اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سرکل بکوٹ کے بنیادی مسائل اور علاقائی صحافت کا کردار

Picsart 23 05 25 17 17 29 781

سرکل بکوٹ کے بنیادی مسائل اور علاقائی صحافت کا کردار

لیڈرشپ کا فقدان

اگر جائزہ لیا جائے تو سرکل بکوٹ میں کئی سیاسی شخصیات موجود ہیں اور ہمیشہ رہی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں لیڈرشپ مفقود رہی ہے۔

آپ کے ذہن میں سوال جنم لے گا کہ سیاست دان اور لیڈر میں بنیادی طور پر تفاوت کیا ہے؟ یا آپ جس سیاست دان کو اپنا لیڈر سمجھتے ہیں وہ حقیقتا لیڈر کیوں نہیں ہے۔

اگر آپ تاریخی طور پر عظیم لیڈروں کی زندگی اور کارناموں پر نظر ڈالیں تو بہت کم ایسے سیاست دان ملیں گے جو لیڈر بھی تھے۔

لیڈر بنیادی طور ایک ایسی نابغہ روزگار شخصیت کا حامل ہوتا ہے جس میں اصول پسندی ہر چیز پر مقدم ہوتی ہے۔ جب کہ سیاست دان پاپولر عوامی رائے کے ساتھ چلتا ہے۔

ایک لیڈر کی جدوجہد کا محور و مرکز قومی ترقی اور عظیم مقاصد ہوتے ہیں۔ وہ اپنا سب کچھ ان مقاصد پر وارنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ اس کی ترجیح قومی مفادات ہوتے ہیں۔ اس کے کوئی ذاتی مفادات نہیں ہوتے۔ جب کہ ایک سیاست دان کے سامنے ایک حلقے میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنا، اکثریت حاصل کرنا، لوگوں کو اپنے مقاصد کے لیے مجتمع کرنا یا تقسیم کرنا اور ذاتی مفادات کا حصول ہوتا ہے۔

ایک سیاست دان کی ساری جدوجہد طاقت اور حکومت حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ وہ اس مقصد کے لیے کوئی بھی سمجھوتہ کر سکتا ہے۔ (پاکستان کے مین سٹریم سیاست دانوں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔). کسی بھی اصول کو قربان کر سکتا ہے۔ کوئی بھی قومی نقصان کر سکتا ہے۔ جب کہ ایک لیڈر کے لیے مقصد عظیم ہی بنیادی ترجیح ہوتا ہے۔ وہ اس کے لیے سب کچھ قربان کر سکتا ہے، حتی کہ اپنی جان تک بھی۔

سیاست دان کی ترجیحات قلیل مدتی ہوتی ہیں اور تیزی سے بدلتی رہتی ہیں لیکن ایک لیڈر کی ترجیحات بہت وقیع اور ٹھوس ہوتی ہیں اس لیے یہ طویل مدتی اور دیرپا ہوتی ہیں۔ اس کے پاس ایک وژن ہوتی ہے۔ وہ حال میں رہتے ہوئے تفکر و تدبر، اور ذہن رسا کی قوت سے ایک شاندار مستقبل تخلیق کرتا ہے۔

نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

سیاست دان اپنے لوگوں کو دو طبقوں میں تقسیم کرتا ہے، دوست اور مخالفین۔ جب کہ لیڈر بٹی ہوئی قوم کو ایک عظیم مقصد اور مشن کے لیے مجتمع کرتا ہے۔ وہ ان کے اتحاد اور اتفاق سے ایک بہتر مستقبل کی راہیں استوار کرتا ہے۔

ایک سیاست دان عام لوگوں کو اپنے تابع رکھنا چاہتا ہے۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اس کی غلامی کریں۔ وہ جہاں جائے پروٹوکول کا خاص خیال رکھا جائے۔ ہٹو بچو ہو۔ اس لیے اپنے ان مقاصد کے حصول کے لیے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ عام آدمی غیر تعلیم یافتہ ، بے شعور اور مسائل میں گھرا رہے۔ تاکہ وہ صورت حال کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے سیڑھی بنا سکے۔

لیڈر عام آدمی کو تعلیم یافتہ، باشعور اور خوشحال بنانے کی فکر میں رہتا ہے۔ وہ اس ضمن میں منصوبہ بندی کرتا ہے۔ اس منصوبہ بندی کے مطابق عملی کام کے لیے معاشرے میں موجود ہم خیال لوگوں کو متحد کرتا ہے اور یوں پسماندگی اور جہالت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ نئی لیڈرشپ کی تشکیل کا عمل بھی شروع ہو جاتا ہے۔ لیڈر کے پاس دور رس، منظم اور قابل عمل وژن ہوتی ہے جس کا مقصد ایک شاندار مستقبل کی تعمیر کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

ایک سیاست دان بلند بانگ دعوے کرتا ہے۔ اپنے لوگوں کو سبز باغ دکھاتا ہے۔ ان کی سادگی اور بے بسی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کے لیے اس کے حلقے کا ہر فرد فقط ایک ووٹ ہوتا ہے۔ اس کی اس سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں ہوتی سوائے ان چند آلہ کاروں کے جو سیاست دان کے مفادات کے محافظ ہوتے ہیں اور اپنی خدمات کے صلے میں انھیں مالی یا سیاسی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ لیکن ایک لیڈر کے سامنے ایک واضح مقصد ہوتا ہے۔ وہ اس کے حصول کے لیے عام آدمی کو رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ وہ اسے ذہنی طور پر تیار کرتا ہے کہ یہ کام بہت کٹھن ہے۔ اس کے نتائج فوری طور پر سامنے نہیں آئیں گے۔ لیکن اس کی جدوجہد سے عام آدمی کی زندگی میں بہ تدریج بہتری آتی جاتی ہے۔

ایک سیاست دان کے الحاق کی بنیاد سیاسی، گروہی، خاندانی یا مذہبی ہو سکتی ہے لیکن ایک لیڈر اپنے لوگوں کی قابلیت، وژن کی تفہیم اور اقدار اور اصولوں کی پاسداری کو دیکھتے ہوئے اختیارات تفویض کرتا ہے۔

ان اکرمکم عند اللہ اتقکم

سیاست دانوں کی دوستیاں اور رفاقتیں عارضی اور وقتی ہوتی ہیں کیونکہ یہ مشترکہ مفادات اور خود غرضی پر استوار ہوتی ہیں۔ ان کے مفادات دیرپا ہو سکتے ہیں لیکن دوست نہیں۔ لیکن ایک لیڈر اپنی ٹیم کے ہر فرد کی اس طرح تربیت کرتا ہے کہ اپنے مقصد کے ساتھ اس کی وابستگی دائمی ہوتی ہے اور یہی جدوجہد اس کا مقصد زندگی ہوتی ہے۔ لہذا ایک مشن کے لیے جدوجہد کرنے والے لوگ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں۔

سیاست دان کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنا ہوتا ہے اس لیے وہ کئی دفعہ سچ اور جھوٹ کی آمیزش سے کوئی بیانیہ تشکیل دیتا ہے، کئی دفعہ صرف پروپیگنڈے کی بنیاد پر وہ اپنے مخالفین کو نقصان پہنچاتا ہے اور بعض اوقات تو جھوٹ اور بہتان کے ذریعے اپنے مخالفین کی ساکھ کو تباہ کیا جاتا ہے۔ جب کہ ایک لیڈر کو کوئی جھوٹ بولنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ اس کے مقاصد واضح اور اس کا بیانیہ حقیقی اور مبنی بر صداقت ہوتا ہے۔

اس صورت حال میں اہل علم و دانش، اساتذہ، خطباء اور صحافیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غیر جانب دار رہ کر عام آدمی کی رہنمائی کریں۔

اگر ہم صحافت کی بات کریں تو صحافیوں کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ہر مستحسن سرگرمی، منصوبے اور کام کی تحسین کریں اور اس کی تعمیم کو یقینی بنائیں۔ لیکن صاحبان اقتدار و اختیار اگر اپنے فرائض منصبی کے ساتھ انصاف نہ کریں یا سیاست سے وابستہ لوگ اپنے علاقے کی ترقی کے لیے کوئی منصوبہ جات نہ شروع کریں تو صحافی ان کا محاسبہ کریں۔ عام آدمی کو باشعور بنائیں کہ ان کے حقوق غصب ہو رہے ہیں۔

سرکل بکوٹ کی صحافت کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ

  • علاقائی صحافت سے وابستہ احباب کی تعلیمی قابلیت کیا ہے۔
  • کیا انھوں نے صحافت کے ضمن میں کوئی پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کی ہے؟
  • کیا وہ آئے روز صحافت کے حوالے سے منعقد ہونے والی تربیتی ورکشاپوں اور سیمینار میں شرکت کرتے ہیں۔
  • کیا وہ جس زبان میں صحافت کر رہے ہیں اس زبان پر اور "بیان” پر انھیں کامل دسترس حاصل ہے؟
  • کیا وہ صحافت عبادت کے طور پر کرتے ہیں یا شہرت اور دولت کا حصول مقصود ہے۔

مندرجہ بالا حقائق کے تجزیے سے آپ سرکل بکوٹ کے حوالے سے مستقبل کا بہتر لائحہ عمل تشکیل دے کر سیاست دانوں کے بجائے لیڈروں کو سامنے لا سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

راشد عباسی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481