مری، گلیات، سرکل بکوٹ، لورہ اور کشمیر کی سرحد کے دونوں جانب بولی جانے والی زبان کو "پہاڑی زبان” کا نام دیا جاتا ہے۔ لیکن ضلع ایبٹ آباد کی حدود میں سرکل بکوٹ، لورہ اور گلیات کی اس پہاڑی کو بعض ہندکو اہلِ علم و ادب کیا اس لیے "پہاڑی ہندکو” کہنے لگے ہیں کہ اس وسیع پہاڑی علاقے کا انتظامی مرکز انگریز کے دور میں خطہ کشمیر اور پوٹھوہار سے الگ کر کے ایبٹ آباد بنا دیا گیاِ؟ جہاں کی مقامی زبان ہندکو ہے۔
جبکہ پہاڑی زبان پوٹھواری زبان کا ہی ایک عکس ہے۔
ہندکو زبان کی اس زبان سے مناسبت بہت کمزور ہے۔ اول تو اس زبان کےساتھ کوٸی لاحقہ لگانا ہی نہیں چاہیے اور اگر لگاٸے بغیر چین نہیں پڑتا تو اسے "پہاڑی پوٹھوہاری” کیوں نہ کہا جائے؟۔ کیا مری والے اور کشمیر کے لوگ بھی پہاڑی کو "پہاڑی ہندکو” کہتے ہیں؟
خدارا اس زبان کو پہاڑی ہی رہنے دیجیے اور انتظامی امور کے واسطے کی گٸی جغرافیائی تقسیم کے نام پر پہاڑی کے ساتھ کوٸی بھی لاحقہ نہ لگاٸیں ورنہ اس زبان کا ادبی اور علمی سرمایہ بھی پہاڑی ہندکو، پہاڑی کشمیری۔۔۔۔۔ پہاڑی۔۔۔۔۔ پہاڑی ۔۔۔۔۔ میں تقسیم ہو جاٸے گا۔
اور زبان تو اہلِ زبان کی تہذیب و ثقافت کا آئینہ ہوتی ہے تو کیا ہمیں دو دو آئینوں میں اپنا چہرہ دیکھنا ہو گا۔۔۔
سعد اللہ سورج کا تعلق ایبٹ آباد کے سرکل بکوٹ کے گاؤں بکوٹ شریف سے ہے ۔وہ درس و تدریس کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور عمدہ شاعر ہیں۔ان کے ایک سے زائد شعری مجموعے منآصع شہود پر آ چکے ہیں۔ تازہ مجموعہ "من تو شدم” بھی مقبولیت کی سند حاصل کر چکا ہے۔
سعداللہ سورج کی ایک خوبصورت غزل قارئین کوہسار کی نذر ہے۔
کیا خواب تھا جو رات گئے چُھو کے گیا ہے
سُورجؔ کوئی آسیب تُجھے چُھو کے گیا ہے
ٹُوٹی ہُوئی زنجیر پہ بھی میرا لہُو تھا
اِک تِیر بھی رستے میں مُجھے چُھو کے گیا ہے
وہ پاس سے گُزرا ہے سو میں ہو گیا پُرنور
پُرنور بھی اِتنا کہ لگے چُھو کے گیا ہے
اِک میں کہ ترا درد میری رُوح میں اُترا
اِک تُو کہ مرا درد تُجھے چُھو کے گیا ہے
کل بھی وہ تُجھے ڈُھونڈنے آئے گا کہ پِھر آج
سورج تری دُنیا کے سِرے چُھو کے گیا ہے


