اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

لفٹ میں پھنسے لطیف کھوسہ کو آدھے گھنٹے بعد باہر نکال لیا گیا

لفٹ میں پھنسے لطیف کھوسہ کو آدھے گھنٹے بعد باہر نکال لیا گیا

اسلام آباد ہائیکورٹ کی لفٹ میں پھنسے لطیف کھوسہ کو آدھے گھنٹے بعد باہر نکال لیا گیا
اسلا آباد ہائیکورٹ کی لفٹ میں پھنسے چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کو لفٹ کے دروازے توڑے کر آدھے گھنٹے بعد باہر نکال لیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ کیس کی سماعت کے بعد جب واپس روانہ ہوئے تو وہ عدالتی لفٹ میں پھنس گئے جس کے بعد ہائیکورٹ کی عمارت کے مینٹیننس ڈپارٹمنٹ کو اطلاع دی گئی

یہ بھی پڑھیں مری تجاوزات آپریشن میں ہاؤسنگ سوسائٹیز کو کھلی چھوٹ حاصل؟

لطیف کھوسہ تقریباً 30منٹ سے زائد لفٹ میں پھنسے رہے جب کہ مینٹیننس کے عملے نے لفٹ کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر دروازہ نہ کھل سکا جس کے باعث لفٹ کے باہر کھڑے وکلا نے لفٹ کا دروازہ توڑنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیں مانسہرہ بیوی کےقتل کو خودکشی کا رنگ دینے والا پکڑا گیا

لطیف کھوسہ کے ہمران نعیم پنجو تھا بھی موجود تھے جنہوں نے لفٹ میں پھنسنے کے بعد ٹویٹ کیا کہ ’’ہم ہائی کورٹ کی لفٹ میں پھس گئے ہیں،سانس بند ہو رہا ہے،ابھی تک کوئی بندہ نہیں آرہا اوپر سے سے لائٹ بھی بند کر دی گئی ہے ‘‘۔

لطیف کھوسہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی دوسری منزل پر لفٹ میں پھنسے اور لفٹ گراؤنڈ فلور تک نہ پہنچی

جس کے بعد لفٹ کے باہر موجود وکلا نے شور شرابا شروع کردیا،انتظامیہ نے لفٹ کا

دروازہ کھولنے کے لیے ریسکیو کے عملے کو طلب کیا جس کےبعد ریسکیو اہلکاروں نے لفٹ کا دروازہ توڑ کر تمام افراد کو باہر نکالا

یہ بھی پڑھیں کیبل کاریں اور چیئر لفٹ ۔۔۔  کرنے کے اصل کام

جس میں تمام افراد کی حالت غیر تھی اور وہ پسینے میں شرابور تھے

،ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے

کہ لفٹ میں گنجائش سے زیادہ لوگوں کی وجہ سے لفٹ رکی

جب کہ لفٹ میں کوئی ایمرجنسی الارم نہیں ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481