دکان سے پھول خریدے اور تصویر کھنچوائی۔

e5925305 472c 4068 b3b0 b14d505d730b jpg

آخری دنوں میں یہ حدیث بار بار سناتے کہ:’’ ایک آدمی نیکی کے رستے پر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت اور اس کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھا غالب آجاتا ہے اور وہ کوئی ایسی حرکت کربیٹھتا ہے کہ دوزخ میں جا پڑتا ہے۔ اور ایک آدمی بدی کے رستے پر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ دوزخ اور اس کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھا غالب آجاتا ہے اوروہ کوئی ایسا عمل کرنے لگ جاتاہے کہ جنت کا مستحق بن جاتا ہے‘‘۔میں نے خالدصاحب سے مطیع صاحب کے بار بار اس حدیث سنانے کا ذکر کیا تو فرمانے لگے” میں نے تو اسے دوسری حدیث سنائی تھی کہ:
’’قیامت کے دن اللہ تعالی ایک شخص کو دوزخ میں داخل ہو نے کا حکم دیں گے۔ جب وہ دوزخ کے کنارے پہنچے گا تو پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتے ہوئے کہے گا ’’اے میرے رب میں اپنے معاملے میں تجھ سے بہت خوش گمانی رکھتا ہوں‘‘ (کہ تو مجھے معاف کر دے گا) پس اللہ اسے لوٹنے کا حکم دیں گے اور فرمائیں گے ’’میں بندے کے اپنے بارے میں کیے گئے حسنِ ظن کے مطابق ہی سلوک کرتا ہوں پس اس شخص کی مغفرت فرما دی جائے گی‘‘
لیکن وہ بار بار پہلی حدیث کا ذکر کرتے اس سے ان کا احساس جھلکتا ہے۔

یہ نیت بھی انہوں نے کی تھی کہ اگر صحت مل گئی تو بیت اللہ میں حاضری دوں گا۔خود تو حاضر نہ ہو سکے لیکن شاید ان کی نیت کی سچائی تھی کہ عم زادِ محترم حاجی ریاض حسین صاحب، مقیم حال مدینہ کے دل میں اللہ نے بات ڈال دی اور انہوں نے ان کے نام کا عمرہ کیا، سن کر بہت خوش ہوئے اور اپنی آخری نظم ’’مجھے بیروٹ کہتے ہیں ‘‘میں خصوصیت کے ساتھ اس کا ذکر کیا ۔وہ حاجی صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہتے تھے لیکن فون پر بات نہ کر پاتے البتہ ’’نیم بے ہوشی‘‘ کے عالم میں بعض دفعہ ان کا شکریہ ادا کیا۔

موت سے چند دن قبل نیند سے بیدار ہوئے توکہنے لگے میں کہاں ہو ں کلیم بھائی نے جواب دیا کہ راولپنڈی میں ، کہنے لگے کیا راولپنڈی پاکستان میں ہے؟ انہوں نے جواباً کہا راولپنڈی پاکستان میں ہے۔ کہنے لگے کیا یہ ممکن ہے کہ میں تھوڑی دیر پہلے حرم میں اعتکاف کیے ہوئےہوں؟ کلیم بھائی نے کہا ’’ آپ جسمانی طور پرتو ادھر ہی تھے روحانی طور پر ممکن ہے آپ نے عمرے کا تجربہ کیا ہو‘‘ استعجاباً گردن ہلا کر خاموش رہے۔ کلیم صاحب کرید کر پوچھنا تو چاہتے تھے لیکن ان کی تکلیف کے پیش نظر پوچھنے سے گریز کیا۔
انہی دنوں مجھ سے کہاکہ میں نے داڑھی بھی رکھ لی ہے اور اگر بچ گیا تو بہتر انداز میں دین کی خدمت کروں گا۔انہی ایام میں برادر کلاں حبیب الرحمن صاحب سے کہنے لگے ’’میں نے رسول اللہﷺ کو خواب میں دیکھا ہے فرماتے ہیں کہ’’ اٹھ کر غسل کرو اور تلاوت کرو‘‘ بھائی کی آنکھوں میں شک کے آثار دیکھے تو کلمہ پڑھ کر کہنے لگے ’’میں نے واقعی اللہ کے رسول ﷺ ہی کو دیکھا ہے‘‘۔

جس دن انتقال فرمایا اس صبح مجھ سے کہنے لگے مجھے گھر لے چلو، میں نے عرض کیا کہ ڈاکٹر شاید کل ڈسچارج کر دے ، نہیں تو پرسوں ہم چلے چلیں گے کہنے لگے اگر میں پرسوں تک مر جاؤں تو کیا ہو گا؟ کلیم بھائی سے بھی کہاکہ مجھے گھر لے چلو ،انہوں نے پوچھا گھر چل کر کیا کریں گے۔کہنے لگے ’’ پانچ وقت نماز پڑھوں گا‘‘۔

اسی دن برادر واجد حسین صاحب ایبٹ آباد سے ہو کر ہسپتال میں آئے وہ ان کی ملاقات کے بعد بیروٹ جانا چاہتے تھے انہیں روکا تو انہوں نے معذوری ظاہر کی ،کہنے لگے ’’ تم ہمیشہ بھاگ جاتے ہو آج مت بھاگنا آج تم مجھے ساتھ لے کر جاؤ گے ‘‘ انہوں نے کہا آپ کو تو ڈاکٹر نے ڈسچارج ہی نہیں کیا کہنے لگے ’’ آج تم میرے جنازے کے ساتھ چلو گے‘‘

download 1 1
انتقال سے کچھ وقت پہلے گھبراہٹ کا اظہار کیا اورہسپتال کے صحن میں جانے کی فرمائش کی ۔برادر عدیل حسین، واجد حسین اور کلیم الرحمن صاحبان انہیں صحن میں لے گئے۔کلیم بھائی سے کہنے لگے مجھے وارڈ میں موت نظر آرہی ہے۔ پھر کچھ دیر اھر ادھر کی باتیں کیں یہاں تک کہ ہنسنا ہنسانا شروع کیا ۔یہیں بیٹھے بیٹھے ان پرحملہ ہوا شاید درد کا تھا یا کسی اور کا، ان کے یہ الفاظ بھی سنے گئے کہ ’’وہ تومجھے چھوڑ کے چلی گئی ہے‘‘ بعض سیانوں کا کہنا یہ بھی ہے کہ آخری وقت میں بیماری چھوڑ کے چلی جاتی ہے اور اس کے چلے جانے کا احساس بھی ہوتا ہے ۔

سیانوں کے کہنے کے مطابق ہو سکتا ہے کہ اس وقت وہ عالم بالا سے کوئی بُلاوا سن رہے ہوں، آخری دنوں نیند میں والد مرحوم کو آوازیں بھی دیتے سنے جاتے رہے۔
صحن میں بیٹھے بیٹھے ہی انھوں نے دھیمی آواز میں ’’لا الہ الا اللہ‘‘کا ورد شروع کردیا۔ کسی نے لقمہ دیا تو” محمد الرسول اللہ” بھی پڑھنے لگے، پھر درود شریف پڑھنے لگے تقریباً پندرہ بیس منٹ تک درود میں مشغول رہے۔ پھر اچانک کہا کہ مجھے وارڈ میں لے چلو۔ساتھ والوں نے ٹالنے کی کوشش کی کہ وارڈ میں جا کر پھر باہر کی ضد کریں گے،لیکن انہوں نے اصرار جاری رکھا، چنانچہ انہیں وارڈ میں لے جایا گیا۔ وارڈ میں جا کر کہا کہ مجھے آکسیجن لگواؤ، آکسیجن لگوائی تو کہنے لگے یہ ماسک مناسب نہیں نرس سے کہو مریض کی ناک بڑی ہے دوسرا ماسک لگواؤ، دوسرا ماسک لگوایا گیا تو نزع کا عالم شروع ہو چکا تھا۔ ہم لوگوں نے جلدی جلدی وضو کیا ۔ شاہ خالد بھائی بھی آن پہنچے تھے تھوڑی دیر بعد سورہ یاسین، سور ہ واقعہ اور سورہ رحمن کے سائے لہرانے لگے اور پھر۔۔۔۔۔ڈاکٹر نے آ کر دوسرا ماسک بھی اتار دیا کہ اب انہیں سانس لینے کے لیے کسی ماسک کی ضرورت نہ تھی!!

حتمیت کے ساتھ کسی کو چاہے جنتی ہی قرار دیا جائے شرعًا ممنوع ہے۔ مگر استثنا کے ساتھ کہا جاسکتا ہے سو مجھے مطیع صاحب جنتی نظر آتے ہیں اگر اللہ نے چاہا تو،میں کبھی سوچتا ہوں وہ کافی فائدے میں رہے ، زندگی کا کافی بڑا حصہ رِند رہے اور جنت بھی ہاتھ سے نہ گئی !!نبی اکرم ؐ کے وہ الفاظ جو آپ نے ایک نو مسلم، مقتول فی سبیل اللہ کے بارے میں ارشاد فرمائے تھے ان پر بھی صادق آتے ہیں(عَمِلَ قَلِیلاً وَأُجِرَ کَثِیرًا) ” عمل تھوڑا کیا اور اجر بڑا پا یا ”
( واللہ اعلم بالحقیقہ ، اللھم اغفر لہ وارحمہ)

(سہ ماہی ‘ شعر وسخن ‘ شمارہ نمبر ٥٧، بابت ماہ اپریل تا جون 2014 ء میں شائع ہوا)

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481