اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

طورخم بارڈر پر دوسرے روز بھی کشیدگی۔ بندش سے ٹرکوں کی قطاریں

1796476 torkhamxx 1567373516 591 640x480 1

پاکستان اور افغانستان کی فورسز  کے درمیان جھڑپوں کے سبب طورخم بارڈر کراسنگ جمعرات کو دوسرے دن بھی بند رہی،جس کے سبب سرحد پر پھلوں ، سبزیوں و دیگر سامان سے لدے ٹرکوں کی قطاریں لگ گئیں۔تاجروں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاک افغان طورخم بارڈرپر گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے کے بعد جمعرات کو  دوسرے بھی بارڈر ہر قسم کی تجارتی سرگرمیاں اور پیدل آمد ورفت بند رہی۔ جس کے باعث بارڈر کے دونوں اطراف مسافرو، بیماروں اور مال بردار گاڑیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق طورخم بارڈ انتظامیہ نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود کے اس پار راستہ بند کیا ہوا ہے جس کے باعث سیکڑوں گاڑیاں افغانستان جاتے ہوئے راستے میں پھنس گئی ہیں اور اس کے ساتھ پاکستان میں سینکڑوں کی تعداد میں افغانی طورخم بارڈر پر پھنسے ہوئے ہیں،اسی طرح سرحد کی دوسری جانب پاکستانی شہری پھنسے ہوئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ سینکڑوں مال بردار گاڑیاں بھی جمرود کے علاقے میں پھنس گئی ہیں جن میں پھل اور دیگر اشیائے خوردونوش موجود ہے جبکہ ڈرائیورز کے مطابق خدشہ ہے کہ اگر بارڈر پر انہیں افغانستان جانے نہیں دیا گیا تو پھل خراب ہوجائیں گے۔

0cfbbaaf 4de8 4fc7 95d4 13bcad3fecb7 jpg

امریکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مقامی حکام نے بتایا کہ پاکستان اور افغان طالبان کی افواج کی ایک دوسرے پر فائرنگ شروع کرنے کے بعد بدھ کو مصروف سرحدی گزرگاہ کو بند کردیا گیا تھا۔پاکستانی حکام نے فائرنگ پر افغانستان سیکورٹی فورسز کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔فائرنگ کا سلسلہ 2 گھنٹے تک جاری رہا۔جھڑپ کا آغاز اس وقت ہوا، جب افغان حکام کی جانب سے مرکزی سرحدی گزرگاہ کے قریب ممنوعہ علاقے میں چوکی بنانا شروع کی گئی۔

حکام کا کہنا تھا کہ افغان حکام کے پاس پہلے سے ہی ایک چوکی تھی،جسےعام طور پر لارم پوسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے،لیکن انہوں نے پاکستانی حکام سے بات کیے بغیر چھوٹی پہاڑی پر ایک اور چوکی بنانا شروع کردی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ سرحدی سیکورٹی حکام نے کراس فائر شروع ہونے سے چند منٹ قبل ایک ملاقات بھی کی تھی،تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ملاقات کا ایجنڈا کیا تھا اور دونوں ممالک کی سرحدی افواج کے درمیان فائرنگ شروع ہونے کی کیا وجہ تھی۔ایف سی اہلکار کے علاوہ ایک کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ بھی شدید زخمی ہوگیا تھا۔اسے فائرنگ شروع ہونے پر ایک تیزرفتار گاڑی نے ٹکر ماری تھی۔افغان صوبے ننگرہار پولیس کے ترجمان عبدالبصیر زابلی نے کہا کہ دونوں ممالک کے حکام جھڑپ کی وجہ کا تعین کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481