اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پی ڈی ایم حکومت کیخلاف سپریم کورٹ کابڑا فیصلہ،آڈیو لیکس کمیشن میں ججوں پراعتراض مسترد

The detailed decision of the Supreme Court against the arrest of Chairman PTI is in progress

سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس میں آڈیو لیکس کی تصدیق کے حکومتی اقدام کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا گیا  ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون کی نظر میں تین معزز  ججز پر حکومتی اعتراضات کی کوئی اہمیت نہیں، اعتراض کی درخواست ہراساں کرنے کیلئے دائرکی گئی۔ جو عدلیہ کی آزادی پر حملے کے مترادف ہے، اس حوقالے سے درخواست عدالت عظمٰی  نے  مسترد کردی۔

سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف پٹیشن سننے والے پانچ میں سے تین ججز پر سابقہ حکومت کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے اپنے 32 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ بنچ پر اعتراض کی درخواست  ہراساں کرنے کے لئے دائر کی گئی۔ حکومت نے آڈیوز لیکس کی تصدیق کرکے اور مئی میں پاور شو منعقد کرکے عدلیہ کی آزادی پر حملہ کیا۔

2322149 apdm 1652549277 380 640x480 1

واضح رہے کہ پی ڈی ایم حکومت نے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے جسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میں انکوائری کمیشن بنایا تھا جس کی تشکیل سپریم کورٹ بار نے چیلنج کی تھی۔ اس پٹیشن پر پانچ رکنی بنچ قائم کیا گیا جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس سید حسن اظہر نقوی اور جسٹس شاہد وحید شامل تھے۔ اس وقت کی حکومت نے   تین ججوں چیف جسٹس بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کی بنچ میں شمولیت پر اعتراضات اٹھائے تھے اور مطالبہ کیا تھا کہ یہ جج خود کو بنچ سے الگ کر دیں۔

عدالت نے 6 جون کو سماعت مکمل کی تھی اور فیصلہ آج جمعہ 8 ستمبر کو سنایا گیا۔ جس میں حکومتی درخواست مسترد کردی گئی۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے 32 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ 3 ججز پر اٹھائےگئےاعتراضات کی قانون کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہےکہ اعتراض کی درخواست دائرکرنے کا مقصد چیف جسٹس پاکستان کو بنچ سے الگ کرنا تھا، وفاقی وزرا نے مختلف مقدمات سننے والے ججز کے خلاف بیان بازی کی، وزرا نے صوبائی اسمبلیوں میں انتخابات کے خلاف کیس میں اشتعال انگیزبیانات دیے، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے اس رویے کو انتہائی تحمل اور صبرسے برداشت کیا۔

فوج کو کسی بھی غیر آئینی اقدام سے روکیں گے، چیف جسٹس

فوج کو کسی بھی غیر آئینی اقدام سے روکیں گے، چیف جسٹس

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ججز پر حملے کی ایک مثال 15مئی کو سامنے آئی، جب عدالت الیکشن کمیشن کی4 اپریل کے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل پرسماعت کررہی تھی، 4 اپریل کو سپریم کورٹ نے پنجاب میں14 مئی کوانتخابات کرانے کا حکم دیا تھا، 15 مئی کو حکومت کی اتحادی جماعتوں نے سپریم کورٹ کے باہرجارحانہ مظاہرہ کیا، اور چیف جسٹس پاکستان کو سنگین نوعیت کی دھمکیاں دی گئیں، دھمکیاں دینے کا مقصد عدلیہ پر دباؤ ڈالنا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ مبینہ آڈیو گفتگو سامنے آنے کے بعد حکومت نے آڈیو کلپس کی چھان بین اور لیک کرنے والے کے کردار کے تعین کے بغیر ان کی تصدیق کردی۔ حکومتی عہدیداروں کی جانب سے سپریم کورٹ کی اس طرح کی کردار کشی میڈیا کے سامنے اور پارلیمنٹ میں کی گئی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ  وفاقی حکومت نے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرکےعدالتی فیصلوں میں تاخیر اور عدالت کی بے توقیری کی، عدالت کی بےتوقیری کا سلسلہ یکم مارچ 2023 سے شروع کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ چار تین کی اکثریت سے اسپیکر کی درخواست مسترد کی گئی ۔وفاقی حکومت 4 اپریل کے فیصلےکو چیلنج کرنے کے بجائے الیکشن کمیشن کی نظرثانی کے پیچھے چھپ گئی، اس کا مقصد اپنی بےعملی کو جواز دینا تھا جب کہ اس کے بعد پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز قانون منظور کیا جسے سپریم کورٹ غیر قانونی قرار دے چکی۔

یاد رہے کہ26 مئی کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کرنے والے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر کی درخواستوں پر کام کرنے سے روک دیا تھا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے 5 رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا تھا۔ جوڈیشل کمیشن کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری، ریاض حنیف راہی اور مقتدر شبیر نے درخواست دائر کی تھی۔ عمران خان نے ایڈوکیٹ بابراعوان کے توسط سے دائر آئینی درخواست میں استدعا کی تھی کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا نوٹی فکیشن کالعدم قراردیا جائے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481