اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نئے چیف جسٹس از خود نوٹس کا اختیار چھوڑنے کے لیے تیار؟

حلف اٹھاتے ہی چیف جسٹس کا بڑا فیصلہ،فل کورٹ تشکیل

نئے چیف جسٹس  قاضی فائز عیسٰی نے از خود نوٹس کا اختیار چھوڑنے کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ ایسا اختیار نہیں چاہیئے جس سے مفاد عامہ کا نقصان ہو ،انہوں نے کہا کہ ریکوڈک کیس میں ملک کو ساڑھے چھ ارب ڈالر کا جھٹکا لگا۔ یہ بات انہوں نے پیر کے روز براہ راست نشر ہونے والی عدالتی کارروائی کے دوران اپنے ریمارکس میں کہی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ اف پاکستان ملک کی عدالتی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر رہی ہے جس کے تحت عدالت عظمی کے 15 ججز پر مشتمل فل کورٹ بینچ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ  کیس کی سماعت کر رہا ہے ۔

KUF Protest jpg

فل کورٹ بینچ  میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا اختیار نہیں چاہتا جس سے عدلیہ کی ازادی کمپرومائز ہو یا پھر مفاد عامہ کی آڑ میں ذاتی ایجنڈے کو پروان چڑھایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر فل کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت حکم امتناع کو برقرار رکھتی ہے تو چیف جسٹس کے طور پر اس کا انہیں ہی فائدہ ہوگا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ریکوڈک کے معاملے پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا جس کے نتیجے میں پاکستان کو چھ ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی براہ راست نشر، فل کورٹ بنانے کی درخواستیں قابل سماعت قرار

پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی براہ راست نشر، فل کورٹ بنانے کی درخواستیں قابل سماعت قرار

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ ہم اس قانون سے بھی پہلے اوپر والے کو جواب دے ہیں کیونکہ ہمارا ائین سپریم کورٹ سے نہیں اللہ کے نام سے شروع ہوتا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی ماضی کی غلطیاں تسلیم کرنا ہوں گی اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ائین دھرا رہ جائے گا۔

جسٹس قاضی فائض عیسی نے کہا کہ فل کورٹ اجلاس 2019 سے اب تک نہیں ہوا اور عالم یہ ہے کہ زیر انتبا مقدمات کی تعداد 40 ہزار سے بڑھ کر 60 ہزار ہو گئی ہے ۔
اگر ہم نے یہ سب کام نہیں کرنے تو پھر سرکار سے پیسہ کیوں لے رہے ہیں ۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایکٹ کی دفعہ دو کے تحت چیف جسٹس اف پاکستان کے اختیارات کو تقسیم کیا گیا جس پر جسٹس قاضی فائض عیسی کرنے کا کہ یہ کہیں کہ چیف جسٹس کا بوجھ بانٹا گیا۔

 

 

 

New Chief Justice ready to give up  suo moto notice power?نئے چیف جسٹس از خود نوٹس کا اختیار چھوڑنے کے لیے تیار؟


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481