اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

صدر کے بیان سے ہلچل، بل قانون بن چکا۔ حکومت کا اعلان

صدر کے بیان سے ہلچل، بل قانون بن چکا۔ حکومت کا اعلان

آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط نہ کرنے کے حوالے سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے بیان نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا اور آئینی وقانونی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

پیپلز پارٹی نے ڈاکٹر عارف علوی سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ ان کی ناک کے نیچے ایوان صدر میں کیا ہو رہا ہے تو انہیں فوری طور پر استعفی دے دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور پاکستان آرمی ترمیمی بل قانون بن گیا۔ گزٹ نوٹیفکیشن جاری

سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صدر کی جانب سے یہ بیان ناقابل فہم ہے کہ انہوں نے کسی بل پر دستخط نہیں کیے اور وہ صدارتی عملے نے اپنے طور پر واپس بھیج دیا۔ صدر اپنے کسی بھی عمل کے خود ذمہ دار ہیں۔انہیں اس معاملے کی وضاحت خود دینا ہوگی ۔

مسلم لیگ نون کے سنیٹر عرفان صدیقی نے بھی صدر مملکت سے اس سے ملتا جلتا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے بلز پر دستخط نہیں کیے تھے تو دو دن سے یہ ابہام کیوں برقرار رکھا اور واضح اعلان کیوں نہیں کیا۔

بلز قانون بن گئے ۔۔کوئی ابہام نہیں حکومت کا اعلان

ebb147d5 bf38 4ebe a519 ca01965ea309

نگراں وفاقی وزیر قانون احمد عرفان اسلم نے وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت کی ٹویٹ سے پیدا ہونے والا ابہام کوئی جواز نہیں رکھتا ۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ  آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد صدر مملکت کے پاس بل پر دستخط کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے دو ہی آپشن ہوتے ہیں ۔

۔یا تو وہ اس پر دستخط کر کے منظوری دے دیں

اور یا پھر اس پر اعتراضات یا ریمارکس کے ساتھ واپس بھیج دیں۔

یہ بھی پڑھیں کوہسار یونیورسٹی مری کا انقلابی قدم۔ ای روزگار سنیٹر کھل گیا

ایسی صورت میں بل دوبارہ پارلیمنٹ کے پاس واپس جائے گا اور اس کی منظوری کے بعد قانون کا حصہ بن جائے گا۔

وزیر قانون کے مطابق چونکہ صدر مملکت نے دس دن تک بل اپنے پاس رکھا اور کسی اعتراض کے ساتھ پارلیمنٹ کو واپس نہیں کیا لہذا وہ قانون بن گیا ہے اور اس پر کوئی ابہام نہیں ہے۔

ایک سوال پر وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کب تک اپنے عہدے پر رہنا چاہتے ہیں

وہ اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتے ۔

سابق وزیر اور نامور ماہر قانون  بیرسٹر علی ظفرکا موقف

سابق وزیر قانون اور نامور قانون دان بیرسٹر علی  ظفر کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں صدر مملکت نے چونکہ بل پر دستخط کرنے کی تردید کی ہے۔ لہذا اس کا پارلیمنٹ کے پاس واپس جانا ضروری ہے

اور چونکہ اس وقت کوئی پارلیمنٹ وجود نہیں رکھتی

بلکہ نگراں حکومت ایگزیکٹو کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس لیے فی الوقت ان بلز کو قانون کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹیوی سے گفتگو میں کیا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481