اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

شکست کاخوف یاکڑی شرائط؟نوازشریف کی واپسی کھٹائی میں پڑگئی

نواز شریف نے ن لیگ لاہور کی قیادت کو لندن طلب کرلیا

شکست کاخوف یاکڑی شرائط؟نوازشریف کی واپسی کھٹائی میں پڑگئی

کوہسار نیوز خصوصی رپورٹ

آئندہ انتخابات میں بدترین شکست کے خوف  اور طاقتور حلقوں کے ساتھ معاملات واضح نہ ہونے کے باعث مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے وطن واپسی سے گریز کی پالیسی اختیار کر لی ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنی معتمد سیاسی شخصیات اور میڈیا کے مخصوص حلقے کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی کی راہ میں کچھ قانونی رکاوٹیں حائل ہیں نیز یہ کہ نواز شریف کا یہ مطالبہ ہے کہ 2017 میں ان کی حکومت کو ہٹا کر تحریک انصاف کی راہ ہموار کرنے والے طاقتور حلقے  اعلانیہ طور پر اپنی اس غلطی کو تسلیم کریں اور اس پر معذرت خواہ ہوں ۔

لندن،نواز شریف اور مریم نواز جنیوا روانہ

کون بنے گا وزیر اعظم؟ کوئی بھی نہیں؟

واقفان حال کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ اطلاع جزوی طور پر درست ہے کیونکہ دو برس پہلے تک نواز شریف اپنے اس مطالبے پر اٹل تھے کہ "مجھے کیوں نکالا ” کا سبب بننے والے اپنی غلطی پر پشیمانی کا اظہار کریں ۔

یہ بھی پڑھیں سابق ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخواآدم خان جدون انتقال کر گئے

ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سےآصف علی زرداری نے ابتدائی طور پر ان ہاؤس تبدیلی کا ائیڈیا دیا تھا یا تحریک عدم اعتماد کے ذریعے انہیں چلتا کرنے کی تجویز دی تھی تو اس پر میاں نواز شریف نے دو ٹوک انداز میں واضح کر دیا تھا کہ وہ ایسی کسی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے جبکہ مولانا فضل الرحمن بھی ان کے ہم نوا تھے۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد کے حالات نے صورت حال یکسر تبدیل کر دی اور مارچ 2022 میں جنرل فیض کےآرمی چیف بننے کے خوف اور عمران خان کے اگلے 10 سالہ اقتدار کہ اندیشہ ہائے دور دراز کے تحت نواز شریف اپنا یہ موقف ترک کرنے پر مجبور ہو گئے کہ عمران خان کی حکومت کو اس کے وزن سے گرنے دیا جائے ۔

اس کے بجائے وہ تحریک عدم اعتماد کا نہ صرف حصہ بنے بلکہ نواز لیگ نے اس مہم کی قیادت کی اور نتیجے کے طور پر وزارت عظمی بھی حاصل کی۔

شکست کاخوف یاکڑی شرائط؟نوازشریف کی واپسی کھٹائی میں پڑگئی

شکست کاخوف یاکڑی شرائط؟نوازشریف کی واپسی کھٹائی میں پڑگئی

یہ بھی پڑھیں شاہینوں نے بھارت کے چھکے چھڑا دیئے،بارش نے بھرم رکھ لیا

نواز شریف اپنی جماعت کے اقتدار میں آنے کے کس حد تک خواہشمند تھے یا اگلے تین ماہ بعد اسمبلی توڑنے کا ارادہ رکھتے تھے اور اس کے لیے انہوں نے شہباز شریف پر دباؤ بھی ڈالا، اس سارے قصے کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو بھی اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ گزشتہ 15 ماہ تک شہباز شریف حکومت کی صورت میں نواز شریف ہی برسر اقتدار رہے مگر اس دوران مہنگائی اور معاشی بدحالی کی صورت میں شدید ترین بدنامی نواز لیگ کے حصے میں آئی،جس نے انے والے الیکشن کو مسلم لیگ نون کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنا دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق نواز لیگ کا خیال تھا کہ نواز شریف کی وطن واپسی کی صورت میں اسے الیکشن کیمپین کے لیے ایک مضبوط سہارا مل جائے گا، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک سال میں نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے بارہا دعوے کیے جاتے رہے اور یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ مسلم لیگ نون کے قائد وطن واپسی کے لیے بے تاب بیٹھے ہیں۔

 

کبھی مارچ کبھی جولائی اور کبھی ستمبر کی تاریخ دی جاتی رہی تاہم اس دوران  ممکنہ انتخابی مہم کے حوالے سے جو سروے کرائے گئے ان میں یہ واضح تھا کہ 15 ماہ کے شہباز شریف کے دور اقتدار نے نواز لیگ کی رہی سہی مقبولیت کو ٹھکانے لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اب پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کو منانے کیلئے شہباز شریف کو ٹاسک مل گیا

مولانا فضل الرحمان کو منانے کیلئے شہباز شریف کو ٹاسک مل گیا (فائل فوٹو)

ذرائع کے مطابق نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے مسلم لیگ نون نے ستمبر کی نئی تاریخ دی تھی جسے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی رخصتی سے بھی جوڑا جا رہا تھا تاہم اب ایک بار پھر یہ معاملہ التوا کا شکار ہوتا نظرآرہا ہے اور نواز لیگ کے ہمدرد اینکرز اور یوٹیوبرز کے ذریعے یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ نواز شریف نے وطن واپسی کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے سامنے کڑی شرائط رکھ دی ہیں جس میں اولین شرط یہ ہے کہ ان کی حکومت کو چلتا کرنے اور عمران خان کو اقتدار میں لانے پر اعلانیہ معافی مانگی جائے۔ان ذرائع کے بقول دوسری طرف سے یہ جواب دیا گیا ہے کہ جو کچھ غیر سرکاری طور پر جنرل باجوہ یا دیگر ذرائع سے منسوب بیانات میں کہا جا چکا ہے اسے کافی سمجھا جائے۔

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف دبئی سے اٹلی پہنچ گئے

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف دبئی سے اٹلی پہنچ گئے (فائل فوٹو)

ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاں ایک طرف مسلم لیگ نون اس تاثر کو پختہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ طاقتورحلقےآئندہ حکومت نوازشریف کو دہنے کے لیے بے تاب ہیں اور نواز شریف کی کڑی شرائط اس کی راہ میں حائل ہیں،

یہ بھی پڑھیں عمران خان کے بعد پرویز الٰہی بھی اٹک جیل منتقل

وہیں دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ لیگی قیادت پر یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر اقتدار  نوازلیگ کے پاس جاتا ہے تو "ان” کے لیے مسلم لیگ نون میں واحد چوائس شہباز شریف ہیں ۔فی الوقت یہ قبولیت یا مقبولیت نہ تو نواز شریف کو میسر ہے اور نہ مریم نواز یا حمزہ شہباز جیسے کسی دوسرے امیدوار کو۔

سیاست ممکنات کا کھیل ہے،اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں انتخابات کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا ہے یا نگرانوں کی نگرانی لامحدود ہوتی چلی جاتی ہے ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481