اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بجلی چوروں کیخلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کااعلان

نیپرا نے بجلی 5.40روپے فی یونٹ مہنگی کرنیکی منظوری دیدی

نگراں حکومت نے بجلی چوروں کیخلاف ملک گیر کریک ڈاون شروع کرنے کااعلان کر دیاہے، بجلی چوری کے کیسز سننے کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کرنے پر بھی غورکیاجارہاہے، چوری میں ملوث اہلکاروں کیفہرستیں بھی تیار کرلی گئی ہیں،بجلی چوری سے سالانہ 589ارب روپے کا نقصان ہوتاہے، اس کا تدارک کرنے کے لیے الیکٹرسٹی تھیفٹ کنٹرول ایکٹ کی تیاری جاری ہے، صوبوں اور اضلاع میں ٹاسک فورسزبھی قائم ہوں گی۔

بدھ کے روز نگران وزیر توانائی محمد علی نے بجلی چوری کے خلاف ملک گیر کریک ڈاون  کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک بجلی چوری ختم نہیں ہوگی اور بل ادا نہیں کیے جائیں گے اس وقت تک بجلی کی قیمتیں نیچے نہیں آئیں گی۔نگران  وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگران وزیر توانائی نے کہا کہ ڈومیسٹک صارفین میں سے کچھ ایسے ہیں جو بجلی کی چوری کرتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو  بل ادا نہیں کرتے،جس سے سالانہ 589 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران نگران وزیر توانائی محمد علی نے کہا کہ ہم نے ایجنسیوں کی معاونت سے ان افسران کی فہرست تیار کرلی ہے جو بجلی کی چوری میں ملی بھگت کرتے ہیں، ان افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے گا، ان کی فہرست الیکشن کمیشن کو بھجوا دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی چوری کے معاملے کا بہت اعلیٰ سطح پر نوٹس لیا گیا ہے اور ہماری کارکردگی کو اسی بنیاد پر جانچا جائے گا کہ ہم نے اس سے نمٹنے کے لیے کیا اقدمات کیے۔

انہوں نے بتایا اس حوالے سے ہم مختلف اقدامات اٹھا رہے ہیں، ہم ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو دیکھ رہے ہیں اور ہم ان کو اور ان کی انتظامیہ میں تبدیلیاں لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور آئی جیز سے ہماری اس حوالے سے بات ہوچکی ہے اور ہمیں ان کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان میں 10 ڈسٹری بیوشن کمپنیاں ہیں اور کے-الیکٹرک کا اپنا ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک ہے، ہر علاقے میں الگ الگ سطح کی چوری ہوتی ہے اور ریکوری کی الگ الگ شرح ہے۔ 5ڈسٹریبیوشن کمپنیز میں 60 فیصد ریکوری نہیں ہوتی، 5 ڈسکوز میں 79 ارب روپے کے یونٹس کا نقصان ہوتا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481