اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جیل میں مکھیاں،چھت سے پانی ٹپکتا ہے،نیند نہیں آتی

جیل میں مکھیاں،چھت سے پانی ٹپکتا ہے،نیند نہیں آتی

’جیل میں مکھیاں،چھت سے پانی ٹپکتا ہے،نیند نہیں آتی‘
عمران خان کے وکیل نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو رات کو نیند نہیں آتی، انہیں جہاں رکھا گیا وہاں چھت نہیں، پانی گرتا ہے اور مکھیاں ہیں ،اٹک جیل میں بی کلاس ہی نہیں ہے، یہ صرف تکلیف دینے کیلئےکیا جا رہا ہے۔

 

اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل میں منتقل کرنے کے حوالے سے درخواست میں شیر افضل مروت ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹک جیل میں بی کلاس ہی نہیں ہے، یہ صرف تکلیف دینے کیلئےکیا جا رہا ہے، حکام کہتے ہیں کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اٹک جیل میں رکھا گیا ہے، اڈیالہ جیل زیادہ محفوظ ہے یا اٹک جیل، یہ سب کو معلوم ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں سہولیات اور اٹک جیل سے منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی۔ وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو رات کو نیند نہیں آتی، انہیں جہاں رکھا گیا وہاں چھت نہیں، پانی گرتا ہے اور مکھیاں ہیں جبکہ اڈیالہ جیل میں سکیورٹی انتظامات بہتر ہیں اور بی کلاس بھی موجود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا حق ہے ہمیں اڈیالہ جیل منتقل کرکے بی کلاس فراہم کی جائے، بشریٰ بی بی جیل میں ملنے گئیں تو ان پر بھی مقدمہ بنانے کی کوشش کی گئی، الزام لگایا گیا کہ بشریٰ بی بی نے جیل اہلکار کو 20 ہزار روپے رشوت دینے کی کوشش کی۔

یاد رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس میں 5 اگست کو 3 سال کی سزا سنائی گئی تھی جس کے بعد انہیں لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا، بعد ازاں ایف آئی اے نے انہیں 19 اگست کو سائفر کی گمشدگی کے مقدمے میں بھی گرفتار کر لیا تھا۔اسلام آباد آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کی سزا معطل کر دی تھی تاہم سائفر کیس میں گرفتاری کی وجہ سے ان کی رہائی ممکن نہ ہو سکی تھی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481