اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ضروری نہیں امریکا کے ساتھ ہر معاملے پر اتفاق ہو، نگراں وزیراعظم

ضروری نہیں امریکا کے ساتھ ہر معاملے پر اتفاق ہو، نگراں وزیراعظم

ضروری نہیں امریکا کے ساتھ ہر معاملے پر اتفاق ہو، نگراں وزیراعظم
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں امریکا کے ساتھ ہر معاملے پر اتفاق ہو۔

اسلام آباد میں ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبا سے سوال و جواب کی نشست کے دوران انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ملکوں کے درمیان امور پر اتفاق اور اختلاف رہتا ہے، اسی لئے یہ ضروری نہیں کہ امریکا کے ہر معاملے پر اتفاق ہو، البتہ امریکا کے ساتھ مل کر پاکستان نے طویل جنگ لڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے امریکا کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلقات ہیں جب کہ ہم دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی شراکت داری چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں مری میں انسداد تجاوزات آپریشن کے خلاف گرینڈ جرگہ شاہد خاقان عباسی

انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ امریکی معاشرہ ایک متنوع حیثیت کا حامل ہے، گزشتہ 200 برسوں میں اس نے زبردست ترقی کی، باقی ملکوں کے لئے امریکی ترقی سے سیکھنے کے مواقع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں ہم سب نے مل کر ملک کو اس حال تک پہنچایا ۔۔شاہد خاقان عباسی

نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے مل کر عالمی امن کے لئے بہت اہم کردار ادا کیا ہے، ایک بڑی سپر پاور روس اور امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک کا بڑا اتحاد ہمارے پڑوس میں موجود رہا، جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے عالمی طاقتوں کی ہمارے پڑوس میں موجودگی کا ہم پر گہرا اثر ہوا۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو ایک دشمن کے طور پر کیوں پیش کیا جاتا ہے؟ البتہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہمارے وسائل اور اخراجات میں توازن نہ ہونا ہے۔
نگراں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز امریکی معاشرے میں ہماری پہچان ہیں، یہ اپنی مہارت کی وجہ سے دنیا میں جانے جاتے ہیں، پاکستان اپنے ڈاکٹرز کی اعلیٰ تعلیم اور معیاری تربیت پر بہت خرچ کرتا ہے۔
پاکستان سے بیرون ملک جانے سے متعلق نگراں وزیراعظم نے کہا کہ اچھے مواقع کی تلاش میں ملک سے باہر جانا کوئی انہونی بات نہیں، 60 اور70 کی دہائی میں بھارت سے پڑھے لکھے نوجوان ملک سے باہر گئے اور 30 سال بعد وہی لوگ اپنے ملک کا قیمتی اثاثہ ثابت ہوئے، اس لیے ضروری ہے ہمارے نوجوان جہاں بھی جائیں کامیاب ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام بہت باصلاحیت ہیں، عوام میں موجودہ بحرانوں پر قابو پانے کی مکمل صلاحیت ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481