اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

” تولی پیر ” کی سیاحت کی راہ میں حائل رکاوٹیں

0671919b a0de 4de0 b86d 232dbe4b9d1c

تحریر:- مسعود حنیف

سطح سمندر سےقریباً ساڑھے آٹھ ہزار فُٹ کی بلندی پر واقع ایک زیارت کے باعث قُدرت کے اِس شاہکار مقام کو تولی پیر کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔
نومنتخب چئیرمین ضلع کونسل سردار جاوید شریف ایڈووکیٹ نے اپنے منتخب ہونے کے فوری بعد ضلع کونسل کی ٹیم سے مشاورت کرکے پورے ضلع کے فنڈ کا بڑا حصہ تولی پیر کی سیاحتی ترقّی کے لئے وقف کیا ۔ اِس فنڈ سے یہاں آنے والوں کو پارکنگ کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تا کہ سیاحت کے فروغ میں آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔

ضلع کونسل کے زیراہتمام 400 × 200 فٹ پارکنگ کے لیے 15 لاکھ کے فنڈ سے پانچ سو گاڑیوں کے لیے پارکنگ تعمیر کی جائے گی ۔ اِس منصوبے کے آغاز کے لیے جبوتہ کی دو یونین کونسلوں کے تمام نومنتخب نمائندوں اور عوام علاقہ کے دیگر ذمہ داروں سے "اکھوڑی ڈھوک” کے مقام پر میٹنگ کا انعقاد کیا گیا ۔ پارکنگ کے لیے دو جگہیں زیر بحث رہیں ۔ جن میں ایک” ڈوبہ” کے مقام پر اتفاق کرلیا گیا۔ اس کارپارکنگ کا ٹینڈر نومنتخب کونسلر سردار سلیم خان (جن کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی ، یونین کونسل” علی سوجل” سے ہے)کے کسی عزیز کو دیا گیا.”اکھوڑی ڈھوک” تولی پیر آنے والوں کا پہلا پڑاؤ ہے جہاں سے لوگ پیدل اوپر تولی پیر چوٹی میں موجود زیارت پر جاتے ہیں اور اس کو مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔ یہ زیارت میدان کے وسط اور کھُلے آسمان تلے واقع ہیے جہاں مذہبی عقیدت اور جنون کے مارے لوگ ننگے پاؤں جاتے ہیں ۔
تولی پیر کی طرف ہر سال لاکھوں لوگ سیر کو آتے ہیں۔ اس کا خوبصورت ماحول ایک دیوانگی طاری کرتا ہے۔ چاروں طرف فلک بوس جنگلات کے درمیان گھِری پہاڑی قریباً ساڑھے 8000 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ علاقہ عباس پور ، ہجیرہ ، راولاکوٹ اور باغ کے سنگم پر واقع ہونے کے ساتھ پونچھ شہر کے بلکل سامنے دِکھائی دیتا ہے اور یہاں سے خاکی ٹیکری ” کافر پہاڑ” بھی نظر آتا ہے ۔
تولی پیر سے کہوٹہ کے کچھ علاقے نظرآتے ہیں جن میں حاجی پیر ، محمود گلی سرِفہرست ہیں ۔
تولی پیر لسڈنہ سڑک ، راولاکوٹ سے تولی پیر کے راستے جنگلات کے درمیان لیکن پہاڑی چوٹیوں کے اوپر سے گزرتی ہُوئی باغ ڈھلی سے آنے والی سڑک سے جا ملے گی جس سے کہوٹہ کے تمام علاقہ جات میں رہنے والی آبادی کے لیے راولپنڈی راولاکوٹ کا سفر مختصر اور آسان ہوجائےگا۔

تولی پیر سے لے کر” بن بہک” تک کی چوٹی باغ اور راولاکوٹ کے درمیان دیوار کی طرح کھڑی ہے جو ان دو تحصیلوں کی حدِ فاصل ہے ۔ اس چوٹی کی دونوں اطراف زمین محکمہ جنگلات کی ملکیّت ہے جو کروڑوں روپے کے گُنجان جنگلات پر مشتمل ہے۔ اکھوڑی ڈھوک قریباً ڈیڑھ صدی پرانی ہوگی ۔ کشمیر بھر میں ڈھوکیں مہاراجہ کے قوانین کے مطابق ریاستی شہریوں کی اجتماعی ملکیت ہوا کرتی تھیں اور مختلف خاندانوں کے ناموں سے موسوم کی گئی تھیں ان مختلف ڈھوکوں میں سے چند ایک کھنڈرات نما مشترکہ گھر آج بھی نظر آتے ہیں۔ ایسی تمام جگہیں سابق آباد کاروں کی روایتی علامات کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہیں۔
دو تحصیلوں باغ اور راولاکوٹ کے درمیان محکمہ مال و محکمہ جنگلات اپنی حدود کا تعین کرنے میں ایسے ناکام ہیں جیسے دو ملکوں کے درمیان 1947ء میں برطانیہ ناکام ہوا تھا جس وجہ سے لوگوں کے درمیان ہمیشہ تلخیاں موجود رہتی ہیں ، حالانکہ جگہ سب کی سب محکمہ جنگلات اور محکمہ مال کی ہے۔
ڈھوک کنفیوز پر علی سوحل والوں کا قبضہ ہے جبکہ باغیوں کی ملکیت بتائی جاتی ہے۔ جبکہ اس کے اصل مالک کوئی طاقتور نہیں بلکہ چند غریب خاندان ہیں۔
تولی پیر کے دونوں اطراف باغ اور پونچھ و راولاکوٹ کے عوامی نمائندوں نےکبھی حدود کے تعین کے لئے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اُٹھایا تا کہ لوگوں کے درمیان نفرت اور تنازعات کی بنیادی وجہ کو ختم کیا جا سکے۔ حدود کا تعین خالص انتظامی مسئلہ ہے جو حکمرانوں کی ذمہ داریوں اور کوتاہیوں کی عکاسی کرتا ہے ۔
یونین کونسل ، ضلع ٹاون اور تحصیل کی حدود کا تعین عوامی مسائل کے حل کے پیشِ نظر انتظامی تقسیم سے زیادہ کچھ نہیں ۔

96b6ab8a 7808 4a04 8cdd 5a4481995ff4
باغ اور راولاکوٹ نہ کوئی دو ریاستیں ہیں نہ ہی ممالک۔ ان کے درمیان نہ حل ہونے والا مسئلہ قائم رکھنا کیا مسئلہ کشمیر کی مانند کوئی عالمی سازش ہے ؟ بتائیں تاکہ کم از کم احتجاج  تو کیا جائے ۔ حدود کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے لکڑی مافیا اندھیرے میں بے دردی سے جنگلات کاٹ کر لکڑی فروخت کرتا ہے ، کیونکہ باغ کی حدود سے لکڑی کاٹ کر راولاکوٹ کی حدود میں لانے والے کامیابی سے محفوظ ہوجاتے ہیں ۔ رات کے اندھیرے میں ضلع باغ کی انتظامیہ کو تولی پیر کے ساتھ سری منگ کے سامنے والے جنگلات دور پڑتے ہیں ۔
اس پورے کام میں محکمہ جنگلات کے دونوں اطراف کے ایم ایل اے شامل پائے جاتے ہیں۔ کروڑوں اربوں کی قیمتی لکڑی کا ناجائز کاروبار ہورہا ہے ۔
بات کارپارکنگ سے شروع ہوئی۔ اکھوڑی ڈھوک ، چئیرمین ضلع کونسل سردار جاوید شریف ایڈووکیٹ کی سربراہی میں دو یونین کونسلوں کے نومنتخب نمائندگان (جن میں یوتھ کونسلر سردار غفار خان ، چئیرمین یونین کونسل علی سوجل ، سردار ساجد نصیر ۔ کونسلر یوسی علی سوجل ، سردار سلیم خان ۔ چیئرمین یونین کونسل پکھرنامنوٹہ ، سردار صادق کونسلر یوسی پکھر ، سردار ضیاء الرحمن) محکمہ جنگلات سٹیٹ افسران و دیگر عوام علاقہ نے شرکت کی دو جگہوں کو دیکھنے کے بعد اتفاق رائے سے ایک کو منتخب کیا گیا۔ ٹھیکیدار نے جب کام شروع کیا تو اکھوڑی ڈھوک میں آباد کچھ نوجوانوں نےسیاسی لوگوں کے کہنے پر کام بند کروا دیا جو حلقہ ایم۔ایل اے کے ہی نمائندہ ہیں۔
حالانکہ محکمہ مال و جنگلات ، باغ و راولاکوٹ 1982ء کے نقشہ جات کے مطابق و دیگر ریاستی ریکارڈ کے مطابق آباد کاروں کے پاس قبضہ کے علاوہ کوئی مستند ملکیتی ثبوت نہیں ہیں ۔
ریاست کی ملکیتی زمینوں پر غیرقانونی قابضین کے پیچھے کسی طاقتور کا ہاتھ نہ ہو تو وہ ریاست کے تعمیراتی کام کو چیلنج کرسکتے ؟ یہ عام سی بات ہے ۔ وہ تمام عناصر لوگوں کو آپریشن کی طرف لے جارہے ہیں جو نقصان دے عمل ہوگا ۔۔

تولی پیر پر ہر سال لاکھوں لوگوں سیر کو آتے ہیں ان کو پانی ، راستہ ، سڑک ، پارکنگ سماجی تحفظ اور امن و امان کی سہولیات فراہم کرنا محکمہ سیاحت ، ضلعی انتظامیہ ڈی سی پونچھ ، کمشنر ڈویژن کی ذمہ داری بنتی ہے ۔
سیاحت کے فروغ کے لیے کئے جانے والے اقدامات کے راستے کی رکاوٹیں کیسے ختم ہوں گی اس کا فیصلہ باقی ہے ۔
ضلع کونسل جنگلات و محکمہ مال اگر بہتری کے لیے کام کرے تو دُنیا بھر کے قوانین کے مطابق اس کام کو چیلنج کرنا ریاست کے کام کاج میں مداخلت تصور کیا جاتا ہے ۔ تولی پیر کے ترقی اور بہتری کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے ہوش کے ناخن لیں۔ غیر قانونی حق ملکیت کو ثابت کرنا پڑتا ہے ۔ چند ایک پرانے گھر جو سو سال سے آباد تھے وہ باغ کے ہیں یا علی سوجل کے ہیں ۔ ان کو چھوڑ کر باقی جو کاروبار شروع ہیں ان تمام کو اپنے غیرقانونی کاروبار کو محفوظ بنانے کے لے قانون کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے ۔ تولی پیر کی تعمیرات کو روکنا یا سیاحوں کے لیے من مرضی طریقہ کار رائج کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ نامکمن بھی ہے۔ ہر طرف کے حلقہ ایم۔ ایل اے حدود کے راستے کی رکاوٹیں ختم ہونے دیتے تو تولی پیر امن سے ترقی کرتا، لوگ آتے، روزگار پیدا ہوتا ، جان بوجھ کر تولی پیر کو نقصان پہنچایا جارہا ہے جو مستقبل کے لیے بہتر نہیں ہوگا۔ ریاست کو طاقت کے استعمال پر مجبور کرنے والے آنے والی نسل سے دشمنی کررہے ہیں ۔ ہمیں اِس روِش کو بدلنا ہو گا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481