اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ہم نہ باز آئیں گے محبت سے (جمعیت طلبہ عربیہ)

3f83700c 8fba 4155 a971 240272fe5bf8 612x430 1 jpg

عبدالرحمان عظیم عباسی

الله رب العزت نے انسانوں کی تخلیق کے بعد اُن کی رہنمائی اور رہبری کا مکمل بندوبست بھی کیا۔ حضرات انبیاء کرام علیھم السّلام کو انسانوں کی طرف مبعوث کیا جاتا رہا تا کہ وہ انسانوں کو خدا کی معرفت اور اُس کی تعلیمات سے آگاہ رکھیں۔ حضرت آدم علیہ السلام الله کے پہلے بندے اور نبی ہیں۔ جنہوں نے اپنی اولاد کو الله کی ذات سے آشنا کیا اور پھر تعلیمات خداوندی سے ان کی مکمل راہنمائی اور تربیت فرمائی۔

انبیاء کرام کے سلسلے کی اسی کڑی کا حصہ حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت شعیب و ابراھیم و اسماعیل ، حضرت یوسف و داؤد ، موسیٰ ، ہارون اور عیسیٰ علیہم السلام کی بابرکت ذاتیں بھی ہیں۔ اسی سلسلے کا خاتمہ جنابِ نبی مہربان حضرت محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے ظہور سے ہؤا اور آپ خاتم النبین کہلائے۔ آپ پر نبوت کے سلسلے کا اختتام ہوا اور اب صبحِ قیامت تک کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا۔

الله کے بھیجے گئے ان سبھی انبیاء نے انسانوں کو پیار و محبت ، اتحاد و اتفاق ، باہم صلح جوئی اور الله کی معرفت کا درس دیا۔ جب بھی کسی اُمت میں بگاڑ کے آثار پیدا ہوئے تو اس اُمت کی راہنمائی کے لیے الله کے بھیجے گئے پیغمبروں نے کردار ادا کیا۔

اُمت محمدیہ چونکہ آخری اُمت ہے اور اِس کے علماء کرام کو انبیاء کرام کا وارث قرار دیا گیا ہے۔ ایک مدت تک جب بھی اُمت محمدیہ میں افتراق و بگاڑ پیدا ہوا تو ان علماء کرام نے بہترین کردار ادا کرتے ہوئے اُمت کو صراطِ مستقیم کے سلسلے میں رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیا.
۔
لیکن زمانے کی گردش اُن دینی درسگاہوں پر بھی اثر انداز ہونا شروع ہو گئی جو ان علماء کرام کا منبع تعلیم تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان دینی درسگاہوں میں بگاڑ اِس قدر بڑھ گیا کہ جو کچھ عرصہ قبل تک اتحاد و اتفاق کی علمبردار سمجھی جاتیں تھیں ، اب وہاں سے نکلنے والے افراد معاشرے میں فتنہ کا باعث بننے لگے۔ مناظرہ بازی ، تکفیر کے نعرے اور ایک دوسرے پر الزامات کی ایسی بوچھاڑ ہونے لگی کہ اُمت مسلمہ فرقوں میں بری طرح بٹ گئی۔ ہر گروہ بجائے دینِ اسلام کے تحفظ کے اپنے مسلک و گروہ کا محافظ و غلام بن کر رہ گیا۔

ان حالات و تغیرات سے مدارسِ دینیہ کے طلباء بری طرح متاثر ہوئے۔ ان میں سے برداشت اور کسی کی رائے کو سننے کا مادہ ہی ختم ہو گیا۔

اس صورت حال میں امت کا درد رکھنے والے مختلف مدارسِ دینیہ کے طلباء نے مل کر فیصلہ کیا کہ ایک ایسی اجتماعیت کا قیام عمل میں لایا جائے جو نفرت اور کدورت کے اس ماحول میں الفت و مہر، اتحاد و اتفاق اور تحمل و برداشت کی علم بردار ہو۔ اس امر پر اتفاق ہوا کہ محبت کے ایسے بیج بوئے جائیں کہ ایک دوسرے سے ہاتھ بھی نہ ملانے والے ایک دوسرے کو سینے سے لگانے والے بن جائیں۔
یوں جمعیت طلبہ عربیہ کے نام سے ایک ایسی اجتماعیت کا قیام عمل میں لایا گیا۔

فرقہ بندی کے بت کو پاش پاش کرنا اور محبتوں کے چلن کو عام کرنا اس کا بنیادی مقصد ٹھہرا۔ پاکستان بھر اور عالم اسلام کے جملہ مدارسِ دینیہ کے طلباء کو یہ پیغام دیا گیا کہ اپنی صلاحیتوں کو اعلائے کلمتہ اللّٰه کی جدوجہد کے لیے وقف کریں۔ جمعیت طلبہ عربیہ نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ۔۔۔۔۔۔۔

ہم نہ باز آئیں گے محبت سے

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481