اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آزادکشمیرحکومت3روپے یونٹ بجلی خرید کر34 روپے میں بیچتی ہے

نیپرا کی جانب سے کپیسٹی چارجز شامل کر کے بجلی مہنگی کئے جانے کا انکشاف

آزادکشمیرحکومت3روپے یونٹ بجلی خرید کر34 روپے میں بیچتی ہے

اطہر مسعودوانی

logo 1 jpg آزادکشمیرحکومت3روپے یونٹ بجلی خرید کر34 روپے میں بیچتی ہے

آزاد کشمیر میں گزشتہ تین ماہ سے عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اب سے میں اتنی تیزی آ گئی ہے کہ آزاد کشمیر کے تینوں ڈویژنز میں وسیع پیمانے پہ عوامی احتجاج ہو رہے ہیں جس میں شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتالیں بھی شامل ہیں۔آزاد کشمیر میں تین ماہ پہلے آٹے کے مسئلے پہ عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا اور اب بجلی کے بلوں میں خوفناک اضافے کی وجہ سے عوامی احتجاج میں شدت آ ئی ہے۔یہ بات حیران کن ہے کہ سیاستدان مختلف بیانات میں ہلکے پھلکے انداز میں اس عوامی احتجاج کی حمایت تو کر رہے ہیں لیکن جس طرح ان کی طرف سے عوامی مطالبات پر ہونے والے احتجاج کی حمایت میں اپنا کردار ادا چاہئے ، وہ ادا نہیں کیا جا رہا ۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر نے گزشتہ دنوں پاکستان کے ایوان بالا سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں بجلی کے امور سے متعلق اپنی شکایات پیش کیں تاہم آزاد کشمیر میں بجلی کے بلوں میں گراں اضافے کی وجوہات پاکستان کے بجائے آزاد کشمیر حکومت سے متعلق ہیں۔ آزاد کشمیر کے بجلی سے متعلق کئی مطالبات موجود ہیں تاہم بجلی کے بلوں میں اضافے کی وجہ سے جو عوامی احتجاج ہو رہا ہے ، وہ وجوہات، امور آزاد کشمیر حکومت کے دائرہ کارمیں آتی ہیں ۔

آزاد کشمیر کو پاکستان سے2.59پیسے کے ریٹ پہ بجلی مہیا ہوتی ہے، جبکہ آزاد کشمیر حکومت34/35روپے میں اپنےصارفین کو بجلی فروخت کرر ہی ہے۔آزاد کشمیر حکومت اس پر جتنے پہ ٹیکسز لگا رہی ہے ، وہ  فیڈرل گورنمنٹ کے شیڈول آف ریٹس /ٹیرف کی پیروی کر رہی ہے۔آزاد کشمیر میں54فیصد بجلی چوری، نان پیمنٹ یعنی لائن لاسز  ہے۔آزاد کشمیر حکومت  پاکستان سے 22لاکھ یونٹس خریدتی ہے اور 14لاکھ کا بل جاری کیا جاتا ہے،یعنی8لاکھ یونٹ آزاد کشمیر میں لائین لاسز بتائےہیں جس میں بجلی کی چوری اور دیگر وجوہات شامل ہیں۔

واپڈا نے نیلم جہلم پراجیکٹ کی تعمیر کے دوران نیلم جہلم سرچارج لینا شروع کر دیا، اس پر آزاد کشمیر حکومت نے بھی سرچارج وصول شروع کر دیا جبکہ اس پراجیکٹ کی تعمیر میں آزاد کشمیر حکومت کو کوئی عمل دخل، کوئی اخراجات نہ تھے۔ آزاد کشمیر حکومت اپنے صارفین سے13/14سال نیلم جہلم سرچارج وصول کرتی رہے جبکہ اس کا کوئی جواز نہ تھا۔نیلم جہلم بجلی منصوبے پر واپڈا/پاکستان حکومت نے آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا اور اس منصوبے کی وجہ سے علاقے کو پہنچنے والے ماحولیاتی نقصانات بھی عوامی تشویش کا ایک بڑا سبب ہیں۔

آزاد کشمیر حکومت پاکستان سے 2روپے59پیسے فی یونٹ بجلی خرید کر اس میں  اپنے اخراجات شامل کر کے صارفین سے بل وصول کرے توجائز بات ہے کہ اپنے سروس چارجز شامل کر کے بجلی بل وصول کئے جائیں تاہم حکومت آزاد کشمیر کو سروس مہیا کرنے کے حوالے سے بلوں کی وصولی کرنی چاہئے نا کہ بجلی بلز کی وصولی کمرشل بنیادوںپر اپنے مالی فائدے کے لئے کی جائے۔واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں95فیصد دیہات کو بجلی فراہم کی جاتی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں بجلی کے صارفین میں اسی فیصد  گھریلو صارفین ہیں۔

آزاد کشمیر کے شہریوں میں عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ منگلا ڈیم کے قیام کے وقت واپڈا اور حکومت پاکستان کے ساتھ آزاد کشمیر حکومت کے معاہدے میں آزاد کشمیر کو بجلی مفت فراہم کئے جانے کی بات کی گئی تھی جبکہ یہ حقیقت نہیں ہے،اس معاہدے میں آزاد کشمیر کو طے شدہ ریٹس پر بجلی فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی۔اسی طرح منگلا ڈیم اپ ریزنگ منصوبے کے وقت بھی آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدے میں بھی مفت بجلی کی فراہمی کی بات نہیں بلکہ طے شدہ ریٹس پہ بجلی فراہم کئے جانے کی بات شامل ہے۔

مہنگائی اور اوور بلنگ کے ستائے عوام کیلئے خوشخبری

مہنگائی اور اوور بلنگ کے ستائے عوام کیلئے خوشخبری

منگلا ڈیم اپ ریزنگ منصوبے کے وقت طے پائے معاہدے کے مطابق منصوبے اور ارد گرد کی آراضی بھی آزاد کشمیر حکومت کی قرار پائی ہے لیکن واپڈا اس معاہدے کے برعکس اس آراضی کو اپنی آراضی قرار دیتا ہے۔اس معاہدے میں میر پور میں پینے کے پانی اور آبپاشی کے لئے ڈیم کی جھیل سے پانی کی مقرر کردہ مقدار میں پانی کی فراہمی کی بات کی گئی ہے لیکن بعد میں ارسا کے اعتراضات کا بہانہ بناتے ہوئے میر پور میں پینے کے پانی اور زراعت کے لئے پانی کی فراہمی سے انکار کیا گیا جبکہ معاہدے کی رو سے واپڈا،حکومت پاکستان اس پانی کی فراہمی کے ذمہ دار ہیں۔

معاہدے میں یہ بھی تحریر ہے کہ کوئی بھی تنازعہ بات چیت سے حل کیا جائے گا اور اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہوا تواس کا فیصلہ تین رکنی ثالثی کمیٹی کے ذریعہ کیا جائے گا جس میں حکومت پاکستان کانامز د ایک نمائندہ،  ایک نمائندہ آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے نامزدکردہ اور چیف جسٹس آف پاکستان یا چیئرمین کی طرف سے مقرر کردہ شخص شامل ہو گا۔اختلافی امور کے بارے میں اس ثالثی کمیٹی کا فیصلہ حتمی  ہو گا۔

آزاد کشمیر میں بجلی کے بلوں پر عوامی احتجاج کے تناظرمیں  آزاد کشمیر حکومت کی بد انتظامی اور سیاسی مفادات کا بڑا عمل دخل ہے، جس کا بوجھ عوام پر پڑ رہا ہے۔آزاد کشمیر حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ وہ دو روپے انسٹھ پیسے میں بجلی لیتے ہوئے اپنے لوگوں کو کم نرخوں پہ بجلی فراہم کر سکتی ہے۔آزاد کشمیر حکومت  اپنے جاری بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو ایک ڈیڑھ سال میں مکمل کر ے اور گرڈ سٹیشن قائم کر کے نزدیکی آبادیوں کو فراہم کرے تو بڑی حد تک بجلی کے حصول کا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے اور باقی ماندہ ضرورت کی بجلی پاکستان سے حاصل کی جا سکتی ہے ۔

آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے لائین لاسز کو کو کم سے کم کرنے کے اقدامات بھی بہت ضروری ہیں کیونکہ اس وقت تقریبا54فیصد بجلی لائین لاسز کی نزر ہو رہی ہے۔پاکستان میں بھی چونتیس، پہنتیس فیصد لائین لاسز ہیں لیکن آزاد کشمیر میں اس کی نسبت لائین لاسز بہت زیادہ ہیں۔

یہ بات تعجب انگیز ہے کہ بجلی کے بلوں و عوامی تشویش کے دیگر امور کی وجہ سے عوامی مظاہروں کی صورت حال میں اسمبلی کا کوئی اجلاس نہیں بلایا گیا اور نا ہی آزاد کشمیر حکومت نے عوامی مطالبات کو پورا کرنے اور  احتجاجی تحریک کے نمائندوں سے اس مسئلے پہ گفتگو کی کوئی کوشش کی ہے ۔آزاد کشمیر حکومت اور ارکان اسمبلی کی طرف سے احتجاجی شہریوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کے مسائل کو حل کرانے اور ان مسائل کو حل کرنے سے متعلق کوشش میں بھی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی جا رہی۔عوامی احتجاج کے دوران سیاست دان ، اسمبلی و حکومت کے ارکان عوامی تشویش پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے سے بے پرواہ نظر آ رہے ہیں۔یہ طرزعمل آزاد کشمیر ہی نہیں پاکستان کے مفادات کو بھی نقصان سے دوچار  کر سکتاہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481