اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پہاڑی ہندکو کیوں؟ سعد اللہ سورج

225713569 4607195692646455 8811158736771591645 n
376803174 7080549075311092 5847529717991385988 n jpg
مری، گلیات، سرکل بکوٹ، لورہ اور کشمیر کی سرحد کے دونوں جانب بولی جانے والی زبان کو "پہاڑی زبان” کا نام دیا جاتا ہے۔ لیکن ضلع ایبٹ آباد کی حدود میں سرکل بکوٹ، لورہ اور گلیات کی اس پہاڑی کو بعض ہندکو اہلِ علم و ادب کیا اس لیے "پہاڑی ہندکو” کہنے لگے ہیں کہ اس وسیع پہاڑی علاقے کا انتظامی مرکز انگریز کے دور میں خطہ کشمیر اور پوٹھوہار سے الگ کر کے ایبٹ آباد بنا دیا گیاِ؟ جہاں کی مقامی زبان ہندکو ہے۔
جبکہ پہاڑی زبان پوٹھواری زبان کا ہی ایک عکس ہے۔
ہندکو زبان کی اس زبان سے مناسبت بہت کمزور ہے۔ اول تو اس زبان کےساتھ کوٸی لاحقہ لگانا ہی نہیں چاہیے اور اگر لگاٸے بغیر چین نہیں پڑتا تو اسے "پہاڑی پوٹھوہاری” کیوں نہ کہا جائے؟۔ کیا مری والے اور کشمیر کے لوگ بھی پہاڑی کو "پہاڑی ہندکو” کہتے ہیں؟
خدارا اس زبان کو پہاڑی ہی رہنے دیجیے اور انتظامی امور کے واسطے کی گٸی جغرافیائی تقسیم کے نام پر پہاڑی کے ساتھ کوٸی بھی لاحقہ نہ لگاٸیں ورنہ اس زبان کا ادبی اور علمی سرمایہ بھی پہاڑی ہندکو، پہاڑی کشمیری۔۔۔۔۔ پہاڑی۔۔۔۔۔ پہاڑی ۔۔۔۔۔ میں تقسیم ہو جاٸے گا۔
اور زبان تو اہلِ زبان کی تہذیب و ثقافت کا آئینہ ہوتی ہے تو کیا ہمیں دو دو آئینوں میں اپنا چہرہ دیکھنا ہو گا۔۔۔
سعد اللہ سورج کا تعلق ایبٹ آباد کے سرکل بکوٹ کے گاؤں بکوٹ شریف سے ہے ۔وہ درس و تدریس کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور عمدہ شاعر ہیں۔ان کے ایک سے زائد شعری مجموعے منآصع شہود پر آ چکے ہیں۔ تازہ مجموعہ "من تو شدم” بھی مقبولیت کی سند حاصل کر چکا ہے۔
سعداللہ سورج کی ایک خوبصورت غزل قارئین کوہسار کی نذر ہے۔
271826723 5140271326005553 3122459004224126224 n jpg

کیا خواب تھا جو رات گئے چُھو کے گیا ہے
سُورجؔ کوئی آسیب تُجھے چُھو کے گیا ہے

ٹُوٹی ہُوئی زنجیر پہ بھی میرا لہُو تھا
اِک تِیر بھی رستے میں مُجھے چُھو کے گیا ہے

وہ پاس سے گُزرا ہے سو میں ہو گیا پُرنور
پُرنور بھی اِتنا کہ لگے چُھو کے گیا ہے

اِک میں کہ ترا درد میری رُوح میں اُترا
اِک تُو کہ مرا درد تُجھے چُھو کے گیا ہے

کل بھی وہ تُجھے ڈُھونڈنے آئے گا کہ پِھر آج
سورج تری دُنیا کے سِرے چُھو کے گیا ہے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481