اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آداب پیوندکاری ۔۔۔۔۔ زیتون کہانی 1

002371e7 3648 48fb 813c d8616a7c4cf3 1

جمیل الرحمٰن عباسی ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں ،علم و ہنر میں خداداد صلاحیتوں سے مالامال،  مگراس دولت کی موجودگی سے انکاری اور انکسار میں اپنی مثال آپ ہیں۔ان کا تعلق سرکل بکوٹ ایبٹ آباد کے گاؤں بانڈی بیروٹ سے ہے۔ یوں کوہسار نیوز کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ خطہ کوہسار ہی سے تعلق رکھنے والی ایک صاحب علم شخصیت اس کی ادارتی ٹیم کا حصہ ہے اور کوہسار کے قارئین مختلف موضوعات پر  ان کی تحریروں سے استفادہ کرتے ہیں۔

3f83700c 8fba 4155 a971 240272fe5bf8 612x430 17e0317b1 d083 4aae b7b2 b3599b9c36e5 1

بقول اپنے ایک ہم جماعت کے،جمیل الرحمٰن زور قلم کے ساتھ ساتھ زور "قلمکاری ” کے فن میں بھی یکتا ہیں، سو آج کل ان پر خطہ کوہسار میں زیتون کی کاشت، پیوندکاری اور قلمکاری کی دھن سوار ہے اور مختصر وقت میں رب کریم نے انہیں حیرت انگیز کامیابی سے ہمکنار کیا ہے،وہ اپنے آبائی علاقے یعنی بیروٹ سرکل بکوٹ سے باہر ہزارہ ڈویژن، مری اور گلیات سمیت مختلف علاقوں میں زیتون کی کاشت کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں، قارئین کوہسار کیلئے وہ اس موضوع پر اپنے تجربات بیان کریں گے جنہیں ہم "زیتون کہانی” کے عنوان سے شائع کر رہے ہیں۔

آج اس سلسلے کی پہلی قسط پیش خدمت ہے۔ آپ اس حوالے سے ذہن میں آنے والے سوالات کمنٹ باکس میں کر سکتے ہیں، جس کا تسلی بخش جواب دیا جائے گا، (ادارتی ٹیم)

 

اگرچہ میر نے ،، لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام ،، کارخانہ دنیا کے بارے میں کہا ہے لیکن اس کارگہ کا ایک کل پرزہ ہونے کے ناطے پیوندکاری کاری پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔

،، نازکی ،، اس  ،کام، کی ایک مثال سے واضح ہوتی ہے کہ جہاں پچھلے سیزن میں کی گئی   پیوندکاری کا مثبت نتیجہ کہیں سے نوے فیصد آ  رہا تھا کہیں سے  اسی فیصد ۔

وہیں ایک علاقے سے یہ نتیجہ موصول ہوا کہ سو میں سے صرف دس قلمیں پھوٹنے میں کامیاب ہوئی ہیں ۔ یہ ہمارے لیے تعجب انگیز خبر تھی ۔ یہ درست ہے اچھی طرح پیوند کرنے کے بعد بھی قلم پھوٹنے میں بظاہر  کئی عوامل اور درحقیقت  اذن باری تعالیٰ کی محتاج ہوتی ہے ،،فرمان قدسی ہے ،،  افرایتم ما تحرثون ۔۔۔ أ انتم تزرعون ام نحن الزارعون ،، بھلا دیکھو تو تم بیج بوتے ہو اسے تم خود اگا لیتے ہو یا ہم اسے اگاتے ہیں ،،۔

7a29c120 fbec 49aa 9335 5bbc7e10276e 351314461 1255674045317592 7088787787382214996 n 355139002 236738009103498 4792951167709660106 n

جب بیج کا یہ معاملہ ہے تو قلم پر بدرجہ اولی اس کا اطلاق ہوتا ہے کہ یہ اس سے زیادہ مشکل کام ہے ۔

بہرحال خراب نتیجے کی خبر سن کر ہمیں بہت افسوس بھی ہوا لیکن آخر کار دو دن پہلے  ہمارے بزرگ پیوندکار  علی افسر صاحب  اس علاقے میں گئے تو انھوں نے ناکام قلموں کے معائنے کے ساتھ ساتھ ان کے نگران صاحب سے تفتیش بھی کی ۔ پتا چلا کہ موصوف نے ایک ہی دن ،بغیر اس تمیز کے کون سی قلم پھوٹی ہے اور کون سی نہیں اور معروف فطری اصول ،،تدریج ،، کی خلاف  ورزی کرتے ہوئے تمام قلموں کے شاپروں کی قبا  یکلخت چاک کر دی  ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قلم نہیں پھوٹے ۔مگر بہت تھوڑے۔

 

یہ تو سابقہ بپتا تھی جو کہہ ڈالی

اب ،، بی زیتون ،، کی نقاب کشائی کے چند  آداب جان لیں ۔

 

جب قلم پھوٹ جائے اور اس کی پھوٹ واضح ہو چکے یعنی  پتیاں پوری نکل آئیں تو اوپر چڑھائے گئے شاپر میں دو تین سوراخ کر دینے چاہئیں جو انگلی کے برابر ہوں ۔ ایک سوراخ شاپر کی نچلی طرف یعنی  قلم شدہ تنے کے نزدیک کرنا چاہیے تاکہ شاپر میں جمع شدہ پانی یہاں سے خارج ہو سکے اور جمع ہو کر فنگس کا باعث نہ بنے ۔ بہتر ہے کہ یہ شگاف زنی بوقت عصر کی جائے تاکہ نوزائیدہ کونپلوں کو یکدم تیز دھوپ کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔

 

002371e7 3648 48fb 813c d8616a7c4cf3 10cb150de 8e0e 4d4a 894f 90dc2a0762df26a7b0f4 d22d 4baf a6b5 34ef7074e46b

دو تین روز بعد جب کہ شاپر میں جمع شدہ بخارات بتدریج خارج ہو جائیں اور کونپلیں خارج کے موسم سے سازگاری اختیار کر لیں تو شاپر کو قینچی یا کسی تیز دھار ے آلے سے دو حصوں میں تقسیم کر کے ایسے الٹ کر نیچے کر دیا جائے جیسے بکری کی چمڑی  کھینچتے ہیں ۔

کہو کے تنے اور اور لگائی گئی قلموں کے جوڑ پر بندھا شاپر کبھی نہیں کھولنا ۔یہ پٹیاں تقریبا ایک سال بعد گل سڑ کر گر جائیں گی، اس وقت شاپر کو کھول کر آپریشن والی جگہ کو شاپر سے بالکل آزاد کرائیں  اور کسی کپڑے کی پٹی سے مضبوط باندھ دیں تاکہ ہوا کے جھونکوں سے جوڑ ہل نہ جائے ۔

والسلام

جمیل الرحمٰن عباسی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481