اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سزا معطلی کےبعد عمران کی نااہلی ختم یابرقرار؟ قانون دان تقسیم

تھانہ سنگجانی میں درج مقدمہ میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور

توشہ خانہ کیس میں سنائی گئی سزا ہائی کورٹ کی جانب سے معطل کئے جانے کے بعد عمران خان  کی نااہلی ختم ہوئی یانہیںاس حوالے سے قانونی  ماہرین  کی رائے تقسیم نظر آتی ہے۔

بعض ماہرین  کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف کی نااہلی برقرار رہے گی، جبکہ کچھ کے خیال میں سزا کی معطلی کے ساتھ نااہلی بھی ختم ہو جائے گی۔نامور قانون دان اور سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کا کہنا ہے کہ سزا معطلی کا مطلب ہے کہ جیل سے رہائی مل سکتی ہے لیکن سزا برقرار رہتی ہے تاہم یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس فیصلے سے نا اہلی ختم ہوگی یا نہیں۔ اشتر اوصاف نے کہا کہ دو سال کی سزا ہوتی ہے تو نا اہلی 5 سال تک رہتی ہے۔ سزا معطل ہونے سے نا اہلی ختم نہیں ہوسکتی، البتہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اب جرمانہ نہیں دینا پڑے گا۔

شہباز حکومت کا حصہ رہنے والے سابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی محض عارضی ریلیف ہے۔پی ٹی آئی کو مختصر فیصلے پر مٹھائی تقسیم نہیں کرنی چاہئے،ان کا کہنا ہے کہ  چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا بھی اپنی جگہ برقرار ہے اور نا اہلی بھی۔

ماہر قانون سلمان اکرم راجا اس حوالے سے قدرے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ کیس کے فیصلے میں نقائص تھے جس پر یہی فیصلہ متوقع تھا، اس فیصلے کے بعد میری نظر میں عمران خان کی نا اہلی نہیں رہے گی، لیکن جب سزا ہی ختم ہوگئی تو نا اہلی بھی نہیں ہونی چاہیے، اس پر بحث ہونی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے نا اہلی نوٹیفکیشن کا معاملہ عدالت میں آ سکتا ہے۔

سپریم کورٹ بار کے صدر اور نامور ماہر قانون بیرسٹر عابد زبیری کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی مرکزی اپیل کے فیصلے تک سزا معطل ہے، ختم نہیں ہوئی جبکہ نا اہلی برقرار ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت نے آئین و قانون کے مطابق فیصلہ دیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں چیئرمین پی ٹی آئی کو رہا نہیں کیا جائیگا، سائفر کیس میں پولیس اے ٹی سی سے گرفتاری کی اجازت لے چکی ہے، اس کیس میں اگر ہائیکورٹ ضمانت دے دے تو ان کی رہائی ہو سکتی ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481