Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

روسی صدر پیوٹن کا باغی یوگینی پریگوزِن "طیارہ حادثے” میں مارا گیا

a 1

روسی تاریخ کے طاقتور ترین صدر ولادیمیر پیوٹن سے بغاوت کرنے اور یوکریں کا ساتھ دینے  والی نجی ملیشیا ویگنر گروپ کا سربراہ یوگینی پریگوزن مبینہ طیارہ حادثے میں دس ساتھیوں سمیت مارا گیا۔

ویگنر گروپ نے  دعویٰ کیا ہےکہ جیٹ طیارے کو زمین سے نشانہ بنایا گیا ہے۔روسی حکام کے مطابق طیارہ ماسکو سے سینٹ پیٹرزبرگ جارہا تھا اور ماسکو کے قریب ہی حادثے کا شکار ہو گیا۔ حادثے کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے۔

روسی  حکام نے تصدیق کی ہےکہ نجی طیارے میں ویگنر گروپ کے سربراہ یوگینی پریگوزن بھی سوار تھے۔برطانوی میڈیا کے مطابق طیارے میں عملےکے3 افراد اور 7 مسافر سوار تھے اور حادثے میں کسی کے بچنے کی کوئی اطلاع نہیں۔ ویگنر گروپ کے ٹیلی گرام چینل پر ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہےکہ طیارے کو زمین سے نشانہ بنایا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیو بھی سامنے آئی ہیں جن میں مبینہ طور پر حادثے کے شکار جہاز کو زمین پرگرتے اور آگ لگتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

WhatsApp Image 2023 06 25 at 02.40.17

خیال رہے کہ صدر پیوٹن کا باغی ایک زمانے میں ان کے انتہائی قابل اعتماد افراد میں شمار ہوتا تھا اور وہ پیوٹن کا ذاتی شیف بھی رہا ہے۔ عالمی سطح پر ویگنر گروپ اور اس کے سربراہ یوگینی پریگوزن کا نام اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے روسی فوجی قیادت کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا تھا۔یوکرین میں روس کے لیے عسکری کامیابیاں سمیٹنے والے ویگنر گروپ نے یوکرینی علاقوں میں موجود اپنے فوجیوں کو  ماسکو روانہ ہونے کی ہدایت کردی تھی تاکہ وہ روسی وزیر دفاع کو منصب سے ہٹاسکیں۔

WhatsApp Image 2023 06 25 at 02.40.19

62 سالہ یوگینی پریگوزن نے روسی وزارت دفاع کو برائی قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ روسی وزیر دفاع نے اپنے ہی فوجیوں کو مارنے کا منصوبہ بنایا تھا،اور یہ کہ مبینہ میزائل حملے میں ویگنر فوجیوں کی ہلاکت میں روسی وزارت دفاع کا ہاتھ ہے۔بعد ازاں بیلاروسی صدر کی مداخلت پر معاملات حل ہوجانے کے بعد ویگنر چیف نے اپنے دستے واپس بلاکر یوکرینی محاذوں پر دوبارہ تعینات کردیے تھے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ  یوگینی پریگوزن کو اپنی بغاوت کے بعد زہر دیا جا سکتا ہے لہٰذا اسے محتاط رہنا چاہیے،تاہم یہ اندازہ کسی کو نہیں تھا کہ پیوتن کا باغی جلد ہی مبینہ فضائی حادثے میں مارا جائے گا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481