اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

 سانحہ بلدیہ کیس پر عدالتی فیصلہ ایم کیو ایم کیخلاف کھلی چارج شیٹ

 سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس،عدالتی فیصلے پر ایم کیو ایم کا اعتراض؟؟

تحریر: عرفان الحق

132511230 10225310558736615 2844538991940162472 n

سندھ ہائی کورٹ نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں ملزمان کی اپیلوں کے فیصلہ میں نا صرف پولیس کی جانب سے کی جانے والی تفتیش کے پرخچے اڑا کر رکھ دیئے ہیں بلکہ حکومتی اداروں کی غفلت اور لاپرواہی کی بھی نشاندہی کی ہے ، عدالت عالیہ کے اس فیصلہ کو سانحہ بلدیہ فیکٹری کے حوالے سے ایم کیو ایم کے خلاف چارج شیٹ کہاجائےتو بے جا نہ ہوگا ۔۔۔
عدالتی فیصلہ کے مطابق ایک جانب گمراہ کن ایف آئی آر کاٹ کر کیس کو غلط رخ پر ڈالنے کی کوشش کی گئی تو دوسری جانب سرکاری اداروں نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں ۔۔
260 سے ذائد افراد کے لرزہ خیز قتل کے الزام میں انسداد دہشت گردی عدالت نے ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں عبدالرحمان بھولا ؤر زبیر عرف چریا کو بائیس ستمبر 2020 کو پھانسی کی سزا سنائی تھی ۔۔ اب اے ٹی سی کے فیصلہ کے خلاف اپیلوں پر سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ سنادیا ہے جس پر ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت نے پرزور احتجاجی پریس کانفرنس کی ہے ۔۔ یہ فیصلہ سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کریم خان آغا نے تحریری کیا ہے جو دو رکنی اپیلٹ بینچ کے سربراہ تھے ۔ جسٹس کریم خان آغا کچھ برسوں سے سندھ ہائی کورٹ میں فوجداری مقدمات میں اپیلوں کی سماعت کررہے ہیں اور اس حوالے سے ان فوجداری قوانین کے ماہرین ان کے فیصلوں کو سراہتے ہیں اور ایسا کم ہی ہوا ہے کہ اپیلوں پر سنایا گیا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہو ۔۔۔۔۔

ایم کیو ایم پاکستان کا اعتراض کیا ہے۔۔۔۔؟

746eef70 b439 418f 846c 420c29402e93 jpg

ایم کیو ایم رہنما حماد صدیقی

ایم کیو ایم کی قیادت نے ایک پریس کانفرنس میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں سزاۓ موت پانے والے عبدالرحمان بھولا اور زبیر عرف چریا کو نہ صرف اون کیا بلکہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ پر شدید تنقید کی، ایم کیو ایم قیادت کا بنیادی اعتراض ہے کہ عدالت نے مفروضے کی بنیاد پر یہ کہا کہ ایم کیو ایم قیادت کی منظوری کے بغیر اتنا بڑا جرم نہیں ہوسکتا ، ایم کیو ایم کا کہنا ہے یہ حادثہ تھا دہشت گردی نہیں تھی اور یہ حادثہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے رونما ہوا ، فیکٹری میں حفاظتی انتظامات نہیں تھے، فیکٹری مالکان کی غفلت سے انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ، ایم کیو ایم رہنمائوں نے پریس کانفرنس میں ایڈوکیٹ فیصل صدیقی کی کتاب کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں اس سانحہ کو شارٹ سرکٹ کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے ۔۔

9b057429 2080 4dbb 8858 115810b6c766 1 jpgخالد مقبول صدیقی

یہاں یہ پہلو بھی اہم ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے ٹرائل کے دوران ایڈوکیٹ فیصل صدیقی کبھی پیش نہیں ہوۓ نہ ہی وہ کیس میں فریق تھے۔ سندھ ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ فیصل صدیقی سندھ ہائی کورٹ میں غیر سرکاری تنظیم پائلر کی جانب سے پیش ہوتے رہے ہیں جس میں متاثرین کو معاوضہ دلوانے کی استدعا کی گئی تھی۔

 

سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ، ایم کیو ایم کے خلاف چارج شیٹ ۔۔۔۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل پر سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایم کیو ایم کو بحیثیت تنظیم چارج شیٹ کیا ہے ۔۔۔ عدالتی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت ہے جسے سندھ کے شہری علاقوں میں عوامی حمایت بھی حاصل ہے اور پارلیمان میں معقول نشستیں بھی حاصل کرتی رہی ہے مگر قیادت کے حکم پر پرتشدد کارروائیاں اس جماعت کا خاصا رہا ہے ،لوگوں کو خوفزدہ کرکے بھتہ وصول کیا جاتا تھا ، عدالتی فیصلہ میں عمران فاروق قتل کیس اور سابق ایم ڈی کے ای ایس سی شاہد حیات قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوۓ یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیادت کے حکم پر ٹارگٹ کلنگ ایم کیو ایم کی خاصیت رہی ہے ۔۔سانحہ بلدیہ کیس میں گواہوں کے خوفزدہ ہونے اور تاخیر سے سامنے آنے کی وجوہات بھی واضح ہیں ۔۔

6c7c1844 ec96 448e 9f1a 67bde830400b jpg

عدالت نے ایک اور نکتہ اٹھایا ہے ایم کیو ایم کے ایک سابق رکن رضوان قریشی کی جے آئی ٹی اتفاقاً سندھ ہائی کورٹ میں ایک کیس کے دوران پیش کی گئی تو پتا چلا کہ بلدیہ فیکٹری ( علی انٹرپرائززز) میں گیارہ ستمبر 2012 کو آگ لگائی گئی تھی ۔۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اعلیٰ عدالتوں کے کئی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوۓ یہ کہا کہ گواہوں کے تاخیر سے پیش ہونے کے باوجود ان کے بیانات کا جائزہ لیا جاۓ گا کیوں کہ واضح ہے کہ کراچی میں ایک خوف کی فضا تھی، سندھ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے کراچی بے امنی کیس کے فیصلے کا بھی حوالے دیتے ہوۓ کہا ہے کہ خوف کی وجہ سے گواہان عدالت آنے سے گریز کرتے ہیں ۔۔۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایک ہزار سے زائد مزدوروں کی فیکٹری کو جلانے کا اتنا سنگین فیصلہ ایم کیو ایم کی اعلیٰ ترین قیادت کی منظوری کے بغیر نہیں کیا جاسکتا ، اس واقعے کے بعد ایم کیو ایم کی کراچی تنظیمی کمیٹی کے ذمہ داران سے فیکٹری مالکان کی ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر نائن زیرو پر ملاقاتیں ہوئیں، ابتدائی تفتیش میں اس پہلو کو بھی نظر انداز کیا گیا ، عدالت نے اپنے فیصلہ میں ایم کیو ایم کراچی تنظیمی کمیٹی کے سابق سربراہ حماد صدیقی کی عدم گرفتاری پر بھی کئی سوالات اٹھاۓ ہیں اور حماد صدیقی کو دس سال تک قانون کی گرفت میں نا لانے پر متعلقہ اداروں پر بھی برہمی کا اظہار کیا ہے ، متعلقہ حکام کو اس حوالے سے رپورٹ بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔۔

 

عبدالرحمان بھولا کا اعترافی بیان اور انکار

l 123474 072339 updates

مرکزی ملزم عبدالرحمان بھولا کا ایک ویڈیو بیان حالیہ دنوں میں زیر گردش ہے جس میں ملزم نے نا صرف سانحہ بلدیہ میں ملوث ہونے سے انکار کیا بلکہ یہ بھی الزام لگایا کہ رینجرز کی جانب سے دبائو ڈال کر اس سے اعترافی بیان لیا گیا تھا ۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ عبدالرحمان بھولا نے یہ انکار پہلی دفعہ نہیں کیا ۔ عبدالرحمان بھولا نے جوڈیشل میجسٹریٹ کے سامنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت دیئے گئے بیان میں یہ اعتراف کیا تھا کہ قیادت کی طرف سے اسے علی انٹرپرازئزز کے مالکان سے بھتہ وصولی کا ٹاسک ملا تھا تاہم بھتہ نا ملنے پر فیکٹری میں آگ لگانے کا حکم دیا گیا جس پر اس نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ کارروائی کی ، مگر ٹرائل کے دوران انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے ملزم اعترافی بیان سے منحرف ہوگیا ۔۔۔۔

سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ ملزم اگر اپنے بیان سے مکر بھی جاۓ تو واقعاتی شواہد سے اعترافی بیان کا تعلق دیکھنا ضروری ہے ، بظاہر جوڈیشل میجسٹریٹ کے سامنے عبدالرحمان بھولا کے اعترافی بیان میں کوئی بے ضابطگی ثابت نہیں ہوتی ، تمام واقعاتی شواہد بھی اس بیان کو درست ثابت کررہے ہیں ، عدالت نے ایک گواہ ماجد بیگ جو کہ ایم کیو ایم بلدیہ ٹائون کا کارکن تھا کی گواہی کا بھی حوالہ دیا ہے ، ماجد بیگ کے مطابق جولائی 2012 میں ایک دن وہ فیکٹری پروڈکشن انچارج منصور کے آفس میں بیٹھا تھا جہاں عبدالرحمان بھولا بھی موجود تھا، فیکٹری مالک شاہد بھائلہ وہاں آۓ تو عبدالرحمان بھولا نے باہر شاہد بھائلہ سے کچھ دیر تک ڈسکشن کیا ۔ اسی طرح اہم گواہ منصور ( پروڈکشن انچارج ) کا بیان بھی عبدالرحمان بھولا کی فیکٹری میں بلا روک ٹوک آمد اور رقم وصولی کو ثابت کرتا ہے ۔۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ عبدالرحمان بھولا کا اعترافی بیان اور واقعاتی شواہد کے ثابت کرتے ہیں کہ عبدالرحمان بھولا اور زبیر عرف چریا سانحہ کے اہم کردار اور ذمہ دار ہیں ۔

 

شارٹ سرکٹ یا دہشت گردی ؟؟؟

d4751684 7ae0 4afc 965f da4266a311f1 jpg

سندھ ہائی کورٹ نے اپیلوں کی سماعت کے دوران اس پہلو کا بھی تفصیلی جائزہ لیا ہے کہ واقعی آگ لگائی گئی یا شارٹ سرکٹ ہونے کا دعویٰ درست ہے ؟ عدالت نے کہا کہ پنجاب فرانزک لیبارٹری رپورٹ کے مطابق گودام میں آگ بھڑکانے کے لیے زبیر اور اس کے ساتھیوں نے آتش گیر مادہ پھینکا ، فرانزک رپورٹ میں یہ واضح ہوا ہے فیکٹری میں آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے نہیں لگی تھی۔ اس بات کے بھی شواہد موجود ہیں کہ فیکٹری میں تازہ وائرنگ ہوئی تھی ، شارٹ سرکٹ اور آگ لگنے کے بعد چند منٹ میں بریکر بند کردئیے گئے تھے۔

علاوہ ازیں فیکٹری کا بوائلر بھی ٹھیک حالت میں تھا نا وہ پھٹا اور نا اس میں کوئی دھماکہ ہوا ،اسلئے بوائل بھٹنا کی وجہ سے آگ لگنے کا امکان بھی نہیں تھا،سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں تحقیقاتی کمیشن کے کردار پر بھی تنقید کی ہے ، عدالت کا کہنا ہے کہ کمیشن نے آگ لگنے کی وجہ جاننے کیلئے کیمیکل ایگزامینیشن کرانے سے بھی گریز کیا۔

Court verdict on the Baldia tragedy case, open charge sheet against MQM , سانحہ بلدیہ کیس پر عدالتی فیصلہ ایم کیو ایم کیخلاف کھلی چارج شیٹ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481