اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مرزا غالب کا کھلا خط ، بجلی کے بلوں کی موجودہ صورت حال پر

9a81b64f fb35 4c66 8fed 3fb1fffb974d

مدثر حسین شاداب 

سنو میرن ! یہ برق جو ہم پر گر رہی ہے کیا تم پر بھی گری ہے یا اکبر آباد والے اس سے مستثنٰی ہیں ؟ یہاں تو ہر گھر کا یہ قصہ اور ہر کوچے کی یہ فریاد ہے کہ آمدن سے زیادہ تو محکمہ برقیات نے واجبات لگا دیے ہیں۔ اُپلے اور اناج پر تو پہلے ہی محصول لگ چکا تھا ، اب تو ناکردہ گناہوں پر بھی لگ گیا ہے ۔ ایک حشر بپا ہے ، کوچہ و بازار میں مُنادیاں ہو رہی ہیں ، واجبات کی رسیدوں کو آگ لگائی جا رہی ہے اور در پہ آئے منشئ حساب کی درگت بنائی جا رہی ہے ۔

میاں ! تم ہی انصاف کرو ، گھر میں ایک پنکھا ہے وہ بھی بند رہتا ہے ، ایک موٹر ہے مہینے بھر سے خراب پڑی ہے ، ٹھنڈے پانی سے مجھے بَیر ہے ، لباس کی سِلوَٹیں کوئلے کی استری نکالتی ہے ۔ اس سب کے باوصف ہَمِیں قیدِ بامشقت کے مجرم ٹھہرے ؟؟؟

امروز بھادوں کی اثنا عشری ہے ۔ میں تاریک کوٹھڑی میں بیٹھا بتی گُل کیے منتظر ہوں کہ چہار روز باقی ہیں پھر مہینے بھر کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ہو گا یا بائیں۔۔۔۔۔ تم جانو یہ سارے مناظر قیامت کے ہیں ۔ہر نیا محصول صورِ اسرافیل ہے ، در پہ آیا حساب کا منشی دجال ہے ، دریں اثنا پل صراط سے گزر رہا ہوں ۔۔۔۔شیاطین نے یہاں تک پہنچا دیا ہے ۔

یک شنبہ

غالب

محلہ بلی ماراں ، دِلّی
————————————————————————-


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481