اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

یونیورسٹیوں میں ٹینیور ٹریک سسٹم (TTS) .. حل کیا ہے؟ دوسرا حصہ

d5c260a0 7ab4 4539 938d 53bf67249f51

تحریر و تحقیق :محمد عبد اللہ

پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہ لنک کھولیں

https://kohsarnews.com/pakistan/30016/#:~:text=%DA%86%DB%8C%D9%86%DB%8C%20%DA%A9%D9%85-,%DB%8C%D9%88%D9%86%DB%8C%D9%88%D8%B1%D8%B3%D9%B9%DB%8C%D9%88%DA%BA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%B9%DB%8C%D9%86%DB%8C%D9%88%D8%B1%20%D9%B9%D8%B1%20%DB%8C%DA%A9%20%D8%B3%D8%B3%D9%B9%D9%85%20__%20%D8%A7%D9%93%D8%AE%D8%B1%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81%20%DB%81%DB%92%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%9F,-%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B1%20%D9%88%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82

(گذشتہ سے پیوستہ)

سب سے پہلی بات جو تجزیئے کے قابل ہے، وہ یہ کہ کیا "ٹی ٹی ایس” نظام متعارف کرانے سے قبل کوئی ہوم ورک کیاگیاتھا؟ کیا ایچ ای سی نے یہ نظام پاکستان میں اعلیٰ تعلیم سے جڑے زمینی حقائق کو مدنظر کر کے متعارف کرایاتھا یا پھردنیا بھر میں چلنے والے رحجان سے مرعوب ہو کر ایک باہر کی دنیا کے نظام کو پاکستان کی صورت حال سے مطابقت پیداکئے بغیر ہی متعا رف کرا دیاگیا؟

a718630c 34c0 4789 99c3 0f82ea706ef5 jpg

آج کی صورت حال دیکھیں تو کسی طوریہ نہیں لگتا کہ کہ ٹی ٹی ایس باقاعدہ پلاننگ کر کے اور تمام تر زمینی حقائق کو مدنظررکھتے ہوے متعارف کرایا گیا تھا۔اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آج تقریباً دو عشرے گزرنے کے باوجود بھی یہ نظام اپنے پاؤں پہ کھڑا ہو سکاہے اور نہ ہی اس نظام کے متعارف کروانے کا مقصد یعنی” تعلیمی اداروں کی کارکردگی میں بہتری” حاصل کیا جا چکاہے ۔بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ خود ایچ ای سی بھی اس نظام کو ختم کرنے کے حوالے سے سنجیدہ نوعیت کے اقدامات اٹھانے کا سوچ رہی ہے مگر اب مسئلہ یہ ہے کہ ٹی ٹی ایس کا یہ کمبل کسی طور جان چھوڑنہی ںرہا۔

نیا سسٹم لاگو کرنے سے پہلے کوئی روڈ میپ کیوں نہیں  بنایاگیا؟

2021 04 09 jpg
اگرپہلے سے ہوم ورک کیاگیا ہوتا تو ضرور اس بات پربھی غور کیا جاتا کہ تعلیمی اداروں میں بیک وقت دو نظام کیسے چل سکتے ہیں ؟ایک ملک میں تو دو نظام شاہد کوئی چلاہی دے مگر جہاں تک اداروں کی بات ہے تو وہاں نظام بہر صورت ایک ہی ہو گا،چاہے وہ اچھاہو یا برا ۔ یونیورسٹیوں کے رفقاء کے ساتھ جب بات ہوتی تو وہ اس سوال کا جواب یوں دیتے کہ یک دم اچانک سے پرانے نظام کو اُکھاڑ کرنیا نظام لاگو کرنا ممکن نہیں۔ اس بات میں کافی وزن ہے۔

مان لیا کہ حکمت عملی یہ ہو گی کہ  ٹی ٹی ایس کو تدریجاًلاگوکرنا تھا اور پرانے بی بی ایسس سسٹم کو نرم ا نخلا دینا تھا مگر ہمارا سوال یہ ہے کہ ایسا کیسے کیا جاتا؟کیاکوئی روڈ میپ بنایا گیا تھا؟کیا ٹائم لائن رکھی ہوئی تھی اس نظام کو مکمل طورپر رائج کرنے کی؟ کیا بیس برس بعدبھی ہم اس سمت میں کچھ آگے کا سفر طے کر چکے ہیں؟ قطعاًنہیں ۔۔کیونکہ آج 20 برس بعد بھی پرانا بی پی ایس سسٹم اُسی آن شان بان کے ساتھ اپنی جگہ کھڑا ہے۔ بلکہ اس کی ژان میں کچھ اضافہ بھی ہو گیا ہے۔

دو نظاموں سے فیکلٹی میں پیدا شدہ کشیدگی اب تنازعے میں بدل چکی

International Islamic University Islamabad jpg
جامعات میں ان دو نظاموں کی موجودگی نے فیکلٹی کے مابین ایک تناؤ والی صورت حال تو ابتدا ہی میں پیداکردی تھی مگر یہ تناؤ رفتہ رفتہ کشیدگی میں تبدیل ہوتاہوا اب باقاعدہ ایک تنازعے کی صورت اختیارکرگیاہے اور ایسا ہونا بالکل فطری بھی ہے۔ اس تنازعے یاکشیدگی کی کئی وجوہات ہیں ،مثا ل کے طور پر سب سے پہلی وجہ تو یہی تھی کہ ٹی ٹی ایس والے زیادہ مالی فوائدکے ساتھ ساتھ وقت پر اگلی سطح تک ترقی حاصل کرلیتے ہیں حالانکہ درحقیقت ان میں سے کوئی بھی فائدہ گذشتہ بیس برسوں میں ٹی ٹی ایس اساتذہ کی وسیع اکثریت کوکبھی نصیب نہیں ہوا۔

ایچ ای سی اگرچہ یونیورسٹیوں کو خود مختار بنانےکا دعوی کرتی ہے، مگر ٹی ٹی ایس قوانین کے بر خلاف ایک ایگزیکٹیو نو ٹیفی کیشن کے ذریعے ترقی پانے والے کیسزکی تصدیق یا اینڈورسمنٹ(Endorsement) کا اختیار اپنے پاس رکھ لیا ۔مطلب کسی بھی یونیورسٹی کو اپنے کسی اہل فیکلیٹی ؍اساتذہ کا کیس ٹی ٹی ایس قوانین میں درج طریقہ کار کے مطابق طے کر لینے اور اعلیٰ یونیورسٹی با ڈیز جیسے کہ سنڈیکیٹ سے منظوری کے بعدبھی ایچ ای سی کے پاس بھیجنا ہوتا اور ایچ ای سی کی ا ینڈورسمینٹ کے بعد ہی وہ ترقی نافذالعمل ہو سکتی تھی۔

d0d1d8ac 996b 4f1d 8db3 3b6e3f5dd6aa jpg

اس ایک ایگزیکیٹو آرڈر نے ٹی ٹی ایس اساتذہ کو حاصل ہو نے والے بروقت پروموشن والے فاہدے کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا اور اساتذہ کے کیسز مہینوں نہیں بلکہ برسوں ایچ ای سی پڑے رہے۔ (حال ہی میں یہ نوٹیفیکیشن ٹی ٹی ایس اساتذہ کو برسوں ذلیل و خوار کرنے کے بعد واپس لے لیا گیا)۔ ایسی فیکلیٹی بھی پائی گئی جو وقت پر ترقی نہ ہو نے کی وجہ سے نچلے گریڈ میں ہی ریٹائر ہو گئی مگر بہرحال کتاب کی حد تک تو وقت پرترقی کا قانون ٹی ٹی ایس کے لئے موجود تھا ۔ بی پی ایس والے اسے اپنے حق پر ایک ڈاکہ تصور کر تے تھے اور کرتے بھی کیوں نہ، جب دس دس پندرہ پندرہ برسوں تک کی بی بی ایس سسٹم والا اسسٹنٹ پروفیسر ہی رہ جاتا ہے اور اس سے کیمپس میں جونیئر نئی بھرتی شدہ ٹی ٹی ایس فیکلیٹی اتنے ہی برسوں پروفیسر ہو جائے(بھلے کاغذوں کی حد تک ہی سہی)

20245646 323770048070974 2429003559690111120 n
پہرحال ایچ ای سی والے ٹی ٹی ایس اساتذہ کی ترقی میں تاخیر کو یونیورسٹی انتظامیہ کی کو تاہی قرار دیتے ہیں  اور کسی حد تک یہ بات بھی صحیح ہے۔ مگر اس کی وجہ بھی ایک تعلیمی ادارے میں دو نظاموں کی موجودگی ہے۔ٹی ٹی ایس کے قوانین کے تحت ٹی ٹی ایس پر بھرتی ہونے والے اساتذہ یونیورسٹی میں کسی انتظامی پوسٹ (مثلاًرجسٹرار وغیرہ) پر تعینات نہیں ہو سکتے۔ بعد میں اس قانون میں یہ تبدیلی کی گئی کہ اگر ٹی ٹی ایس فیکیلٹی مستقل (ٹنیورڈ) ہو جائے تو وہ وائس چانسلر یا دیگر تعلیمی انتظامی عہدے مثلاً ڈائریکٹرکیو ای سی (QEC) یا اورک (ORIC) وغیرہ میں انتظامی عہدے رکھ سکتا ہے مگر اس شرط کے ساتھ کے اس کی تحقیقی و تعلیمی سرگرمی متاثر نہ ہو۔ اب اس قانون کا نتیجہ یہ نکلا کہ اکثر تعلیمی اداروں میں خاص طور پر نئی بننے والی یونیورسیٹیوں میں کلیدی عہدوں پر بی پی ایس اساتذہ اضافی چارج لئے براجمان ہو گئے۔

ان کلیدی عہدوں میں سب سے اہم عہدہ رجسٹرار کا ہے جہاں سے یونیورسٹی کی تمام انتظامی سرگرمیاں کنٹرول ہوتی ہیں ۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ مذکورہ بالاکشیدگی یاتنازعہ کی موجودگی میں یونیورسٹی انتظامیہ کیسے ٹی ٹی ایس کے کیسز وقت پراورقانون کے مطابق پروسس کرتی۔ ٹی ٹی ایس فیکلٹی کے کیسز کا پروموشن شروع ہونے کاسب سے پہلااور اہم ترین مرحلہ ڈیپارٹمنٹل کمیٹی یعنی ڈی ٹی آر سی (DTRC)ہے۔ آپ اس DTRC کے ممبران دیکھیں تو اس کا چیئر مین متعلقہ فیکلٹی کے ڈیپارٹمنٹ کا چیئر مین ہوگااور باقی لوگ اسی ڈیپارٹمنٹ ،یونیورسٹی یا پھر باہر کی کسی یونیورسٹی کے سینئر فیکلٹی ممبران ہون گے۔ پہلے تو دونظاموں کی موجودگی میں یونیورسٹی کے کسی ایک شعبے کی DTRCبناناہی جوئے شیرلانے کے مترادف ہے اور بفرض محالDTRCبن بھی گئی تو پھر اس کے ممبران کی اکثریت بی پی ایس سسٹم والے اساتذہ ہی ہوا کریںگے کیونکہ ٹی ٹی ایس والے سینئر اساتذہ تو کسی بھی ایک یونیورسٹی میں پورے نہیں۔

جامعات کے اندر کا ماحول۔۔الامان والحفیظ

آپ یونیورسٹیوں کے اندر کا ماحول آج کل دیکھیں تو آپ کو گھن آنے لگے گی کہ کس طرح معاشرے کے یہ اعلیٰ ترین تعلیم یافتہ لوگ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہوتے ہیں اور کیا کیا اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے اس اندر کے ماحول اورفیکلٹی کی حرکتوں پر ایک تفصیلی تفتیشی رپورٹ الگ سے تحریر کریں گے، فی الحال ٹی ٹی ایس پر ہی بات کرتے ہیں۔

بی پی ایس نظام کے تحت بھرتی ہونے والے اساتذہ کو ٹی ٹی ایس کی تنخواہوں سے بھی کافی بیر ہے۔ اس کی حقیقت بھی یہ ہے کہ ٹی ٹی ایس اساتذہ کی تنخواہوںمیں اضافہ درج شدہ اصولوں کے مطابق ہوا ہی نہیں ۔ دوسری طرف گذشتہ برسوں میں بی پی ایس اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ جس شرح سے ہوا ہے وہ ٹی ٹی ایس اور بی پی ایس کے درمیان فرق کو بہت حدتک کم کر چکا ہے۔ مزیدبرآں ٹی ٹی ایس والے پنشن وغیرہ کی سہولیات سے بھی محروم ہوتے ہیں ۔ ٹی ٹی ایس اساتذہ کی حالیہ احتجاجی تحریکیں انہی دو بنیادی معاملات پر چل رہی ہیں۔گذشتہ ایک دو برسوں میں کئی نو جوان ٹی ٹی ایس فیکلٹی کی دوران ڈیوٹی اموات ہو ئی ہیں۔

a9d40292 ac89 40d1 a1e4 9d6734dca2ab jpg

ان ساتذہ کے لیے تلافی (Compensation)کا کوئی سسٹم موجود نہیں اورٹی ٹی ایس اساتذہ چندہ کر کر کے اپنے فوت شدہ ساتھیوں کی مالی اعانت کی کو شش کرتے ہیں۔صورت حال کے مندرجہ بالا تجزیئے سے جو بات سامنے آرہی ہے وہ یہ ہے کہ ٹی ٹی ایس کا تعارف بغیر کسی ہوم ورک اور زمینی حقائق سامنے رکھ کر کیا گیا، باہر کے کسی بھی ملک کے قوانین اٹھا کر نام وغیرہ تبدیل کر کے ملکی تعلیمی اداروں میں لاگو کر دئیے گئے اور وہ بھی بس کتاب میں۔ اس کا نتیجہ وہی نکلنا تھاجو کہ نکلا۔

ایچ ای سی نے ٹی ٹی ایس کے متعارف کیئے جانے کا جو یک نکاتی مقصد یعنی یونیورسٹیوں میں تحقیق وتالیف رائج کر کے ان کی تعلیمی و تحقیقی صلاحیتوں اور کارکردگی میں اضافہ کرنابیان کیاتھا وہ کس حد تک حاصل ہو سکا ہے اس کا اندازاہ آپ اوپر کی سطور پڑھ کے بخوبی لگا چکے ہوں گے۔ تحقیق وتالیف کے نام پر ٹی ٹی ایس اساتذہ کو بس اپنی پروموشنزکی پڑی ہوئی ہوتی ہے۔ آپ کسی بھی یونیورسٹی کا دورہ کرین، ٹی ٹی ایس اساتذہ سے ملا قاتین کریں اور ان کو سنیں اور پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ہماری اعلیٰ تعلیم کا کیا حشر نشر ہو رہاہے۔ جرائد میں اپنے مقالوں کی اشاعت کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔

بین الاقوامی جرائد میں مطلوبہ مقدار میں مقالوں کی اشاعت واحد معیار بن گیا

2cae445d 898e 4945 9825 b049bac80bab

ٹی ٹی ایس قوانین کے تحت ترقی کی لیے چار بنیادی نکات پر اساتذہ کے کیسز کا تجزیہ کرنا ہوتا ہے ۔وہ چار بنیادی نکات بظاہر بہت ہی پرکشش ہیں مثلاً اول ٹیچنگ، دوم تحقیق وتالیفی کام، سوم خدمات اور چہارم ذاتی وشخصی خصوصیات ۔مگر یہ اصول بھی صرف کتاب کی حد تک ہی ہیں۔ عملی طور پر صرف ایک ہی چیز معیار رہ گیا ہے اور وہ ہے اعلیٰ معیار کے بین الاقوامی جرائد میں مطلوبہ مقدار میں مقالوں کی اشاعت ۔ آپ کو ہر یونیورسٹی میں ٹی ٹی ایس فیکلیٹی بس اسی کام میں مگن نظر آئے گی باقی نکات مثلاً ٹیچنگ، خدمات اور ذاتی خصوصیات میں سے ایک بھی نہ ہو تو آپ اگلی ترقی کی لیے اہل گردانے جاتے ہیں۔ یوں یہ اساتذہ ذاتی ترقی کے حصول کے لیے باقی تمام اہم نکات کو تقریباً کھڈے لائن لگا چکے ہیں۔ ٹیچنگ کے حوالے سے اس فیکلیٹی کی بس ذیادہ سے ذیادہ یہی کو شش ہو تی ہے کہ ورک لوڈ ہی پورا ہو اور اس شعبے میں ان کی دلچسپی بھی بس اتنی سی ہی ہے۔ مختصراً یہ کہ ٹی ٹی ایس کے اس نظام نے اساتذہ پر خطرناک حد تک سماجی و نفسیاتی اثرات دکھانے شروع کر دیئے ہیں۔ نہ چاہتے ہو ئے بھی ’خودغرض‘ جیسا لفظ استعمال کرنا پڑرہاہے کیونکہ اپنی پروموشن اور ذات کے علاوہ انہیں کسی بات سے کوئی غرض نہیں۔ دوسری طرف بی پی ایس نظام والے اساتذہ کے ساتھ موجود کشیدگی کسی طور پر کم ہونے پرنہیں آرہی۔

آخر مسئلے کا حل کیاہے؟

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر مسئلے کا حل کیاہے؟ حل موجود ہے اور بہت آسان بھی مگر اس کے لئیے ہمارے ارباب و اختیار کو اپنا ما ئندسیٹ تبدیل کرنا ہو گا۔ انہیں اس مرعوبیت سے نکلنا ہو گا جس کے تحت وہ باہر کی کسی یونیورسٹی با لخصوص امریکہ یا مغرب کی کسی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل کو عقل کل سمجھتے ہیں۔ بھلے ہی ان کی ڈگری کسی تھرڈ کلاس یونیورسٹی سے ہی کیوں نہ ہو، بھلے ہی ان کی ریسرچ یا پی ایچ ڈی مقالے کا معیار تیسرے درجے کا ہی ہو۔ اس مائنڈ سیٹ کے تحت آنے والے لوگوں نے ہماری تعلیمی اداروں کو نئے نئے نظاموں کے متعارف کرانے کے لیے تجربہ گاہیں بنا ڈالا ہے اور پورے تعلیمی نظام کاتیا پانچہ کر کے رکھ دیا ۔

تعلیمی اداروں میں دو نظاموں کی موجودگی کسی طور ایک عقلمندانہ اقدام نہیں
گذشتہ پندرہ برسوں تک اس تجربے کا بغور مشاہدے کی بنا پر ہم بغیر کسی شک وشبہ کے یہ مشورہ دیں گے کہ تعلیمی اداروں میں دو نظاموں کی موجودگی کسی طور ایک عقلمندانہ اقدام نہیں۔ ہمیں قسم قسم کے تجربات کرنے کی بجائے موجودہ نظام کو بہتر بنا نے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس بات میں قطعی طورپر کوئی شک نہیں کہ تعلیمی اداروں میں تحقیق وتالیف کو پروان چڑھایا جانا چاہیے،مگر اس کے لئے اور بھی کئی قابل عمل راستے موجود ہیں اور جو ہمارے زمینی حقائق سے مطابقت بھی رکھتے ہیں۔

2022 09 23
مثال کے طور پر بی پی ایس نظام کو مزید بہترکیا جا سکتا ہے۔ بی پی ایس اساتذہ کو تحقیق وتالیف کی طرف راغب کر کے یہی فوائدانہیں دیئے جاسکتے ہیں جیسا کہ سالانہ کارگردگی کی بنیاد پر انکریمنٹ وغیرہ اور پروموشن یا ترقی کا طریقہ کار تحقیق وتالیف کے ساتھ منسلک کیا جاسکتا ہے ۔

ٹیچنگ ، معاشرے کیلئے خدمات اور ذاتی خصوصیات کو بھی مد نظر رکھا جائے

اس کے ساتھ ساتھ صرف تحقیق وتالیف میں مقالوں کی اشاعت کو ہی معیار نہیں بنانا چاہیے بلکہ ٹیچنگ، معاشرے یا ادارے کے لئے خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی خصوصیات کو بھی مد نظر رکھناچائیے۔ بی پی ایس نظام کو بہتر کرتے ہی تمام ٹی ٹی ایس فیکلیٹی کو ان کی تعلیمی قابلیت اور تجربہ کی بنیاد پر اہلیت کے مطابق بی پی ایس کے تحت عہدوں پر مستقل کر دیا جائے۔ انہیں پینشن ودیگر سہولیات بی پی ایس کے مطابق ہی دی جائیں۔ یہاں چھوٹے موٹے مسائل آڑے آئیں گے مگران سے بطریق احسن نمٹاجا سکتاہے۔ جن ٹی ٹی ایس اساتذہ کی مدت ملازمت تین برس سے کم رہ گئی ہو وہ اسی اسکیل پر کام جاری رکھیں مگر ٹی ٹی ایس کے تحت مزید بھرتیاں روک دی جائیں۔کچھ ٹی ٹی ایس اساتذہ کو پنشن کی کمی یا ریٹائرمنٹ پر فنڈ کی کمی کا مسئلہ بھی ہو گا تو یہ بھی ایچ ای سی کا فنانس ڈویژن ایک قابل عمل ورکنگ پیپر تیار کر کے حل کر سکتاہے۔ بہر حال ان چھوٹے چھوٹے مسائل کو ایک بڑے مسئلے کے حل کی را ہ مین رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔

Tenure Track System (TTS) in Universities ,what is the solution?یونیورسٹیوں میں ٹینیور ٹریک سسٹم (TTS) .. حل کیا ہے؟


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481