اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سیگمنڈ فرائیڈ جدید نفسیات کا بانی مگر متنازعہ فلسفی؟

754a9f31 d7b5 42ae 8009 0232308001e7

آسٹریائی نیورولوجسٹ سیگمنڈ فرائیڈ کو جدید نفسیات کا بانی سمجھا جاتا ہے۔وہ اپنے دور کی موثر ترین اور دانشور شخصیت تھا جس کی وضع کردہ تحلیلی نفسیات، انسانی نفسیات کی تھیوری اس کے مسائل کا علاج اور ثقافت و معاشرت کی تعبیر کا ذریعہ بھی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فرائیڈ  کو ایک متنازعہ نظریئے کا حامل فلسفی سمجھا جاتا رہا ہے جس کے تخلیق کردہ غلط مفروضوں نے بے شمار لوگوں کو متاثر کیا جبکہ اس کی تھیوری کے مخالفت میں بے شمار نظریات سامنے آئے مگر تمام تر مخالفانہ تجزیوں کے باوجود فرائیڈ کے نظریات کا اثر معاشرے کے بعض طبقات پر اب بھی بڑی حد تک موجود ہے۔

فرائیڈ مذہباً یہودی تھا۔ وہ ماہر نفسیات اور نفسیات کے ایک مکتبہ فکر  تحلیل نفسی یا "سائیکو انالیسز” کا بانی تھا۔اس نے لاشعور کے بارے میں بتایا، زبان بہکنے اور دماغی بیماری میں تعلق کی اطلاع دی۔ اس نے بتایا کہ بچپن کے تجربات کسی کے کردار کی تشکیل کرتے ہیں۔ نسلی یا خاندانی امتیاز اور معاشی پس منظر نہیں، اس نے تحلیل نفسی  کا طریقہ علاج تخلیق کیا۔ یہ وہ انقلابی طریقہ علاج تھا جس سے اس نے ثابت کیا کہ قابل تشخیص بیماری کو قدیم ترین طریقے یعنی گفتگو سے قابلِ علاج بنایا جا سکتا ہے، دواؤں، جادو ٹونے ، جھاڑ پھونک ، سرجری یا خوراک کی تبدیلی سے نہیں ،بلکہ ہمدرد معالج مریض سے گفتگو کرکے مسئلہ حل کر سکتا ہے۔

1caf748d 93d7 451f 9429 025327453d47 jpg
فرائیڈ 1856 میں آسٹریا کے علاقے موراویہ میں فریبرگ کے مقام پر پیدا ہوا ۔ ابھی چار سال کا تھا کہ خاندان ویانا منتقل ہو گیا جہاں فرائیڈ کو اپنی زندگی کے آخری برس تک مقیم رہا ۔1937 میں جب نازیوں نے آسٹریا کا الحاق کیا تو یہودی فرائیڈ کو برطانیہ جانے کی اجازت دے دی گئی ۔اس سے پہلے نازیوں نے اس کے گھر پر چھاپے مارے اور ایک موقع پر اس کی بیٹی کو گرفتار بھی کیا۔تب کینسر کے مہلک عارضے سے لڑتے فرائیڈ نےبالآخر ویانا چھوڑ کر لندن جانے کا فیصلہ کر لیا، کبھی بھی واپس نہ آنے کے لیے۔

لندن میں ہی اُس سے اگلے برس فرائیڈ 83 برس کی عمر میں انتقال کر گیا جبکہ ویانا میں نازیوں نے اس کی کتابیں جلا دیں۔آج کل ویانا ہی میں سالانہ کوئی75 ہزار افراد فرائیڈ سے موسوم اِس چھوٹے سے عجائب گھر کو دیکھنے کے لیے جاتے ہیں، جو اُسی جگہ قائم کیا گیا ہے، جہاں کبھی فرائیڈ رہتا اور اپنا کلینک چلاتا تھا۔

فرائیڈ کی دلچسپی کا دائرہ اور پیشہ ورانہ تربیت بہت وسیع تھی ۔اس نے ہمیشہ خود کو ایک سائنسدان تصور کیا جس کا مقصد انسانی علم کو وسعت دینا تھا ۔1873 میں اس نے ویانا یونیورسٹی کے میڈیکل اسکول میں داخلہ لیا اور چھ برس تک فزیالوجی میں تحقیق کرتا رہا۔ بعد ازاں نیورولوجی میں اسپیشلائزیشن بھی کی ۔1881 میں فرائیڈ نے میڈیکل کی ڈگری لی اور ویانا میں بطور ڈاکٹر کام کرنے لگا۔1886 میں شادی کے بعد فرائیڈ نے نفسیاتی مسائل کے علاج کیلئے ایک پرائیویٹ کلینک کھول لیا۔یہاں آنے والے مریضوں کا احوال ہی اس کی ائندہ تھیوریز کا ابتدائی مواد بنا۔

1886 میں پیرس میں قیام کے دوران فرائیڈ کا تعارف ایک فرانسیسی نیورالوجسٹ جین شیروٹ  سے ہوا جو ہسٹریا اور دیگر دماغی امراض کا علاج ہپناٹزم کے ذریعے کرتا تھا۔واپس آ کر فرائیڈ نے ہیپناٹزم پر طبع آزمائی کی مگر اسے اندازہ ہوا کہ یہ علاج زیادہ دیر پا نہیں ہے۔

تب فرائیڈ نے اپنے ایک دوست جوزف بریوئر کے تجویز کردہ طریقہ کار پر مزید کام کیا اور یہ نظریہ تشکیل دیا کہ بہت سارے نیوروسس (اعصابی خلل ) کا اصل ماخذ گہرے صدماتی تجربات ہوتے ہیں جو مریض کو ماضی میں ملے ہوتے ہیں تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شعور کے دائرے سے باہر نکلتے جاتے ہیں۔
چنانچہ علاج کے لیے مریض کو وہ صدمات یاد دلانا ، جذباتی اور دانشورانہ سطح پر انہیں دور کرنا اور اس کے نتیجے میں اعصابی وجوہات کو مٹانا ضروری تھا۔ اس تکنیک کی وضاحت فرائیڈ اور بریوئر نے "اسٹڈیز ان ہسٹریا ” میں کی۔

39cf0048 f0c1 4277 bd83 cc37880468bd jpg
فرائیڈ کے دوست بریوئر نے جلد ہی یہ محسوس کر لیا کہ فرائیڈ جنسی ماخذوں پر زیادہ توجہ دے رہا ہے اور اس سے علٰحیدگی اختیار کر لی۔تاہم فرائیڈ اکیلا ہی اپنے کام میں جتا رہا اور تحلیل نفسیات کی تھیوری اور پریکٹس کو مزید بہتر شکل دی۔1900 میں اس نے "خوابوں کی تعبیر”ٗ نامی کتاب شائع کی جسے اس کا بہترین تخلیقی کام تصور کیا جاتا ہے۔

1908 میں انٹرنیشنل سائیکلو انیلٹیکل کانگریس منعقد ہونے کے بعد فرائیڈ اور اس کے کام کی اہمیت تسلیم کر لی جاتی ہے۔1909 میں فرائیڈ کو امریکہ کا لیکچر ٹور کرنے کی دعوت ملتی ہے یہ لیکچر بعد میں 1916 میں منظر عام پر آئے جس نے اسے بے پناہ شہرت دی۔
فرائیڈ اپنی تحقیقات میں اس بات کا قائل تھا کہ بالخصوص خواتین مریضوں کے تحت الشعور میں دبے ہوئے زیادہ تر باعث تکلیف خیالات جنسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔اس نے اعصابی امراض کے علم الاسباب کو جنسی احساسات یا خواہش اور مخالف پابندیوں کے درمیان جدوجہد کے ساتھ مربوط کیا ۔

فرائیڈ کی یہ تھیوری جلد ہی ثقافتی، سماجی، آرٹسٹک، مذہبی اور بشریاتی مظاہر کے متعلق وسیع و عریض قیاس آرائیوں کی بنیاد بن گئی۔اس نے اس حوالے سے تین کتابیں لکھیں جن میں فرائیڈ نے لاشعور، قبل شعور اور شعور کی وضاحت کی۔اس کے علاوہ آئی ڈی (ID), ایگو یعنی انا اور سپر ایگو میں اس کی ساختیاتی کیٹگرائزیشن کے متعلق بتایا۔فرائیڈ کا کہنا تھا کہ آئی ڈی نومولود میں تسکین کی قدیم ترین تحریکات اور مسرت کی خواہشات سے مغلوب امنگوں کا نام ہے۔

اس کے بقول منطق کے قواعد سےآزاد ،حالات کے تقاضوں سے لاپروا اور بیرونی حقیقت کی مدافعت سے لا تعلق آئی ڈی کا محرک بدنی جبلت ہے ۔فرائیڈ کے مطابق مایوسی کے ناگزیر تجربے کے ذریعے بچہ خود کو حقیقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا سیکھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ثانوی عمل اس کی انا یا ایگو کی نشوونما کرتا ہے۔فرائیڈ کے مطابق جذبات کو دبانا سب سے زیادہ بنیادی نوعیت کا حامل ڈیفنس میکنزم ہے تاہم فرائیڈ نے دیگر عوامل کی بھی وضاحت کی جیسے رد عمل علٰیحدگی تردید  اور کجروی وغیرہ۔

فرائیڈ کی تین رکنی کیٹگرائزیشن کا اخری رکن "سپر ایگو” یعنی فوق الانا ہے جو معاشرے کے اخلاقی احکامات کو داخلی ذات کا حصہ بنانے کے ذریعے تشکیل پاتی ہے۔تشکیل کے اس عمل میں والدین کا عمل دخل زیادہ ہے ۔فرائیڈ کے مطابق سپر ایگو ،آئی ڈی میں موجود کچھ جارحانہ عناصر مستعار لے کر اپنی کچھ تادیبی قوت حاصل کرتی ہے۔ یہ جارحانہ عناصر داخلی ذات میں انا کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں اور احساس جرم پیدا کرتے ہیں تاہم سپر ایگو کا زیادہ تر حصہ سماجی دساتیر کو ذات کا حصہ بنا لینے پر ہی مشتمل ہے ۔

فرائیڈ ذہنی فعالیت کا تعلق خارجی مادی حالات اور اس کی وجوہ کے ساتھ نہیں جوڑتا۔بلکہ زینی فعالیت کو مادی عوامل کے پہلو بہ پہلو موجود ایک خود مختار چیز کے طور پر دیکھتا ہے جس پر خصوصی ناقابل ادراک ورائے شعور نفسیاتی قوتیں حکمران ہیں ۔
فرائیڈ تمام ذہنی صورتوں انسان کے تمام افعال نیز تاریخی واقعات اور سماجی مظاہر کو بھی تحلیل نفسی کے ماتحت رکھتا یعنی انہیں لاشعوری بالخصوص جنسی تحریکات کے اظہار سے تعبیر کرتا ہے۔لہذا اس نے آئیڈیل لاشعور یا ائی ڈی کو تاریخ انسانی، اخلاقیات ،آرٹ، سائنس، ریاست ،قانون ،مذہب اور جنگوں وغیرہ کی علت قرار دیا ہے ۔

فرائیڈ نے نفسیات کی دنیا میں جو انقلابی نظریات متعارف کروائے، اُن میں ایڈی پس کمپلیکس تھیوری بھی شامل تھی، جس کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ بچے اپنے والدین میں مخالف جنس کی جانب کشش محسوس کرتے ہیں۔ جہاں ایک بڑا حلقہ فرائیڈ کے نظریات کو سراہتا تھا، وہیں بہت سے حلقے اُنہیں ہدفِ تنقید بھی بناتے تھے۔

9ba0819b d80e 45c1 be31 e7ca8b081e77 jpg
یہ امر قابل ذکر ہے کہ فرائیڈ سے پہلے کے فلسفیوں نے انسانی شعور، ادراک اور جذبات و تحریکات کے ماخذ بیان کرنے میں الوہی مداخلتوں کو اہمیت دی تھی جبکہ فرائیڈ نے انسانی نفسیات کا مطالعہ  کرتے ہوئے اسے باقاعدہ ایک سائنس کی شکل دے دی ۔اگرچہ فرائیڈ کے نظریات تاحال زیر بحث ہیں اور بہت سارے لوگ اس کے نظریات کو رد کرتے ہیں اور اس کے حق میں بے شمار دلائل بھی بیان کرتے ہیں لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ فرائیڈ نے انسانی سوچ کو ایک نئی نہج پر ڈالا اور اپنے عہد کی سائنسی تحقیقات کو انسانی مطالعے میں استعمال کیا ۔چنانچہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر فلسفے کا کام زندگی کو بیان کرنا اور سمجھنا ہے تو فرائیڈ کا شمار عظیم ترین فلسفیوں میں ہو سکتا ہے۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481