اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مری انتظامیہ مری کی تباہی کی ذمہ دار ہے

Picsart 23 05 25 17 17 29 781

مری انتظامیہ مری کی تباہی کی ذمہ دار

ہمارے زمانہ طالب علمی میں ملکہ کوہسار مری "صحت افزا مقام” کے طور پر معروف و مقبول تھی۔ انتظامیہ اشرافیہ اور اداروں کی ملی بھگت سے جنگل تباہ نہیں ہوئے تھے، اس لیے یہاں کا موسم گرمیوں میں بھی سرد رہتا تھا۔ لوگ مال و زر کے اسیر نہیں ہوئے تھے اس لیے سیاحوں کو مہمان سمجھا جاتا تھا اور ان کی عزت و تکریم کی جاتی تھی۔

لیکن بدقسمتی سے عاقبت نااندیش لوگوں نے آبائی زمینیں بیچ کر مری کی تباہی کی بنیاد رکھی۔ اس سے ہمارے ماحول کی تباہی کا آغاز ہوا۔ رہائشی اور کمرشل زمینیں خرید کر طاقت ور اشرافیہ نے انتظامیہ کی مدد سے بائی لاز کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا اور غیر قانونی تعمیرات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جس نے "ملکہ کوہسار” کو کنکریٹ کا جنگل بنا دیا۔ طاقت وروں نے جنگلات کا صفایا کر کے وہاں مختلف ناموں سے اپنے آسائش کدے تعمیر کیے۔ تمام خوبصورت مقامات پر کسی نہ کسی ادارے کی نظر ہوس کا پڑنا عمومی بات تھی سو نہ مری کے لوگوں کی عید گاہ بچی اور نہ ان کے نوجوانوں کے کھیلوں کے میدان۔

سانحہ مری کے بعد محترم سفیان عباسی نے جب رٹ دائر کی تو ہم ہر تاریخ پر جج صاحب کے سامنے پیش ہوتے رہے۔ ہمارے قانونی ماہرین نے وہ دلائل دیے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا۔ جج صاحب نے جہاں بائی پاس اور انتظامیہ کے نااہل افسروں کو سزائیں دینے کا حکم دیا وہیں یہ بھی حکم دیا کہ "تجاوزات” اور "غیر قانونی تعمیرات” کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔ کون عمل کرواتا ان احکامات پر کہ صرف پارکنگ مافیا مری سے روزانہ دس لاکھ روپیہ بٹورتا ہے۔

ابھی نگران حکومت کو آئے دو دن ہوئے ہیں اور مری انتظامیہ نے ڈنہ سے آپریشن کا آغاز کر دیا۔ ایک آدھ دن میں اتنے بڑے آپریشن کی تیاری ناممکنات میں سے ہے۔ اس لیے حقیقت حال کی تہہ تک پہنچنے کے لیے اہل دانش و بصیرت ہونا ضروری نہیں کہ وہی مری انتظامیہ جو سردیوں میں برف باری کے حوالے سے انتظامات کے سلسلے میں کیسی بے حسی کا مظاہرہ کرتی ہے وہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف اتنی سرگرم ہو گئی کہ ایک دن میں مشینیں بھی دستیاب ہو گئیں، ایندھن بھی وافر مقدار میں مل گیا، پولیس کی نفری بھی آ گئی اور تحریری حکم نامہ بھی مل گیا۔ اگر دال میں کچھ کالا نہیں تو ہر کار ضروریہ کا مکمل انتظام ایک دن میں کیسے مکمل ہو گیا؟

687750b1 faa6 4ae8 8fbb acef35724bab 1

اگر واقعی یہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن ہے تو۔۔۔۔۔۔۔

  • جب یہ کئی منزلہ عمارات زیر تعمیر تھیں تو انتظامیہ حرکت میں کیوں نہ آئی؟
  • ان لوگوں کے پاس یقینا نقشہ جات ہوں گے، وہ کس نے فراہم کیے؟
  • اگر واقعی کرپشن ہی ختم کرنا مقصود ہے تو مری ڈویلپمنٹ فورم
    Murree Development Forum

کے پلیٹ فارم سے یہ پیش کش کی گئی تھی کہ نقشہ جات کے اجراء کو شفاف بنانے کے لیے آن لائن سروسز شروع کی جائیں۔ تمام مطلوبہ دستاویزات اپلوڈ کی جائیں، جنھیں ایپلیکیشن جائزہ لے کر درست یا غیر تسلی بخش قرار دے۔ ہر عمارت کے نقشے کے حوالے تمام معلومات ڈیٹا بیس میں موجود ہوں اور بہ وقت ضرورت ان کی جانچ پڑتال ہو سکے اور اس پر ہونے والی تمام کارروائی کی تفصیل ریکارڈ کی صورت میں ایک کلک پر پیش ہو سکے۔

نیز مری میں موجود تمام ہوٹلوں کی درجہ بندی کا پورا نظام بھی بنانے میں معاونت کی پیش کش کی گئی تھی۔ درجے کے حساب سے ہوٹلوں کا کرایہ طے ہوتا۔ ہر درجے کی سہولیات کی فہرست جاری ہوتی اور ہر ہوٹل کے مین گیٹ پر انتظامیہ کی طرف سے جاری کیے گئے سٹار رینک کو آویزاں کرنا ہر ہوٹل کے لیے لازمی قرار دیا جاتا۔ تمام چھوٹے بڑے ہوٹلوں، موٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کی ویب سائٹ کو لازمی قرار دیا جاتا تاکہ ٹاؤٹ سسٹم کا خاتمہ ممکن ہوتا۔

پارکنگ کے مسئلے کے دائمی اور دیرپا حل کے سلسلے میں بھی کئی قابل عمل تجاویز پیش کی گئیں تھیں۔ جن میں دو تین مقامات پر پارکنگ پلازہ کی تعمیر، پارکنگ پلازوں سے مری شہر تک بس شٹل سروس کا انتظام اور تمام غیر قانونی پارکنگ لوٹ مار کے خاتمے کی تجاویز شامل تھیں۔

لیکن انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی کہ اس سے تو مری ایک عالمی معیار کا سیاحتی مرکز بن جاتا۔ سیاحوں کی زندگی آسان ہو جاتی۔ روز روز کے مسائل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے۔ ایجنٹ اور پارکنگ مافیا کا خاتمہ ہو جاتا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملات کو منصفانہ اور شفاف بنانے کے لیے "ون ونڈو آپریشن آفس” قائم کیا جائے۔ قلیل مدتی ٹارگٹڈ آپریشن کے بجائے ایک کمیشن بنا کر تمام تفصیلات طے کر کے اور انھیں مشتہر کر کے ہمہ گیر، پوری مری پر محیط اور منصفانہ آپریشن کیا جائے۔ پہلے مرحلے میں ساری عمارتوں کا معائنہ کر کے ایک رپورٹ بنائی جائے۔ ہر عمارت کے مالک کو نوٹس جاری کیا جائے کہ وہ ایک ماہ کے اندر فلاں فلاں تجاوزات ختم کر دے یا فلاں ضروری منظوری لے کر دستاویزی ثبوت پیش کرے۔ ون ونڈو آپریشن آفس میں غیر رشوت خور، با اخلاق اور فرض شناس افسروں کو تعینات کیا جائے۔

مہلت ختم ہونے پر انتظامیہ آپریشن کر کے تجاوزات کا خاتمہ کر دے اور کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے والوں پر کار سرکار میں مداخلت کی شقوں کے تحت مقدمات قائم ہوں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ کمیشن صرف چند سرکاری افسران پر مشتمل نہ ہو۔۔ بلکہ اس میں ماہرین قانون، کاروباری شخصیات، معززین علاقہ، سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور باشعور عام آدمی کی نمائندگی ہو۔

عام آدمی کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ بے بنیاد اور شرانگیز مقدمات فورا واپس لیے جائیں ورنہ انتظامیہ کے خلاف عوامی رد عمل سامنے آئے گا جس سے امن و امان کے مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
#راشدعباسی

16195414da2f3b0


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481