اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کیبل کاریں اور چیئر لفٹ ۔۔۔  کرنے کے اصل کام

کیبل کاریں اور چیئر لفٹ ۔۔۔  کرنے کے اصل کام

کیبل کاریں اور چیئر لفٹ ۔۔۔  کرنے کے اصل کام

الائی، ضلع بٹگرام کی ایک تحصیل ہے۔ یہ دور افتادہ اور قدرتی حسن کا شاہ کار پہاڑی علاقہ خیبر پختونخوا کا حصہ ہے۔

کیبل کاریں اور چیئر لفٹ ۔۔۔  کرنے کے اصل کام

کیبل کاریں اور چیئر لفٹ ۔۔۔  کرنے کے اصل کام

تحصیل الائی کی آبادی لاکھوں نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں ہموار زمین کم ہے اور دیو ہیکل پہاڑوں پر مقامی آبادی کے مسکن ہیں۔ ایک پہاڑ پر بنے کچے، پکے راستے بھی اگرچہ بہت خطرناک ہیں اور یہاں اکثر حادثات ہوتے رہتے ہیں لیکن اصل مسئلہ دو مختلف پہاڑوں پر مقیم آبادی کا ایک دوسرے سے اتصال اور انسلاک ہے۔ پہاڑوں کے درمیان میں بڑے بڑے قدرتی نالے ہیں۔ یہ چشموں، ندیوں اور بارش کے پانی کے بہاؤ اور نکاسی کا ذریعہ بھی ہیں اور دو پہاڑوں کے بیچ حد فاصل کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔

پہاڑی علاقوں میں بنیادی سہولیات زندگی جیسے سکول، کالج، ہسپتال، پینے کا صاف پانی، مواصلات اور ٹرانسپورٹ کا نظام، سڑکیں اور پل ناکافی ہونے کی وجہ سے وہاں کے مکین آج بھی جیسے پتھر کے زمانے میں جی رہے ہیں۔ اکثر پہاڑی علاقوں کے مقامی سیاست دان صورت حال میں کسی مثبت تغیر و تبدل کو اپنی حکمرانی کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں بلکہ اکثریت نے کلاشنکوف بردار "درلے” اور "مشٹنڈے” بھی پال رکھے ہیں جو علاقے میں شعور و آگہی بیدار کرنے، تعلیم عام کرنے اور اپنی مدد آپ کے تحت ترقیاتی کام کی کوشش کرنے والوں کی باقاعدہ "استخواں شکنی” کے فرائض بھی سر انجام دیتے ہیں۔ اس لیے روز بہ روز ترقی معکوس کا سفر تیز تر ہوتا جا رہا ہے۔

landscape 3 2 1692948476843 scaled

صوبائی انتظامیہ جب تحصیل کے لیے کسی سکول یا ہسپتال کا فیصلہ کرتی ہے تو وہ کل آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرتی ہے۔ بدقسمتی سے جغرافیائی محل وقوع، زمینی حقائق اور مخصوص حالات و مسائل کو درخور اعتنا نہیں سمجھا جاتا۔ جیسے ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ کا سفر اگر زمینی راستے سے کیا جائے تو پہلے آپ کو ڈھلوان کا سفر کرتے ہوئے پہاڑ کے دامن میں نالے تک اترنا ہو گا اور پھر چڑھائی چڑھ کر دوسرے پہاڑ کی چوٹی سر کرنا ہو گی۔ اس سفر میں آپ کا آدھا دن بھی لگ سکتا ہے اور کئی گھنٹے بھی۔ کیونکہ ہسپتال اور ہائی سکول اگر دوسرے پہاڑ پر ہے تو لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے اس طویل سفر کو مختصر کرنے کے لیے دو پہاڑوں کے درمیان، ڈولی، کیبل کار یا چیئر لفٹ لگا کر مقامی آبادی کے مسائل کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ویسے بھی بارش کے دوران ندی نالوں میں طغیانی کی وجہ سے زمینی راستے کے ذریعے آمد و رفت ناممکن ہو جاتی ہے۔

مورخہ 22 اگست 2023 کو صبح سات بجے حسب معمول سات بچے اپنے استاد کے ساتھ زمین سے ایک ہزار فٹ بلند کیبل کار پر سوار ہو کر دوسرے پہاڑ پر موجود اپنے سکول کے لیے روانہ ہوئے۔ بدقسمتی سے تھوڑی دیر کے بعد چیئر لفٹ کے نظام میں گڑبڑ ہوئی، رسے ٹوٹے اور وہ درمیان میں پھنس کر رہ گئی۔ مقامی آبادی کو اس کا علم ہوا تو انھوں نے ریسکیو کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔ سوشل میڈیا ایک نعمت ثابت ہوا اور خبر میڈیا کے ذریعے پورے ملک تک پہنچ گئی۔

Screenshot 20230823 180540 1

تحصیل انتظامیہ نے ریسکیو کے لیے فوج سے مدد طلب کی۔ تاخیر ہوتے ہوتے کئی گھنٹے ضائع ہو گئے۔ کئی میڈیا چینل نے لائیو مناظر بھی دکھائے۔ دو تین فوجی ہیلی کاپٹر الائی پہنچے۔ مختلف طریقے اپنائے گئے اور مغرب تک صرف ایک طالب علم کو ریسکیو کیا جا سکا۔ اندھیرا پھیلنے اور موسم کی خرابی کی وجہ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو آپریشن کو موخر کر دیا گیا۔

cc145302 f771 4386 b321 85699106ed20

اس طرح کے واقعات اس سے پہلے بھی کئی علاقوں میں رونما ہو چکے تھے اور مقامی ماہرین نے اپنی مدد آپ کے تحت کامیاب ریسکیو آپریشن کیے تھے لیکن اس واقعے کو سوشل میڈیا اور نیشنل میڈیا کی وجہ سے بھرپور کوریج ملی اور خیال کیا گیا کہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو آپریشن محفوظ ہو گا اور اس میں وقت بھی بہت کم لگے گا۔ لیکن بوجوہ ایسا نہیں ہوا۔ بہرحال جب ہیلی کاپٹرز ریسکیو آپریشن موخر ہوا تو انتظامیہ، پھنسے ہوئے افراد کے اہل خانہ اور موقع پر موجود عمائدین کے پاس مقامی ماہرین سے مدد لینے کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہا۔ ان ماہرین نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اللہ پاک کے فضل سے تین گھنٹے میں سارے متاثرین کو محفوظ کر لیا۔

Screenshot 20230823 180553 1

ہم یہ مطالبہ کرنے میں حق بہ جانب ہیں کہ ڈی سی، اے سی اور دیگر افسران کو معطل کیا جائے جنھیں علم ہی نہیں ہے کہ ان کے علاقے میں غیر منظور شدہ، غیر معیاری اور خطرناک ترین کیبل کاریں چل رہی ہیں، جو کسی بھی وقت ایک بڑے انسانی سانحے کو جنم دے سکتی ہیں۔

اس علاقے سے تعلق رکھنے والے سیاسی نمائندوں کو کٹہرے میں لایا جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ انھوں نے اپنے علاقے کے مسائل حل کرنے میں کیا کردار ادا کیا ہے۔ اگر ان کی کارکردگی صفر ہے تو انھیں سر عام جوتے مارے جائیں اور عوام متفقہ اعلان کریں کہ ایسے بے حس، خودغرض اور بے ہودہ نمائندوں کو آئندہ کوئی ووٹ نہیں دے گا اور جو اس جرم کا مرتکب ہو گا اس کے ساتھ علاقہ بائیکاٹ کرے گا ۔

جہاں تک ایچ ایس ای کا تعلق ہے ہمارے ہاں بڑے سے بڑے منصوبے کو بھی ڈنگ ٹپاؤ ذہنیت کے تحت سرانجام دیا جاتا ہے (میٹرو راولپنڈی ، اسلام آباد کی تعمیر کے دوران مختلف حادثات میں کئی اموات ہوئیں، حال میں میں بہارہ کہو بائی پاس کی تعمیر کے دوران کتنے حادثات ہوئے) جب کہ تہذیب یافتہ دنیا میں چھوٹے سے چھوٹے منصوبے کو بھی ایچ، ایس، ای کے ماہرین کی مشاورت ، منصوبہ بندی اور اجازت نامے سے مشروط کیا جاتا ہے۔ کیبل کار کے لیے ایچ، ایس، ای کے لوازمات کا تعین زمین سے بلندی، کار کی گنجائش اور وزن کے تخمینے، محل وقوع، موسمی حالات، ہوا کے رخ اور دباؤ اور حفاظتی انتظامات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ زیادہ بلندی پر چلنے والی کیبل کار چلانے والوں کے لیے بہت سخت، کڑے اور غیر لچکدار حفاظتی معیارات (سیفٹی سٹینڈرڈز) کی پابندی ناگزیر ہوتی ہے۔

کیبل کار کا مکمل ڈیزائن اور انجینئرنگ کے حوالے سے فیصلہ کرتے ہوئے یہ امر ضروری ہے کہ اس کو وسیع علم، قابلیت اور تجربہ رکھنے والے انجنیئر تیار کریں۔ وہ اس ضمن میں مسلمہ معیارات، ساخت اور بناوٹ کے بہترین نمونے، لوڈ کی گنجائش، موسمی حالات اور ہوا کی مزاحمت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا فیصلہ کرتے ہیں۔

ایمرجنسی کی صورت میں مسافروں کو بہ حفاظت محفوظ مقام تک پہنچانے کا مکمل انتظام کیبل کار کے اجازت نامے کے حصول کے لیے لازمی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کم سے کم دو آگ بجھانے والے سلینڈر چالو حالت میں کیبن میں ہر وقت موجود ہونے چاہییں کیونکہ کسی بھی وجہ سے آگ بھڑک اٹھنے کی صورت میں فضا میں مسافروں کے پاس کوئی دوسری جائے پناہ نہیں ہوتی۔

بلندی پر رسوں کے ذریعے معلق کیبل کار میں اوقات کار کے دوران کئی سو افراد محو سفر ہوتے ہیں۔ اس لیے ایک معمولی حادثہ بھی بہت سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ ہر کیبل کار کا "مینٹیننس شیڈول” ہو جس کی روزانہ، ہفتہ وار، ماہانہ، سہہ ماہی اور سالانہ سرگرمیوں کی ایک چیک لسٹ ہو۔ اس میں پاور سسٹم، رسے، پلیاں، کیبن، بریک سسٹم کا معائنہ اور دیکھ بھال متواتر ہو۔ انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ معائنہ و مینٹیننس کو یقینی بنائے۔

حالیہ حادثے کے علاقے میں موبائل نیٹ ورکس کی کارکردگی پر بہت سوال اٹھائے گئے۔ یہ معاملہ پہاڑی علاقوں میں صرف اس علاقے تک محدود نہیں ہے۔ اس لیے تمام کیبل کاروں میں کوئی ایمرجنسی کمیونیکیشن سسٹم موجود ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ معذور افراد کے سوار ہونے اور اترنے کے لیے بھی خصوصی انتظام ناگزیر ہے۔

انتظامیہ کا فرض ہے کہ کیبل کار آپریٹرز کے لیے متواتر تربیت اور کونسلنگ پروگرام کا اہتمام کرے۔ ایک معمولی غفلت ایک مہلک اور سنگین سانحے کو جنم دے سکتی ہے۔

پہاڑی علاقوں میں موسمی تغیر و تبدل بہت شدید نوعیت کا ہوتا ہے۔ اس لیے ہر موسم کے حوالے سے بھی انتظامات کا جائزہ اور آپریٹرز کی تربیت ضروری ہے۔

انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ کیبل کاروں کی اونچائی، موسمی حالات اور جغرافیائی ضرورتوں کے مطابق معیارات، رہنما اصول اور ضابطے کتابی صورت میں شائع کرے۔ یہ کتابچے بلا قیمت متعلقہ عوام کو مہیا کیے جائیں اور سکولوں میں ہفتہ وار اسمبلی میں بچوں کو اس بارے میں یاددھانی کروائی جائے کہ انھوں نے والدین سے اس معاملے کی اہمیت اور سنگینی پر مکالمہ کرنا ہے۔ اس طرح عوام میں آگہی بیدار کرنے اور حادثات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ جن علاقوں میں یہ کیبل کاریں چل رہی ہیں وہاں کی انتظامیہ کی بھی اس حوالے سے تربیت کی جائے تاکہ وہ ان ضابطوں کی اہمیت سے کما حقہ واقف ہوں اور ان پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

منظوری کے ذمہ دار ادارے کو چاہیے کہ تمام کیبل کاروں کے آپریشن کو چند دن کے لیے روک دے۔ ایک مستقل کمیشن تشکیل دیا جائے جس میں انتظامیہ کے افسران کے علاوہ اس طرح کے منصوبوں کا وسیع تجربہ رکھنے والے انجنیئر، سیفٹی کے ماہرین، صحافی اور عمائدین شامل ہوں۔ یہ کمیشن تمام کیبل کاروں کا معائنہ کر کے کمیوں، کوتاہیوں کی نشان دہی کرے اور ان کو دور کیے بغیر متعلقہ کیبل کار کو آپریشن کی اجازت نہ دی جائے۔ یہی کمیشن روزانہ ، ہفتہ وار ، ماہانہ، سہہ ماہی اور سالانہ سرگرمیوں کی چیک لسٹیں بھی تیار کرنے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ لیکن سارے انتظام کو ون ونڈو آپریشن کی صورت میں انجام دیا جائے اور اس امر کو یقینی بنائے جائے کہ افسران اسے پیدا کا ذریعہ نہ بنا سکیں۔

کسی ایمرجنسی کی صورت میں انخلاء کی کیا صورت ہو گی اس بارے میں کتابچے میں پوری تفصیل موجود ہونی چاہیے۔ کیونکہ اگر عوام کی اس معاملے میں پیشگی تربیت کر دی جائے تو کسی ایمرجنسی کی صورت میں وہ پریشان ہو کر کوئی غلط قدم اٹھانے کے بجائے مہیا کی گئی ہدایات پر عمل کریں گے۔ نیز ضروری سامان بیلٹ، رسے، ہیلمٹ، دستانے، وغیرہ کیبن میں موجود ہونے چاہییں تاکہ بہ وقت ضرورت مسافر انھیں استعمال کر سکیں۔

کمیشن کی تشکیل کے بعد ایمرجنسی کے وقت کے لیے ذمہ دار افسران کے رابطہ نمبروں کی بھی تعمیم کی جائے تاکہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں فوری رابطہ ممکن ہو۔

جس طرح معیاری کمپنیوں میں ماہانہ ایمرجنسی ڈرل کا اہتمام ہوتا ہے اور سٹاف کے لوگ آگ لگنے کی صورت میں انخلاء، محفوظ مقام پر تجمیع اور دیگر حفاظتی سرگرمیوں کی مشق کرتے ہیں اسی طرح کا ماہانہ پروگرام کیبل کار آپریٹرز اور مسافروں کے لیے بھی رکھنا چاہیے۔

اگر کمیشن ہزارے بھر میں چلنے والی کیبل کاروں کے کیبنوں کا جائزہ لے تو ان کی حالت زار چیخ چیخ کر بتائے گی کہ ان کا ڈیزائن نامعقول، ان کے دروازے غیر محفوظ اور بیٹھنے کے لیے غیر موزوں اور تکلیف دہ انتظامات ہیں۔ اتنی بلندی پر چلنے والی ان کیبل کاروں کو دیکھ کر لگتا ہے عوام کو پل صراط کا منظر دکھایا جا رہا ہے۔ اس لیے اصلاح احوال کے لیے ہمہ گیر، پیشہ ورانہ اور ہمدردانہ منصوبہ ناگزیر ہے۔

…….۔۔۔۔۔

راشد عباسی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481