اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ایبٹ آباد کے تاریخی ٹاوُن ہال کو گرا کرکمرشل پلازہ بنانےکا منصوبہ

ایبٹ آباد کے تاریخی ٹاوُن ہال کو گرا کرکمرشل پلازہ بنانےکا منصوبہ

ایبٹ آباد کے ٹاؤن ہال کی فریاد

صوبہ خیبر پختون خواہ کا شہر ایبٹ آباد واحد ایسا عالمی شہرت یافتہ ہل سٹیشن ہے، جس میں ایک شاندار ٹاوُن ہال موجود ہے۔
یورپ کی طرز پر تعمیر کئے جانے والے ایبٹ آباد کے ایک وسیع و عریض کمپنی باغ کے وسط میں وکٹورین آرکیٹکچر رکھنے والے ٹاوُن ہال کو قیمتی تراشیدہ کالے پتھر سے تعمیر کیا گیا تھا اور اس میں یورپین گوتھک طرز تعمیر والی محرابیں اور پورچ مہیا کئے گئے تھے ۔

یہ بھی پڑھیں پرویز الٰہی کو کسی بھی خفیہ مقدمہ میں گرفتار نہ کرنیکا فیصلہ بحال

یہ پرشکوہ ٹاون ہال صدیوں سے ایبٹ آباد کے باذوق شہریوں کی تعلیمی ، ادبی ، ثقافتی و سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے ۔
یہ بھی روایت ہے کہ اس ٹاؤن ہال میں منعقد ہونے والی ایک اہم میٹنگ میں قائد اعظم محمد علی جناح بھی شریک ہوئے تھے۔
مزید برآں قیام پاکستان کے حوالے سے بہت سے اہم اجلاس ایبٹ آباد کے اس ٹاوُن ہال میں منعقد ہوتے رہے۔

اردو ادب کی اہم شخصیت مولانا غلام رسول مہر اپنی کتاب مطالب کلام اقبال میں لکھتے ہیں کہ "علامہ اقبال 1904 میں ایبٹ آباد کے اس تاریخی ٹاوُن ہال میں تشریف لائے

اور ایبٹ آباد کے زمرد کی طرح سبز خوبصورت ترین سربن پہاڑ کے حسن کی تعریف میں اپنی نظم ابر ٹاون ہال کے باہر بیٹھ کر لکھی جو بانگ درا میں شامل ہے ۔

علامہ اقبالؒ کی جب کمپنی باغ کے وسط میں بیٹھ کر درختوں کی اوٹ سے اس پہاڑ ”سربن“ پر نظر پڑی تو اس پر گھنگھور گھٹا چھائی ہوئی تھی۔

اقبالؒ نے اسی دلفریب نظارے سے متاثر ہو کر اپنی مشہور نظم ”ابر“ لکھی تھی جو کہ ”بانگ درا“ میں پینتالیسویں نمبر پر شامل ہے۔ اس کے تین اشعار پیش خدمت ہیں:

اٹھی پھر آج وہ پورب سے کالی کالی گھٹا
سیاہ پوش ہوا پھر پہاڑ ”سربن“ کا
نہاں ہوا جو رخ مہر زیر دامن ابر
ہوائے سرد بھی آئی سوار توسن ابر
عجیب خیمہ ہے کہسار کے نہالوں کا
یہیں قیام ہو وادی میں پھرنے والوں کا

 

Iqbalتصویر۔۔ وکی پیڈیا

اقبالؒ نے اس نظم کے مطلع میں ”سربن“ پہاڑ کا ذکر کر کے اسے ہمیشہ کے لیے امر کر دیا ہے۔ جب تک دنیا میں کلام اقبال باقی رہے گا اس کے ساتھ ”سربن“ پہاڑ کا ذکر بھی ہوتا رہے گا۔ جس دور میں محکمہ ”آرکیالوجی“ وفاق کے ماتحت کام کرتا تھا ، اس دور میں انھوں نے اس عمارت جس میں اقبالؒ نے قیام کیا تھا ،

یہ بھی پڑھیں ایبٹ آباد کے تاریخی ٹاوُن ہال کو گرا کرکمرشل پلازہ بنانےکا منصوبہ

 

کمپنی باغ کے اس حصے میں جہاں انھوں نے نظم ”ابر“ لکھی تھی، ہائی سکول کے اس ہال جس میں علامہ اقبالؒ نے اپنا خطبہ ”قومی زندگی“ ارشاد فرمایا تھا، ان سب جگہوں پر علامہ اقبالؒ کے نام کی یاد گاری تختیاں نصب کی تھیں پھر اس کے علاوہ علامہ اقبال نے جس جگہ پر بیٹھ کر نظم لکھی تھی ،اس جگہ پر ایک اونچا  دائرہ  یا ”تھلہ“ بنا دیا تھا۔ (تحریر ۔ڈاکٹر رمضان طاہر۔۔ بشکریہ "ہم سب”)

یہ بھی پڑھیں صدر مملکت نے اپنے سیکریٹری وقار احمد کی خدمات واپس کردیں

ایبٹ آباد کا ٹاوُن ہال اہلیان ایبٹ آباد کی پہچان اور آن ہے۔
اس میں کنگ جارج اور شہر کے بانی سر جنرل جیمز ایبٹ اور اس کے میئر نورالدین قریشی اور دیگر تاریخی شخصیات کی اوریجنل تصاویر موجود تھیں .
ٹاوُن ہال ایبٹ آباد میں وفاقی حکومت کا نیشنل سینٹر اور پبلک لائبریری بھی قائم رہی ہے ۔
حکومت خیبر پختون خواہ نے اپنے تاریخی عمارات کے سرکاری مجلے میں ٹاوُن ہال ایبٹ آباد کو ایک رجسٹرڈ ہیریٹیج بلڈنگ کے طور پر شامل کر رکھا ہے ۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کو واضح ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ قانون کے مطابق ایبٹ آباد اور ہزارہ کی ان تاریخی عمارات کے تحفظ اور بحالی کو یقینی بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں پرویز الٰہی کو کسی بھی خفیہ مقدمہ میں گرفتار نہ کرنیکا فیصلہ بحال

سن 1872 میں قائم ہونے والی میونسپل کمیٹی ٹاوُن ہال اور ایبٹ آباد کے تاریخی ورثے کی نگران ہے ،مگر بدقسمتی سے لینڈ مافیا اس وقت ایبٹ آباد کے تاریخی ٹاوُن ہال کو گرا کر اس پر کمرشل پلازہ بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان  نے مفاد عامہ کے مقامات پر کمرشل پلازے بنانے پر پہلے سے ہی پابندی لگا رکھی ہے۔

ٹاؤن ہال ایبٹ آباد کا انہدام قبول نہیں کریں گے۔ آمنہ سردار

93d46763 b579 49f9 ab79 aa1bd58321b4

ٹاؤن ہال ایبٹ آباد قومی ورثہ ہے، اس کو منہدم کرکے پلازہ بنانے کا فیصلہ کسی طور قبول نہیں ۔ٹی ایم اے ایبٹ آباد شہر کی تاریخی اہمیت کو بدلنے کی کوشش نہ کرے۔ ایبٹ آباد کے شہری ،سول سوسائٹی اپنے قومی ورثہ کا تحفظ کرنا بخوبی جانتے ہیں۔

 

ان خیالات کا اظہار سابق رکن خیبر پختونخوا اسمبلی معروف سماجی شخصیت آمنہ سردار نے ٹاؤن ہال کو منہدم کرنے کے فیصلہ پر اپنے ردعمل میں کیا ۔

یہ بھی پڑھیں ” تولی پیر ” کی سیاحت کی راہ میں حائل رکاوٹیں

سابق ایم پی اے کا کہنا تھا ملک بھر میں ایبٹ آباد کو ایک تاریخی اہمیت حاصل ہے ۔قومی ورثہ میں شامل ٹاؤن ہال ایک تاریخی پس منظر کا حامل ہے ۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ،شاعر مشرق مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کے علاوہ تحریک پاکستان کے لئے جدوجہد کرنے والی شخصیات یہاں اجلاس میں شامل ہوئی ہیں ۔

جبکہ ٹاؤن ہال کے میوزیم میں ہزارہ کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے تاریخی اشیاء موجود ہیں۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481