اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

گریس کی "گریس” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیما باشا

6ae3c842 99ce 49e9 801f 0084b8c7b396

یہ آم کے درختوں پر بور ،کیلے کی جڑوں سے نیا جنم لینے والے نوکیلے بچوں، جنگل جلیبی کے تنوں پر تیزی سے جانے اور آنے والے چیونٹوں کے قافلوں اور شرمائے ہوئے گل عباس کے آتشی پھولوں کا ذکر ہے۔
ایک دوپہر سکول سے آئ تو ایک اجنبی عورت آنگن میں امرود کے درخت کے نیچے امی سے باتیں کررہی تھی۔
مجھے اجنبی ہمیشہ سے اچھے لگتے تھے۔خاص طور پر اگر وہ خوبصورت بھی ہوں ۔
اسکا رنگ اور بدن جامن کی ڈال کیطرح لچکیلا اور کاسنی تھا۔ اور کالی سیاہ آنکھوں کی نوکیں کنپٹیوں کی طرف اٹھی ہوئ تھیں۔ مجھے بدستور اپنی جانب دیکھتے ہوئے اس نے اچانک نوٹس لیا اور ایک ساحرانہ مسکراہٹ اسکے بھرے کتھئ ہونٹوں پر پھیل گئ۔ یہ میری زندگی کا پہلا ٹریپ تھا۔ ہمارے ہاں تو مسکراہٹ کا ایسا کوئ خاص رواج تھا نہیں۔ خالص مذہبی ماحول، اوپر سے پڑھا لکھا بھی۔ کبھی کبھار تو مجھے اپنے گھر والوں کے کندھوں کے اوپر چہرے کی جگہ چوکور کتابیں نظر آتی تھیں۔ وہی لگا بندھا معمول۔اٹھنا، سکول جانا، واپس آکے نماز پڑھ کے کھانا کھانا، اور جب دوپہروں کو کونے کھتروں سے تصور کی بلائیں برآمد ہوں تو سوجانا۔ شام کو اٹھ کے ہوم ورک ، پڑھائ، پڑھائ ۔اف خدایا، مجھے اس سارے معمول، سے شدید بیزاری تھی۔ مجھے دنیا کی خوبصورتیاں اور نت نئ چیزیں بےطرح کھینچتی تھیں۔
اسی لئے مجھے اس اجنبی عورت سے بڑی ہی دلچسپی پیدا ہوئی۔

یہ گریس تھی۔ امی سے بات کرنے کے دوسرے ہی دن گریس سے سارا گھر سنبھال لیا۔ وہاں سے میں نے اپنے کام سے محبت سیکھی۔ وہ اکیلے گھر میں بھی، جب اپنا کام کرتی تو پھر کھڑے ہوکے کسی آرٹسٹ کی طرح، تنقیدی نظر سے کمرے کو اسکے ایک ایک کونے کو دیکھتی، ایسے میں ہم میں سے کوئ اس گیلے فرش پر آجاتا تو اسکی ستوان کھنچی ناک پر، ایک شکن آجاتی،
پچھے ہٹ جاو
پراں ہو جئو،
کبھی کبھی جب امی نہ ہوتیں تو میں اسے تگنی کا ناچ نچا دیتی، مجھے اسکے منہ سے پراں ہٹ بہت اچھا لگتا۔ کبھی کبھی وہ رک رک کے ٹھہر کے کام کرتی اور کچھ دنوں کے لئے غائب ہوجاتی۔پھر ساتھ میں اک چھوٹی سی پٹلیا لاتی، اوف فوہ، ایک دفعہ میں نے اسکا کپڑا کھینچ کے دیکھا، اندر ایک چھوٹا سا انسانی بچہ کسمسایا، مجھے اسکی امید نہ تھی۔ میں نے اس سے پہلے پرندوں کے بچے ہی دیکھے تھے۔چیخ مار کے بھاگی۔
سب خوب ہنسے۔ گریس کو بیٹی کا بہت شوق تھا۔ آٹھویں بیٹے کی پیدائش پر وہ واپس آئ تو امی کے پاس بیٹھ کے باقاعدہ روئی۔ اس کی کھنچی ہوئ آنکھوں سے چمکیلے آنسو ، میرے ننھے سے دل کو بےچین کرگئے۔ اور کچھ تو سمجھ آیا نہیں۔مگر جب وہ کام کرنے لگی تو میں بھی اسکے ساتھ بڑھ بڑھ کے کام کروانے لگی۔ تس پہ وہ دوبارہ پودینے کی کیاری کے پاس بیٹھ کر رونے لگی۔ گھر میں اک عجب سوگوار صبح پھیل رہی تھی۔ امی اسے تسلیاں دے رہیں تھیں, چپ ہونے کو کہہ رہی تھیں ۔

دفعتا وہ کھڑی ہوئی اور اس نے امی سے سوال کیا۔ فیر میں اسے لے لیواں؟
امی نے بڑے، بڑے پن سے کہا ہاں ہاں گریس، اور یوں مجھے اپنی دوسری ماں مفت میں مل گئ۔ یہ زمانہ، تین چار سالوں پر محیط رہا۔گریس ماں کی نرم دلی، محبت اور نیکی بھرے وجود نے میری شخصیت سازی میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ اس سارے زمانے میں ہم کرسمس پہ اسکے گھر جاتے، اور وہ عیدوں پہ ہمارے گھر آتی۔ پھر کسی سال یہ سلسلہ ٹوٹا ہوگا۔ پھر کبھی کبھار ملنا ، پھر بالکل ہی گمشدگی۔
کل میں نے حیدر علی کو جوابا کمنٹ میں لکھا تھا۔ ہاں مگر بچھڑے ہووں سے ہماری امید نہیں ٹوٹتی۔ ہم یہ ہی سمجھتے ہیں وہ اپنے اسی روپ میں ہمیں کسی رستے، کسی موڑ پر مل جائیں گے۔
مگر رات سے مجھے ایک ہی خیال آرہا ہے کہ اب اگر ہم کبھی ملے تو،بھلا میں اس سے کیسے نظر چار کرونگی؟ کیسے اپنے مجرمانہ، خون آلود تخریب کار ہاتھوں سے اس پاکیزہ بدن کو چھو پاوں گی؟
اگر اسکے قدموں سے لپٹنے کی کوشش بھی کروں گی تو کہیں وہ اپنے قدم ہی نہ کھینچ لے۔
میرے دل پہ ایک نفرت آلود خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
خداوند مجھے اب کبھی گریس ماں کے پاکیزہ وجود سے نہ ملائے۔
الہی آمنین۔
سترہ اگست دو ہزار تئیس کی ایک دل گرفتہ دوپہر۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481