ایف آئی اے حکام نے شمس آباد مری روڈپر راولپنڈی میں واقع نو تعمیر شدہ برج نور پلازہ کے تہہ خانے سے کروڑوں روپے کرنسی بر آمدگی کا آپریشن اٹھارہ گھنٹے میں مکمل کیا،تاہم اس طویل آپریشن کا کیا نتیجہ نکلا، کتنی رقم برآمد ہوئی؟ گذشتہ روز حراست میں لئے گئے دو افراد کو کیوں چھوڑ دیا گیا؟ ان سے کیا ضمانت لی گئی؟ یہ اور اس جیسے بے شمار سوالات ابھی تک تشبنہ جواب ہیں۔
اگرچہ سرکاری طور پر اس آپریشن کے نتائج کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تاہم تفتیشی ذرائع کا غیر مصدقہ دعوٰی ہے کہ اس دوران ساٹھ کروڑ روپے برآمد ہوئے، واضح رہے کہ گذشتہ روز ممکنہ طور پر برآمد ہونے والی رقم کا تخمینہ سات ارب لگایا گیا تھا تاہم ایف آئی اے ذرائع کے مطابق پلازہ کے مالک شیخ افتخار عادل جو ایک میڈیا ہاؤس (روزنامہ اساس) کے بھی مالک ہیں ،ان کے اور ایف آئی اے حکام کے درمیان رات گئے مذاکرات ہوئے جس پر افتخار عادل نے اپنے تحفظ میں منی ٹریل پیش کر دی۔
ذرائع کے مطابق پلازہ مالک کی جانب سے دعوٰی کیا گیاکہ برآمد شدہ رقم دراصل دو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے درمیان ڈیل سے ملنے والی رقم تھی، ذرائع کا کہنا ہے کہ بر آمد ہونے والی رقم اور دیگر دستاویزات ایف آئی اے ٹیم نے قبضہ میں لے لی ہیں،ایف آئی اے دفتر میں ایف بی آر اور دیگر ادارے، مالکان رقم اور دستاویزات کا معائنہ کریں گے، جس کے بعد رقوم کی تصدیق کی جائے گی۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز ایف آئی اے کے اس آپریشن کے حوالے سے ہوشربا اور افسانوی قسم کی داستانیں سامنے آئی تھیں۔ اس حوالے سے موقر اردو روزنامے دنیا نیوز میں شائع ہونے والی رپورٹ میں دعوٰی کیا گیا تھا کہ ڈالر سمگلنگ کے خلاف ایف آئی اے کی بڑی کارروائی کے دوران راولپنڈی میں برج نور پلازہ کے تہہ خانے سے نوٹوں کا خزانہ نکل آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نوٹ چھپانے کیلئےکنسٹرکشن کا فالتو سامان رکھا گیا تھا۔ ایف ائی اے کی چھاپہ مار ٹیم نے دیوار کو ٹھونکا تو گونجدار اواز نکلی جسے توڑنے پر خفیہ دروازہ کھل گیا جس میں سے صرف جھک کر گزرا جا سکتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اندر بڑے سائز کےآہنی لاکرز دیوار میں چنے گئے تھے ۔جدید طرز کے یہ ڈیجیٹل لاکر صرف مخصوص خواتین کی فنگر پرنٹس سے ہی کھلتے تھے۔یہاں جدید نوعیت کا سیکیورٹی سسٹم اور کیمرے نصب تھے۔رپورٹ کے مطابق 13 لاکرز سے رقوم رات گئے تک نکالی جاتی رہیں اور صرف ایک مقام سے 40 کروڑ روپے برآمد ہوئے۔اس کارروائی کے دوران دو افراد کو گرفتار کیا گیا ۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس اپریشن سے پہلے ایک ہفتے تک ایف ائی اے کی ٹیم مذکورہ نو تعمیر شدہ عمارت کی ریکی کرتی رہی ۔
دیواروں میں نصب جدید ڈیجیٹل لاکرز
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذکورہ خفیہ لاکرز بنانے کے لیے جگہ ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت رکھی گئی تھی جہاں براہ راست گاڑی پہنچ سکتی تھی۔پلازہ کے دکاندار اور آس پاس موجود لوگ بھی اس بات پر حیران تھے کہ یہاں اتنا جدید سسٹم نصب ہے اور اتنی بڑی رقم موجود ہے حالانکہ یہاں کوئی ایسی بڑی کاروباری سرگرمی یا آمد و رفت نہیں تھی۔واضح رہے کہ مذکورہ پلازے کے مالکان میڈیا سے بھی وابستہ ہیں جبکہ وہ ہاؤسنگ سوسائٹی کا کام کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اتنی بڑی رقم کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارنے والی ٹیم نے مقامی پولیس کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنر سٹی اور دیگر حکام کو بھی طلب کر لیا ۔پولیس کی بھاری نفری اور ایلیٹ کوک رسپانس فورس نے شاپنگ کمپلیکس کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔
How much currency was found in the basement of Murree Road Plaza?مری روڈپلازہ کےتہہ خانے سے کرنسی کا کتنا بڑا خزانہ نکلا؟



