Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نیب قانون کے ذریعے سیاسی انتقام کاسلسلہ ختم ہوناچاہیے،چیف جسٹس

نیب قانون کے ذریعے سیاسی انتقام کاسلسلہ ختم ہوناچاہیے،چیف جسٹس

نیب قانون کے ذریعے سیاسی انتقام کاسلسلہ ختم ہوناچاہیے،چیف جسٹس
چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے نیب ترامیم کیس میں ریمارکس دیے کہ نیب قانون کے ذریعے سیاسی انتقام کاسلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

نیب قانون کے ذریعے سیاسی انتقام کاسلسلہ ختم ہوناچاہیے،چیف جسٹس

نیب قانون کے ذریعے سیاسی انتقام کاسلسلہ ختم ہوناچاہیے،چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے نیب ترامیم کےخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی۔کیس کی سماعت کے سلسلے میں حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں  وزیراعظم آزاد کشمیر نےپونچھ ڈویژن کیلیےتاریخی انتظامی پیکج کی منظوری دے دی

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ نیب نے 50 کروڑ سے کم کرپشن کے مقدمات واپس لے لیے،کس قانون کے تحت یہ تفریق بنائی گئی ہے؟ اس پر وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پاکستان میں احتساب کے نظام کا محافظ نیب ہے۔ اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ احتساب کے قوانین میں سب سے سخت قانون نیب کا ہی ہے،

یہ بھی پڑھیں آرمی چیف نے ٹلہ فائرنگ رینج کا دورہ، مشقوں کا معائنہ کیا

نیب کے دائرے سے نکلنے والےکسی اورقانون کے تحت احتساب کے عمل میں شامل ہوں گے، کیا 50 کروڑ کی حد اس لیے مقررکی گئی کہ بڑی مچھلی کو پکڑا جائے؟ کیا 50 کروڑ سے کم کی کرپشن کرنے والوں کی عزت افزائی کی جارہی ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب ٹرائل کی رفتاربہت سست ہوتی ہے،

نیب ترامیم 2022 میں انکوائری کے وقت ملزم کی گرفتاری کو نکالا گیا،

جولائی2023 میں نیب قانون میں دوبارہ انکوائری سطح پرگرفتاری کوشامل کیا گیا،

یہ بھی  پڑھیں پٹرول ڈیزل 10 سے 15روپے لٹر تک مہنگا ہونے کا امکان

نیب کیسز میں انکوائری کی سطح پرگرفتاری کے نقص کونکال کردوبارہ شامل کیا گیا،

انکوائری سطح پرگرفتاری نیب کی گرفت اور سیاستدانوں کےگردگھیرا تنگ کرنے کے لیے کی گئی۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نیب قانون کے ذریعے سیاسی انتقام کاسلسلہ ختم ہوناچاہیے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481