اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بابو سرروڈ پرپروفیسر قتل،ڈاکوؤں نے علم کا روشن چراغ بجھا دیا

ba2a39ab 6309 400c a325 238aaef8ed35

کوہسار نیوز خصوصی رپورٹ

شمالی علاقہ جات میں بابوسر روڈ پر ڈاکوں کی گولیوں کا نشانہ بننے والے پروفیسر حاجی راشد کا تعلق پنجاب کے شہر وہاڑی سے تھا۔وہ سیاح نہیں (جیسا کہ میڈیا پر خبریں چل رہی ہیں) بلکہ یونیورسٹی آف بلتستان میں اسسٹنٹ پروفیسر تھے۔قبل ازیں وہ یونیورسٹی اف ہری پور میں بھی لیکچرر کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔حال ہی میں وہ سیالکوٹ یونیورسٹی میں میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی کا ڈیپارٹمنٹ بنا رہے تھے اور شعبے کے سربراہ کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق پروفیسر راشد کو اسی دوران یونیورسٹی آف بلتستان میں یہی شعبہ قائم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی جہاں وہ گزشتہ چھ ماہ سے مقیم تھے اور اپنا اسائنمنٹ مکمل بھی کر چکے تھے۔

پروفیسر راشد کا آبائی تعلق ضلع وہاڑی کی تحصیل میلسی کے علاقے چاہ مہر سے ہے۔دریائے ستلج میں سیلاب کی وجہ سے قریبی دیہات زیر آب آنے کی خبریں ملنے پر وہ اپنے خاندان کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے ہنگامی طور پر پنجاب کے لیے روانہ ہوئے تھے کہ راستے میں ڈاکوؤں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔

356b324b 5884 4635 b3e6 7f09332f8f1b
اطلاعات کے مطابق ڈاکوؤں نے سڑک پر پتھر رکھ کر گاڑیاں لوٹنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا ۔ تاہم پروفیسر راشد جس گاڑی میں سوار تھے، اس کے ڈرائیور نے ڈاکوؤں کو دیکھتے ہی دوسری طرف ٹرن لیا  اور گاڑی کی رفتار بڑھا دی کہ اس دوران ڈاکوؤں نے فائرنگ کر دی۔ علاقے کے مکینوں کے مطابق یہاں کافی عرصے سے اس طرح کی وارداتیں جاری ہیں ۔یہ مانسہرہ اور گلگت کی باؤنڈری پر واقع علاقہ ہے.

میت خراب ہونے سے بچائی جائے۔ اہل خانہ کی فریاد

دوسری طرف مقتول پروفیسر کے اہل خانہ کے ذرائع اور یونیورسٹی کے ساتھیوں نے میڈیا کو بتایا کہ میت کو شمالی علاقہ جات سے راولپنڈی پہنچانے میں 24 گھنٹے سے زائد کا وقت لگ گیا ہے جبکہ ایمبولنس کے ذریعے وہاڑی پہنچانے کے لیے مزید 12 سے 14 گھنٹے درکار ہوں گے۔خدشہ ہے کہ اس دوران میت خراب ہو سکتی ہے۔انہوں نے اعلی حکام سے اپیل کی کہ میت کو ابائی علاقے تک پہنچانے کے لیے ایئر ایمبولنس کا انتظام کیا جائے اور فیملی کو مزید ذہنی اور روحانی اذیت سے بچایا جائے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481