اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سیدنا عمر بن خطاب کا ایک اصلاحی خط

سیدنا عمر بن خطاب کا ایک اصلاحی خط

 

جمیل الرحمن عباسی

تربیت و اصلاح ،اہم دینی ذمہ داریوں میں سے ہیں۔صدر اول تا عہد حاضر ، اس کا  اصل انحصار تو صحبت و ملازمت وملاقات شیخ پر رہا ہے لیکن جہاں جہاں  اس میں دشواری ہوئی وہاں دیگر ذرائع بھی اختیار کیے گئے۔ ان ذرائع میں ایک اہم ذریعہ’’آدھی ملاقات‘‘ یعنی خط بھی ہے۔چنانچہ اسلامی روایت اصلاحی خطوط کی ایک روشن تاریخ رکھتی ہے جونبی اکرمﷺ کے دعوتی خطوط ، صحابہ کرامؓ کے انتظامی و تربیتی خطوط سے لے کر حضرات صوفیائے کرام کے اصلاحی خطوط تک پھیلی ہوئی ہے۔ ایک روایت میں سیدنا عمر بن خطابh کے ایک اصلاحی خط کا ذکر ملتا ہے ، مکمل روایت درج ذیل ہے :
عَنْ یَزِیدِ بْنِ الْأَصَمِّ قال:  أَنَّ رَجُلًا کَانَ ذَا بَأْسٍ وَکَانَ یُوفَدُ عَلَی عُمَرَ لِبَأْسِہِ، وَکَانَ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ، وَأَنَّ عُمَرَ فَقَدہُ فَسَأَلَ عَنْہُ فَقِیلَ لَہُ: تَتَابَعَ فِی ہَذَا الشَّرَابِ، فَدَعَا کَاتِبَہُ فَقَالَ اکْتُبْ: مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِلَی فُلَانٍ، سَلَامٌ عَلَیْکَ، فَإِنِّی أَحْمَدُ إِلَیْکَ اللّٰہَ الَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ (غَافِرَ الذَّنْبِ، وَقَابِلَ التَّوْبِ، شَدِیدِ الْعِقَابِ، ذِی الطَّوْلِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ إِلَیْہِ الْمَصِیرُ) ثُمَّ دَعَا وَأَمَّنَ مَنْ عِنْدَہُ، وَدَعَوْا لَہُ أَنْ یُقْبِلَ اللّٰہُ بِقَلْبِہِ، وَأَنْ یَّتُوبَ عَلَیْہِ، فَلَمَّا أَتَتِ الصَّحِیفَۃُ الرَّجُلَ جَعَلَ یَقْرَأُہَا وَیَقُولُ: (غَافِرِ الذَّنْبِ)، قَدْ وَعَدَنِی اللّٰہُ أَنْ یَغْفِرَ لِیْ، وَ (قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ)قَدْ حَذَّرَنِی اللّٰہُ عِقَابَہُ، (ذِی الطَّوْلِ) وَالطَّوْلُ الْخَیْرُ الْکَثِیْرُ، (لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ إِلَیْہِ الْمَصِیْرُ)، فَلَمْ یَزَلْ یُرَدِّدُہَا عَلَی نَفْسِہٖ، ثُمَّ بَکَی، ثُمَّ نَزَعَ فَأَحْسَنَ النَّزْعَ، فَلَمَّا بَلَغَ عُمَرَ أَمْرُہُ قَالَ:  ہَکَذَا فَاصْنَعُوا، إِذَا رَأَیْتُمْ أَخًا لَکُمْ زَلَّ زَلَّۃً فَسَدِّدُوہُ، وَوَفِّقُوہُ، وَادْعُوا اللّٰہَ أَنْ یَتُوبَ عَلَیْہِ، وَلَا تَکُونُوْا عَوْنًا لِلشَیْطَانِ عَلَیْہِ
(حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصطفیاء ،تفسیر ابن کثیر، اوائل تفسیر سورۃ غافر )
’’یزید بن اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل شام میں سے ایک بہادر اور بارعب آدمی ، اپنی شان و شوکت کے سبب مختلف وفود میں شامل ہو کر سیدنا عمر hکے پاس آیا کرتا تھا۔ ایک بار وہ کافی عرصہ غیر حاضر رہا تو سیدنا عمرhنے اس کے بارے میں پوچھا ۔ بتایا گیا کہ وہ شراب کے نشے میں دھت رہنے لگا ہے۔ پس آپ نے اپنے کاتب کو بلایا اور خط لکھوایا: عمر بن خطاب کی طرف سے فلاں کے نام ، سلام ہو تجھ پر، میں تیرے سامنے اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور وہ گناہوں کو معاف کرنے والا ، توبہ کا قبول کرنے والا اور بڑی طاقت والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر     آپ h نے ( بلند آواز سے )دعا کی اور ان کے پاس موجو د لوگوں نے اس پر آمین کہی اور آپؓ نے دعا کی کہ اللہ اس کے دل کو پھیر دے اور اسے توبہ کی توفیق عطا فرما دے ۔  پس جب خط اس بندے کو ملا اور جب اس نے پڑھا: (غَافِرِ الذَّنْبِ) تو کہنے لگا ’’اللہ تو مجھے مغفرت کا وعدہ دے رہا ہے‘‘اور جب اس نے پڑھا کہ (قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیدِ الْعِقَابِ) تو کہنے لگا کہ اللہ مجھے اپنے عذاب اور پکڑ سے ڈرا رہا ہے، اور جب اس نے   (ذِی الطَّوْلِ) پڑھا تو کہنے لگا یہ تو خیر کثیر ہے، پھر جب اس نے (لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ إِلَیْہِ الْمَصِیرُ) پڑھا تو  اسے خود پر منطبق کرتے ہوئے بار بار دھرانے لگا اور وہ رونے لگا۔بہرحال اس نے شراب ترک کی اور توبہ کی اور توبہ میں راسخ رہا ۔یہ تفصیل جب سیدنا عمر hکو پہنچی تو انہوں نے لوگوں سے فرمایا : اسی طرح کیا کرو، جب تم اپنے کسی بھائی کو دیکھو کہ وہ کسی برائی میں جا پڑا ہے تو اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو اور اسے نیکی کی طرف لانے کی کوشش کرو اور اللہ سے دعا کرو کہ وہ اسے توبہ کی توفیق دے اور (غلط انداز سے یا لعنت ملامت سے) اس کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بنو۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ تربیت و اصلاح امراء کی     ذمہ داریوں میں شامل اور اسؤہ فاروقی ہے۔مصلح کواپنے متعلقین ، احباب یا زیر تربیت افراد کی غیر حاضری کو محسوس کر کے ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنی چاہییں اور اُسے ہر لحاظ سے متعلقین کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے یہاں تک کہ ان کی اصلاح طلبی کے بغیر بھی کی جا سکتی ہے۔ سیدنا عمرؓ کے طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح میں بلاوجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔اس روایت سے اصلاحی خطوط تحریر کرنے کا استحباب معلوم ہوتا ہے جیسا کہ  صلحائے امت اور صوفیائے کرام کا طرز عمل اور ان کے اصلاحی خطوط مشہور ہیں۔
٭سیدنا عمر h نے مخاطب کوکنائے  میں نصیحت کی۔یہ انداز سب سے عمدہ ہے اور اکثر نبی اکرمﷺ یہی طریقہ اختیار فرمایا کرتے تھے، البتہ صراحتاً فہمائش کرنے کا جواز بھی سیرت سے ثابت ہے ۔سیدنا عمر ؓ نے کنائے کاطریقہ اس لیے اختیار کیا کہ وہ آدمی صاحب عقل تھا جیسا کہ سیاق روایت سے اندازہ ہوتا ہے۔ پس کنائے سے نصیحت کرنا افضل ہے، البتہ اگر مخاطب کے بارے میں تجربے یا گمانِ غالب سے معلوم ہو کہ وہ کنائے کو نہیں سمجھ سکے گا یا صراحت کے بغیر اصلاح کی امید نہ ہو تو صراحتًا بھی نصیحت کی جا سکتی ہے۔ تذکیر و نصیحت میں ترغیب و ترہیب دونوں کا ذکر کرنا چاہیے ۔
٭اصلاحی عمل میں غلط طرز عمل ، لعنت ملامت، تذلیل و تمسخر ، بد دعا  اور اللہ کی رحمت سے مایوس کرنے وغیرہ سے مخاطَب میں اصلاح کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا، بلکہ ضد اور ہَٹ پیدا ہوتی ہے اور یہ گویا اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد ہے جیسا کہ ایک روایت مرفوع میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔
٭ سمجھنا چاہیے کہ لوگوں کی ہدایت داعی و مربی کے نہیں بلکہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔لہٰذا مبلغین اور مربی حضرات کو مامورین اور مدعو و متربی اشخاص کے لیے دعاگو رہنا چاہیے خاص کر ان کے پس پشت کہ اس کا اجر اور قبولیت کی امید زیادہ ہے اور دعا کرنے والے کو فرشتوں کی دعائیں بھی حاصل ہوتی ہیں۔
٭ کسی کے خط یا نصیحت یا آیات قرآنی یا احادیث مبارکہ کو بغور پڑھنا چاہیے ،اہم مقامات کو بار بار دھرانا چاہیے اورمضامین کو خود پر منطبق کر نا چاہیے اور مضامین و الفاظ کا تاثر لینا چاہیے۔
 

 

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481