Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مری میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری

9bdd789e 8000 463d 90ba c57fa1de734e 3

مری ایکسپریس وے پر غیرقانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن جمعرات کو  تیسرے روز بھی جاری رہا .

متاثرین نے الزام عائد کیا ہے کہ این ایچ اے کے افسران و اہلکار عمارتوں کی مقرر کردہ حدود کی پیمائش میں رد وبدل کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں قانونی تعمیرات بھی غیر قانونی قرار پا رہی ہیں۔متاثرین کا کہنا تھا کہ  بعض بااثر شخصیات کی عمارتوں کو  66 فٹ کی حدود میں آنے کے باوجود ان کیخلاف آپریشن نہیں کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق غیرقانونی تعمیرات کے خلاف گرینڈ آپریشن ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ضلع مری کیپٹن ریٹائرڈ قاسم اعجاز کی نگرانی میں  تین روز سے جاری ہے۔

c93d32f2 555f 476b 8ed8 7471b656eb96

آپریشن  کے دوران مری ایکسپریس وے  کے  مختلف مقامات پر ہیوی مشینری کے ذریعے متعدد عمارتیں مسمار کی گئیں جبکہ بعض ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور فلیٹس وغیرہ کے جزوی حصوں کو گرایا گیا۔ اس موقع پر کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے راولپنڈی سے پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کی گئی تھی اور ہیوی مشینری سمیت ڈیمالشنگ سٹاف اور پولیس سمیت دیگر اداروں نے حصہ لیا۔

 

مسیاڑی میں آپریشن کے حوالے سے متاثرین کا الزام

اے ڈی سی آر مری قاسم اعجاز کا کہناتھا کہنا تھا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلا امتیاز آپریشن جاری رہے گا کیونکہ متعدد بار نوٹس اور مقدمات درج ہونے کے باوجود تعمیرات کی گئیں تاہم تیسرے روز  ہونے والے آپریشن کے متاثرین اور عوامی حلقوں نے مسیاڑی کے علاقے میں ہونے والے آپریشن کو این ایچ اے کی جانب سے امتیازی آپریشن قرار دیا گیا۔

متاثرین کا کہنا تھا کہ پیمائش کے دوران این ایچ اے کے افسران و اہلکار  مخصوص عمارتوں کی نشاندہی کرتے رہے اور  کئی ایسی عمارتیں بھی گرا دی گئیں جوآپریشن کی حدود میں بھی نہیں آتی تھیں ۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ اپریشن کے دوران پیمائش کرنے والے این ایچ اے کے افسران و اہلکار بار بار موبائل فون پر ہدایات بھی وصول کرتے رہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481