پاکستان میں امریکہ کے سابق سفیر رچرڈ اولسن کو غیر قانونی سرگرمیوں اور انہیں چھپانے کے غیر اخلاقی اقدام پر تین برس قید اور 93 ہزار ڈالر جرمانے کی سزا سنا دی گئی ہے۔
رچرڈاولسن پر الزام تھا کہ انہوں نے امریکی پالیسی سازوں پر اثر انداز ہونے کی خاطر قطر حکومت کی مدد کی اور اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے متعدد اقدامات کیے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق رچرڈ اولسن نے ذاتی مفادات کی خاطر عہدے کا غلط استعمال کرنے کا اعتراف کیا تھا ۔
گزشتہ برس جون میں اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے رچرڈ اولسن نے کہا تھا کہ انہوں نے تفتیش کاروں کے سامنے غلط بیانی کی اور غیر ملکی حکومتوں کے لیے لابنگ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی بھی کی۔
اولسن کی جانب سے اپنے جرائم چھپانے کے لیے کیے گئے اقدامات میں بعض اہم ای میلز کو ڈیلیٹ کرنا اور انٹرویو کے دوران امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی سے جھوٹ بولنا شامل ہے ۔
امریکی اٹارنی افس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے دوران رچرڈ اولسن نے ایک پاکستانی تاجر سے بھی فوائد حاصل کیے تھے۔
امریکی عدالتی دستاویزات میں مذکورہ پاکستانی امریکی شہری کو "پرسن ون” کے نام سے پکارا گیا ہے الزام کے مطابق مذکورہ تاجر کو رچرڈ اولسن نے اس وقت کی اپنی گرل فرینڈ کو 25 ہزار ڈالر دینے پر آمادہ کیا تھا تاکہ امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی میں اس کی ٹیوشن فیس ادا کی جا سکے۔
اس کے علاوہ پاکستانی تاجر کی جانب سے رچرڈ اولسن کو لندن کے فرسٹ کلاس فضائی سفر کے لیے 18 ہزار ڈالر بھی دیے گئے تھے۔
واضح رہے کہ مذکورہ پاکستانی امریکی تاجر کو 2021 میں انتخابی مہم کے لیے غیر قانونی طور پر رقم دینے کے الزام میں 12 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
یاد رہے کہ رچرڈاولسن محکمہ خارجہ سے 2016 میں ریٹائر ہو گئے تھے۔قبل ازیں 2012 سے 15 تک وہ پاکستان میں امریکہ کے سفیر کے طور پر کام کر چکے تھے۔
غیر ملکی میڈیا کے ذرائع کا کہنا ہے کہ رچرڈاولسن کو منگل کے روز سزا سنائی جانا تھی تاہم تین روزہ التوا کے بعد سنائی گئی۔سماعت کے موقع پر 63 سالہ سابق سفیر رچرڈ اولسنآبدیدہ ہو گئے اور کہا کہ انہوں نے غلطیاں کی ہیں جن کے سنگین نتائج نکلے ہیں۔
Why the former American ambassador in Pakistan imprisoned for 3 years?
پاکستان میں سابق امریکی سفیر کو 3 سال قید کیوں ہوئی؟

