اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جرگہ – ڈیکورم – انجمنِ ستائشِ باہمی – لکوٹ پیلس

جرگہ - ڈیکورم - انجمنِ ستائشِ باہمی - لکوٹ پیلس

حماد سکندر عباسی ۔۔ عام آدمی لیگ

جرگے کا ڈیکورم، کسی عوامی ایشُو کا کم اور ایک جماعت کی ٹاپ لیڈر شِپ سے لے کر اس کے لیبر وِنگ کے قائدین کی انجمن ستائشِ باہمی کا منظر زیادہ پیش کر رہا تھا. ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ تمام تر توجہ لوگوں کا مجمع بُلا کر ہال کو بھرنا ہے، اور انہیں یہ تسلی دینا کہ فلاں صاحب وی پہنچنے والے ہیں اور فلاں صاحب بھی یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔

120 فُٹ دونوں اطراف کی طرف ناجائز قبضے کے خلاف، ایک رِٹ پٹیشن درکار تھی جو کہ غالباً تیار بھی ہو چکی ہے. مختلف تنظیموں اور جماعتوں کی مدعیت کے ساتھ ہم آہنگی درکار تھی. جہاں سب مل کر یہ عہد کر لیتے کہ ہم کم ازکم اس مدعے 120 فُٹ پر ہی اکٹھے ہوئے ہیں اور اس کے خلاف ہر فورم پر جائینگے. لیکن جرگہ اور جرگے کا اسٹیج جرگہ کم اور ایک تقریری مقابلوں کا اسٹیج زیادہ معلوم ہو رہا تھا. کوئی 1857 کی جنگِ آزادی سے شروع کرتا تو کوئی اہلیانِ کوہسار کی غیرت مندی کی تاریخ دہرا رہا ہوتا.

شاہد خاقان صاحب کی آمد ہوئی، جس کا طویل انتظار تھا۔ انہوں نے آ کر سیدھی بات کی اور بنا کسی مبالغے کے کہا کہ سیکشن 4 اور 120 تجاوز سراسر ظلم پر مبنی نوٹیفکیشن ہے جبکہ 66 فُٹ اور 96 فُٹ والا این ایچ اے والا ہم نے کلئیر کروا کے دینا ہے. پھر پڑھیے کہ ان کے الفاظ یہی تھے کہ 66 فُٹ او 96 فُٹ ہم نے کلئیر کروا کے دینا ہے چونکہ یہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے. لیکن ایک بات ہے کہ انہوں نے مبالغوں کا سہارا لے کر "شرکاء جلسہ ” کا خون بلاوجہ بالکل بھی نہیں گرمایہ۔

شرکاء جلسہ میں سپریم کورٹ کے وکیل نظیر عباسی صاحب اور جج شفقت محمود عباسی صاحب بھی موجود تھے. مری بار کے صدر اسد محمود عباسی بھی موجود تھے شاید دیگر بھی قانونی ماہرین وہاں موجود ہوئے ہوں، انہوں نے تمام تر قانونی معاملات کا ذکر کیا جو کہ پٹیشن کے لازم جز ہوں گے اور یہی لوگ اگر اس کی قانونی جنگ لڑیں تو یقیناً یہ نوٹیفکیشن معطل ہو سکتا ہے۔

بہت جلد یہ خبر بھی آپ سنیں گے کہ چیف سیکرٹری نے شاہد خاقان، حافظ عثمان صاحب اور راجہ عتیق سرور و اسامہ اشفاق سرور کی "خصوصی کاوشوں” کے بعد نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے.

اللہ کرے کہ یہ "خصوصی کاوشیں” جلد پایہ تکمیل تک پہنچیں چونکہ اہلیانِ مری کو ان پر مکمل اعتماد ہے.

چیف سیکرٹری پنجاب سابقہ حکومت کا لگایا ہوا ایک مہرہ ہے جس نے مری کے کاروباری طبقے کے خلاف محاذ کھڑا کر دیا ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے اپنی ایک آنکھ تو کُھلی رکھی اور خوب آپریشن کیا لیکن دوسری آنکھ بند کر دی اور رشوت کھا کر دو نمبر نقشے پاس کرنے والوں اور اپروولز دینے والے سرکاری افسران کو کلین چٹ تھما دی.

اللہ کرے کہ گزشتہ کل کا جرگہ اپنے اصل مقاصد کے حصول کے لئیے کارآمد ثابت ہو اور شرکاء جلسہ کا آنا جانا ، بیٹھنا، کھانا ، پینا اور تالیاں بجانا اللہ پاک قبول فرمائے آمین.

متاثرین ایکسپریس وے، یہاں اسٹیک ہولڈرز ہیں جن میں ماشاء اللہ خاصے بااثر نام بھی شامل ہیں. اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ 120 فُٹ کے ناجائز قبضے کے خلاف ہم بھی آپ کے ساتھ ہی

و ما علینا الا البلغ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481