اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آفیشل سیکریٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل باقاعدہ قانون بن گیا

قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ تحلیل، صدر نے سمری پر دستخط کردیے

 

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے دستخط کے بعد آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل باقاعدہ قانون بن گیا ہے جس کے تحت کوئی بھی شخص جو جان بوجھ کر امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرے، ریاست کے خلاف کام کرتا ہو، ممنوعہ جگہ پر حملہ کرتا یا نقصان پہنچاتا ہے ،جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانا ہو تو وہ جرم کا مرتکب ہوگا۔

آرمی ایکٹ کے مطابق کوئی بھی فوجی اہلکار ریٹائرمنٹ، استعفے یا برطرفی کے دو سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا۔ حساس ڈیوٹی پر تعینات فوجی اہلکار یا افسر ملازمت ختم ہونے کے 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا۔

ترمیمی بل کے تحت الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر ملک کے اندر یا باہر سے دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا مجرم تصور ہوگا، علاوہ ازیں پاکستان کے اندر یا باہر ریاستی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف کام کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہوگی، مذکورہ بالا جرائم  کے ارتکاب  پر 3 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا اور خصوصی عدالت 30 دن کے اندر سماعت مکمل کرکے فیصلہ کردے گی۔۔

گزشتہ قومی اسمبلی نے اختتام  مدت  سے قبل آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری دی تھی۔سینیٹ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل پیش کیا گیا تو اپوزیشن کے ساتھ  کئی حکومتی اتحادی  ارکان نے بھی مخالفت کی تھی جس پر چیئرمین سینیٹ نے ارکان کے احتجاج پر بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا تھا۔بعد ازاں سینیٹ میں آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل اور آرمی ایکٹ سے کچھ متنازع شقیں نکال کر دوبارہ پیش کیا گیا جسے سینیٹ کی منظوری کے بعد  قومی اسمبلی نے بھی منظور کر لیا جس کے بعد سمری صدر مملکت کو ارسال  کی گئی تھی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481