اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

10 ماہ کی بچی کے پیٹ سےبچہ نکال لیا گیا، حقیقت کیا ہے؟

10 ماہ کی بچی کے پیٹ سےبچہ نکال لیا گیا

10 ماہ کی بچی کے پیٹ سےبچہ نکال لیا گیا

رحیم یار خان کے شیخ زید  اسپتال میں 10 ماہ کی بچی کے پیٹ سے رسولی اور زیر پرورش بچہ نکال لیا گیا۔

والدین 10 ماہ کی بچی کو پیٹ درد کی شکایت پر شیخ زید  اسپتال لائے تھے۔

یہ بھی پڑھیں میرے شوہر بلال شاہ کو اغوا کرلیا گیا،حریم شاہ

جہاں چائلڈ اسپیشلٹ سرجن ڈاکٹر مشتاق احمد نے اس کا آپریشن کیا۔

یہ بھی پڑھیں جڑانوالہ میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعہ کا ڈراپ سین ہو گیا

انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے بعد بچی کی حالت خطرے سے باہر ہے،

طبی ماہرین کے مطابق اس طرح کا واقعہ 10 لاکھ بچوں میں سے ایک کے ساتھ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر مشتاق احمد نے مزید کہا کہ 1945ء سے اب تک دنیا میں اس نوعیت کے 100 کیسز سامنے آچکے ہیں۔

مسئلہ کب شروع ہوا؟

0c84b280 6cc9 42ed a809 0d175a764c2d jpg 10 ماہ کی بچی کے پیٹ سےبچہ نکال لیا گیا

صادق آباد سے تعلق رکھنے والے اصف کا کہنا ہے کہ ان کی بچی کو یہ مسئلہ ایک ماہ کی عمر میں شروع ہو گیا تھا۔ بظاہر وہ درد سے روتی تھی مگر کم عمری کے باعث کچھ بتانے کی پوزیشن میں نہیں دی ۔

والد کے مطابق ہم بچی کو لے کر مختلف ڈاکٹرز کے پاس جاتے رہے مگر کہیں سے کوئی حل نہ نکلا اس دوران بچی کا پیٹ پھولنا شروع ہو گیا جبکہ ہاتھ لگانے سے پیٹ سخت محسوس ہوتا تھا۔آصف کے مطابق بالآخر وہ بچی کو لے کر رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال پہنچے اور پیڈیا ٹرک سرجن پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد کو دکھایا۔

ڈاکٹر مشتاق کیا کہتے ہیں ؟

ڈاکٹر مشتاق نے برطانوی خبرساں ادارے بی بی سی کو بتایا کہ جب انہوں نے بچی کا معائنہ کیا تو پیٹ میں رسولی اور پانی کی تھیلی محسوس ہوئی جس کی تصدیق الٹراساؤنڈ سے بھی ہو گئی۔

64602a4c bae5 4d48 b5d2 df58b6238147 jpg 10 ماہ کی بچی کے پیٹ سےبچہ نکال لیا گیا
ڈاکٹر مشتاق کا کہنا ہے کہ ہمیں مزید تشخیص کے لیے ایم ار آئی کرانا تھا مگر والدین کے پاس وسائل نہ ہونے کی وجہ سے یہ ٹیسٹ نہ ہو سکا کیونکہ ویسے بھی صادق آباد میں یہ سہولت موجود نہیں ہے۔
چنانچہ ہم نے رسولی نکالنے کے لیے سرجری کا مشورہ دیا مگر ہمارے گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ بچی کے پیٹ میں بچہ موجود ہو سکتا ہے۔والدین گھر چلے لے گئے مگر پھر بچی کو زیادہ درد کی شکایت پر واپس آ کر کہا کہ ہم اپریشن کرانا چاہتے ہیں، اب جب اپریشن کیا گیا تو اندر پانی کی تھیلی بھی موجود تھی اور بچہ بھی۔

اس سوال پر کہ اپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ بچی کے پیٹ میں بچہ موجود تھا؟ ڈاکٹر مشتاق کا کہنا تھا کہ جس طرح چھ سات ماہ کے بچے کی خصوصیات ہوتی ہیں یہ بالکل ویسا ہی تھا اور چہرے کے علاوہ پورا جسم انسانی تھا کیونکہ حمل کے چھ سات ماہ بعد چہرہ بننا شروع ہوتا ہے ۔
ڈاکٹر مشتاق کے مطابق بچہ نما یہ چیز بچی کی چھوٹی آنت سے جڑی ہوئی تھی اور آنتوں کے درمیان سے خون لے رہی تھی۔جی بچی کا اپریشن ہوا اس کا وزن ساڑھےآٹھ کلو جبکہ پیٹ سے نکالے جانے والے بچے کا وزن دو کلو تھا۔

پاکستان میں یہ پہلا کیس نہیں ہے ؟

60608eb4 c72a 41d0 a004 306418465a3a jpg 10 ماہ کی بچی کے پیٹ سےبچہ نکال لیا گیا

بی بی سی کے مطابق یہ کوئی اپنی نوعیت کا پہلا کیس نہیں ہے، اس سے پہلے خود ڈاکٹر مشتاق بھی اس طرح کا ایک آپریشن کر چکے ہیں۔جس میں پیٹ میں موجود بچے کے جسم کے تمام اعضاء ابھی مکمل نہیں ہوئے تھے۔
طب کی دنیا میں اس کیس کو "فیٹس ان فیٹو ” کا نام دیا گیا ہے لیکنتمام طبی ماہرین اس نظریے پر متفق نہیں ہیں۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ اف میڈیکل سائنسز اسلام آباد سے وابستہ پیڈیاٹرک سرجری کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ندیم اختر کا کہنا ہے کہ عام تاثر یہ ہے کہ اس مرض کا تعلق حمل سے ہے، لیکن درحقیقت ایسا ضروری نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایک بچہ نما چیز پیٹ میں پلتی رہتی ہے لیکن اکثر یہ ایک ٹیومر یا رسولی ہوتی ہے جو ضروری نہیں کہ پیٹ میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہو، بلکہ یہ جس مقام پر ہوتا ہے وہیں جڑا رہتا ہے ۔عام طور پر یہ پیٹ کے نچلے حصے میں پایا جاتا ہے ۔

اسے "فیٹس ان فیٹو” کیوں کہا جاتا ہے؟

پروفیسر ندیم اختر کے مطابق اسے "فیٹس ان فیٹو” اس لیے کہا جاتا ہے کہ فیٹس میں تین تہیں موجود ہوتی ہیں جو اس ٹیومر میں بھی اسی طرح ہوتی ہیں۔بعض لوگ اسے جڑواں بچہ بھی کہتے ہیں مگر سائنسی اعتبار سے یہ بات مستند نہیں ہے۔
مذکورہ طبی نظریے کے مطابق عام طور پر یہ اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی خاتون میں جڑواں بچے کے آثار موجود ہوں لیکن حمل کے اغاز میں ہی ایک بچہ کسی وجہ سے دوسرے بچے کے ساتھ جڑ کر کسی نہ کسی حالت میں باقی رہتا ہے مگر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔
طبی ماہرین کے مطابق سن 2006 میں ایک ایسا ہی منفرد کیس اسلامآباد کے پمز ہسپتال میں سامنےآیا تھا جب  دو ماہ کی  ایک بچی کے پیٹ سے دو فیٹس یا مردہ بچے نکالے گئے تھے۔
اس وقت آپریشن کرنے والے ڈاکٹر ظہیر عباسی کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔انہوں نے بتایا تھا کہ دو ماہ کی بچی کے پیٹ سے دو جڑواں بچے نکال لیے گئے ہیں جو مر چکے تھے۔

ایسا لڑکوں میں بھی ہو سکتا ہے ۔طبی ماہرین

ee61cd28 56b8 4075 b482 e552ebf49dfe 1 jpg 10 ماہ کی بچی کے پیٹ سےبچہ نکال لیا گیا

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے کیسز صرف بچیوں کے لیے مخصوص نہیں ہیں بلکہ یہ بچے اور بچی دونوں میں ہو سکتے ہیں ۔ پمز کے پروفیسر ندیم اختر اس حوالے سے کہتے ہیں کے والدین کو پتہ نہیں چلتا اور پیٹ کے اندر ایک ٹیومر پلتا رہتا ہے جس کے بارے میں اس وقت شک ہوتا ہے جب بچے کا پیٹ پھول جاتا ہے ،یہی معاملہ صادق اباد کےآصف کی بچی کے کیس میں ہوا جس کا آپریشن ڈاکٹر مشتاق نے کیا۔ڈاکٹر مشتاق کے مطابق یہ دو مختلف قسم کی کیسز ہوتے ہیں ایک وہ جن میں پیٹ سے بچہ نکلتا ہے، جس کے خد و خال انسانی ظاہر ہوتے ہیں ،جبکہ دوسرا وہ کیس جس میں ٹیومر یا سرطان نکلتا ہے اور ایسے کیس میں مریض کے پیٹ سے دانت یا ہڈیاں ملتی ہیں تاہم انسانی خد و خال رکھنے والا بچہ نہیں ہوتا۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481