تحریر :ام عزوہ
مینگورہ کی وہ سڑک جہاں ایک ماں کو دن دیہاڑے سفاک شوہر نے قتل کر دیا۔۔۔جبکہ موقع پر خاتون کے ہمراہ اس کا بچہ بھی تھا۔جس کے ذہن میں قاتل باپ کے فائر کا خوف منجمد ہو کر رہ جائے گا۔۔۔ وہ تو بیٹا ہے ۔۔ماں کے سر سےابلتا خون اور مدد کے لیے اس کی دہائیاں ، وہ سڑک بھی کبھی اس کرب کو نہیں بھلا سکے گی۔
وہ سڑک جس کے سینے پر اور بھی حادثات رونما ہوئے ہوں گے،دکھوں کے کئی ذائقے اور لہو کی کئی قسمیں اس کے کشادہ دامن نے جذب کی ہوں گی۔۔۔لیکن ایک ماں کا قتل وہ بھی اس کے بچے کے سامنے جس کی وہ کل دنیا تھی،وہ سڑک کبھی اس المیے کو بھلا نہ سکے گی۔۔۔اس تصویر کو آپ دیکھیں جس میں درد بھی تصویر ہو کر رہ گیا ہے۔اس بچے کا کرب بھی اس کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہو گیا ہے۔۔۔۔

جس نے اس کی دنیا چھینی وہ کوئی اور نہیں بدقسمتی سے اس کا باپ ہے۔۔۔۔،یہ تلخ حقیقت ایک بھیانک تکلیف کے ساتھ ہمیشہ اس بچے کے ہمراہ رہے گی۔خبر کے مطابق مذکورہ کی طرف سے شوہر سے علیحدگی یا خلع کی درخواست عدالت میں دائر کی گئی تھی۔۔مگر سفاک شوہر نے اسے دنیا سے اور اس کے معصوم بچے کو ماں سے جدا کر دیا۔
خبر کے مطابق مقتولہ کے دو بچے ہیں جو اس کے ساتھ ہی اس کے میکے میں رہتے تھے۔۔
اور بے کس ماں محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی تھی۔
آگے خبر کے مطابق۔۔۔۔۔کچھ نہیں ہے۔۔۔لیکن آپ اور میرے لیے یہ جھنجوڑ دینے والا احساس باقی رہ گیا ہے کہ دو معصوم بچے اب یتیم ہو گئے۔۔۔۔وہ باپ کے بچھڑنے پر بھی پل رہے تھے۔ماں ایک چڑیا کی طرح انہیں پروں میں سمیٹے ان کے دانے دنکے کا بندوبست کرلیتی تھی۔اب چوںکہ چڑیا صیاد کا شکار ہو گئی۔۔تو بچوں کی ہوک بھری کوک حساس دلوں کے لیے روگ بن گئی ہے۔
گل سن نی مائے میریے
تیرے نال سی چانن تاریاں دا
تیرے نال سی رنگ بہار دے
اک وار تے ویکھ لے روندیاں نوں
اک وار کلیجہ ٹھاردے
تیرے ہجراں سولی چاڑھیا
دکھ قبراں وچ اتار دے
یا مار دے ایس وچھوڑے نوں
یا سانوں وی اج مار دے
گل سن نی مائے میریے
تیرے بعد حیاتی انج ہوئی
جیویں راکھ پرانی لیر دی
اک یاد نیں سینہ پھاڑیا
اک یاد کلیجہ چیردی
گل سن نی مائے میریے
تیرے باجھ نیں راتا نھیریاں
سبھ بجھ گئے دیوے انبراں دے
توں جد دیاں اکھاں پھیریاں
ساڈے آل دوالے مورتاں
ساڈے چار چفیرے ڈھیریاں
گل سن نی مائے میریے
تیرے بعد وی جینا کیہ جینا
ساڈے حال پرانیاں ککراں دے
نہ روپ رہیا نہ رنگ رہیا
نہ جین دا کوئی ڈھنگ رہیا
کوئی درد گواچیاں روحاں دا
نت سولی اتے ٹنگ رہیا
گل سن نی مائے میریے
گل سن نی مائے میریے(شاعر: صغیر تبسم)
