فکر اقبال۔۔از قاضی محمد شعیب
مرا براہِ طلب بار در گل است ہنوز
کہ دل بہ قافلہ و رخت و منزل است ہنوز
راہ طلب میں ابھی تک میں علائق دنیا میں گرفتار ہوں
ابھی تک میرا دل قافلہ ، سامان اور منزل کے چکر میں ہے۔
کجا ست برق نگاہے کہ خانماں سوزد
مرا با معاملہ با کشت و حاصل است ہنوز
کہاں ہے وہ بجلی جیسی نگاہ جو میرا گھر بار جلا دے
ابھی تک میں کھیتی اور اس کی پیداوار کی فکر میں گرفتار ہوں۔
یکے سفینۂ ایں خام را بہ طوفان دہ
ز ترسِ موج نگاہم بساحل است ہنوز
مجھ خام کی کشتی کو ذرا طوفان میں ڈال دیجئیے
کہ موجوں کے ڈر سے میں ابھی ساحل کی جانب دیکھ رہا ہوں۔
تپیدن و نہ رسیدن چہ عالمے دارد
خوشا کسے کہ بہ دنبال محمل است ہنوز
تڑپنا اور مقصود تک نہ پہنچنا ، کیا لطف رکھتا ہے!
خوش نصیب ہے وہ شخص جو ابھی محمل کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔
کسے کہ از دو جہاں خویش را بروں نشناخت
فریب خوردۂ ایں نقشِ باطل است ہنوز
جس شخص نے اپنے آپ کو دونوں جہانوں سے الگ نہیں پہچانا
وہ ابھی تک اس نقش باطل (دنیا) کا فریب خودرہ ہے۔
نگاہِ شوق تسلی بہ جلوۂ نہ شود
کجا برم خلشے را کہ در دل است ہنوز
ایک جلوے سے میری نگاہ شوق کی تسلی نہیں ہوئی
اس خلش کا کیا علاج جو ابھی تک میرے دل میں موجود ہے۔
حضورِ یار حکایت دراز تر گردید
چنانکہ ایں ہمہ نا گفتہ در دل است ہنوز
محبوب کے حضور بات بہت لمبی ہو گئی ہے لیکن اس کے باوجود بہت سی ان کہی باتیں دل میں رہ گئیں ہیں۔
زبورِ عجم
