اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

خدارا کھیل کو کھیل رہنے دیں

7ee3965c 6602 4c5b 8e55 04ff6994ac41

یوں تو زندگی میں روزانہ کی بنیاد پر کئی یادیں وابستہ ہوتی ہیں جنہیں ہم دوسری صبح بھول چکے ہوتے ہیں اور کئی ایسی ہوتی ہیں جنہیں دوستوں کی محفل میں بیٹھے ہوئے یاد کر لیا جاتا ہے ، کئی واقعات تو دوست خود بھی یاد کروا دیتے ہیں. سوشل میڈیا کے دور نے ہماری روایتی سوچ اور عمل کو کافی حد تک بدل ڈالا ہے اب تو فیس بک بھی کئی سال پرانی یادیں ایک پوسٹ کی صورت سامنے لے آتا ہے ،

یوں تو فیس بک اور ٹوئٹر ( موجودہ ایکس X ) میں  یہ موازنہ کرنا کہ کس کی اہمیت ہماری زندگی میں زیادہ ہے بہت ہی مشکل کام ہے ، یو ٹیوب ، فیس بک ، انسٹا گرام ، ٹوئٹر، ٹک ٹاک اور دیگر کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز موجود ہیں مگر ان سب پر ایکٹیو رہنے کے لئے آپ اکیلے کے لئے بہت مشکل ہے، اس کے لئے آپ کو دو بندے ہائر کرنے پڑیں گے جو کہ سوشل میڈیا ہینڈلر کی اہلیت کے حساب سے کم از کم دو لاکھ روپے ماہانہ سے لے کر پانچ لاکھ ماہانہ تک کا خرچہ ہے ۔

ان میں سےایک بندے کا کام ہو گا آپ کا سوشل میڈیا سنھالنا اور دوسرے بندے کا کام ہو گا صرف یہ سوچنا کہ اضافی پانچ لاکھ کہاں سے لائے جائیں تا کہ ہم دو بندوں کو تو تنخواہ وقت پر مل سکے ، خیر ہوا یہ کہ 14 اگست کو  بذات خود ٹوئٹر استعمال کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی ) کے آفیشل ٹوئٹر اکاونٹ سے کی گئی ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں آج تک کی پاکستانی کرکٹ کی مکمل تاریخ 2 منٹ اور 21 سیکنڈ میں دکھائی گئی۔
یوں تو یہ ایک معمول کی پوسٹ تھی مگر یہ پوسٹ اچانک مجھے ایک دو دن یا ایک دو ماہ یا ایک دو سال نہیں بلکہ پورے 31 سال پیچھے لے گئی۔ میرے مرحوم والد کی کرکٹ سے دلچسپی میرے نام کی صورت میں آپ کے سامنے ہے، اس لئے مجھے بھی کرکٹ کا جنون اب تک ھے ، خیر یہ مارچ 1992 کی بات ہے کرکٹ کا ورلڈ کپ چل رہا تھا اور 92 کا ورلڈ کپ بہت سی وجوہات کی بنا پر ہمیشہ تاریخی حیثیت کا حامل رہے گا۔

اس ورلڈ کپ میں پہلی بار مختلف رنگوں کی پہننے والی کٹ استعمال کی گئی تھی جس کی وجہ سے اس ورلڈ کپ میں رنگوں کی بہار آ گئی تھی سفید رنگ کی کٹ پہنے کھلاڑیوں کو تو بچپن ہی سے دیکھتے آئے تھے یہ پہلا ورلڈ کپ تھا جس نے کبھی کبھار کرکٹ دیکھنے والوں کو تو چھوڑ کرکٹ سے بہت کم دلچسپی رکھنے والوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا۔ دوسری وجہ بینسن اینڈ ہیجز ٹرافی تھا ۔ 92 میں بینسن اینڈ ہیجز سگریٹ کا مہنگا ترین برانڈ تھا جسے عام آدمی پینا تو دور کی بات پینے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ، میں خود اس وقت ولز سگریٹ پیتا تھا ( کیونکہ والد مرحوم بھی ولز ہی پیتے تھے اور کبھی کبھار پہلے ان کی ڈبی سے چوری کر کے بعد ازاں ان سے مانگ کر پیتا تھا )

اسلئے بینس اینڈ ہیجز نام ہی کافی تھا تھا سگریٹ پینے والوں کو اٹریکٹ کرنے کے لئے ۔ میں ان دنوں نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھنے کے شوق میں ڈاکٹر انصاری ہومیوپیتھک میڈیکل کالج میں سیکنڈ ائر میں تھا اور مزے کی بات کہ میں اس کالج کے بھی فرسٹ Batch میں تھا۔ ہم کالج کے ساتھیوں کی کالج میں فرسٹ Batch ہونے کے باعث اچھی خاصی "تھرناٹی” تھی اسی وجہ سے لاڈلے بھی تھے اساتذہ بھی دوستوں جیسا ہی رویہ رکھتے تھے پورے چار سال کے کورس میں ایک دن بھی ڈانٹ نہیں پڑی ( ایک وہاں کا قصہ بھی یاد آ گیا وہ پھر کبھی ) میری جاب اس وقت کراچی پورٹ ٹرسٹ پر کنٹریکٹ کی ایک شپنگ کمپنی میں تھی جس میں ایک عام سے کلرک کی حیثیت سے شامل ہو کر مکمل انچارج کی پوسٹ تک پہنچ چکا تھا اور میری ڈیوٹی میں چند اہم کام تھے جن میں سے پہلا کام ڈاکومینٹیشن انچارج کا تھا۔ دوسرا کام شپبگ کمپنی کے جہاز کے عملے کی آمد سے پہلے ان کے  لئے امیگریشن پیپرز کلیئر کروانا ھوتا تھا اور پھر جہاز (بحری جہاز) کی بورڈنگ کروانا اور کسٹم سے جہاز کا ڈرنک سیکشن ( شراب خانے کا اسٹور) Seal کروانا ( تا کہ وہ شراب مقامی لوگوں کو نا بیچ سکیں ) ھوتا تھا چونکہ یہ قانون ہے ،اس لئے اس پر سختی عمل ہوتا تھا ( وچلی گل اگلی کسی تحریر میں) ۔

پھر امیگریشن سے لئے گئے پیپرز کو جہاز کے کپتان کے حوالے کرنا ھوتا تھا جو کہ جہاز کے عملے کے لئے ایک پاسپورٹ کی سی حیثیت رکھتا تھا۔  اس سے عملے کے ارکان پورٹ کے مین گیٹس پر دکھا کر پورٹ سے باہر جا کر شاپنگ کر سکتے یا کسی ریسٹورینٹ وغیرہ جا سکتے تھے۔ کچھ روٹس کے جہاز 48 گھنٹے اور کچھ روٹس کے بڑے جہاز تقریبا” سات دن پورٹ پر رھتے، پھر ان کو ایگزٹ کلئیر کروا کر دینی ہوتی اور ان کے امیگریشن پیپرز واپس لے کر حکومت پاکستان کے سرکاری آفس میں واپس جمع کرانے ھوتے اور شراب خانے پر لگی Seal کسٹم آفیسر کو Intact دکھا کر جہاز کو روانگی کی اجازت دلوانی ہوتی تھی ۔

 

اس دوران ہر جہاز کے کپتان اور خاص کر چیف آفیسر سے بہت گہری دوسری ہو جاتی تھی کیونکہ بندگاہ پر جہاز لگتے ہی کپتان کی ایک حساب کی چھٹی شروع ھو جاتی اور چیف آفیسر کی ڈیوٹی اسٹارٹ ھو جاتی تھی ۔ جہازکے بندگاہ پر لگنے سے لے کر  روانگی تک میرے لئے ایک وی وی آئی کمرہ مختص ھوتا تھا جس میں سنگل بیڈ ٹیبل فریج کلر ٹی وی تک موجود ہوتا جس پر دنیا جہاں تک کے چینل دیکھے جا سکتے تھے اور چیف آفیسر کی طرف سے مجھے جہاز کا ہی ایک واکی ٹاکی مل جاتا تا کہ کسی ایمرجینسی کی صورت میں کپتان یا چیف آفیسر سے فوری رابطہ ہو سکے ۔

اگر کبھی دو جہاز مختلف برتھ ( جس جگہ جہاز لنگر انداز کر کے اس سے کرین کے ذرئعے کنٹینر اتارے جاتے ہیں اسے برتھ کہا جاتا ھے) پر لگے ہوتے تو دونوں جہازوں پر میرے کمرہ مختص ہوتا تھا ۔ فروری 1992 میں کرکٹ کا تاریخی ورلڈ کپ شروع ہوا تو پاکستانی ٹیم کی ہار کی وجہ سے فورا” دلچسپی اس لئے کم ہو گئی کہ دیگر مصروفیات بہت زیادہ تھیں۔ اپنی عمر کے حساب سے بھی زیادہ بڑی اور اہم ذمہ داریاں کافی تھیں وہاں مصروفیات بڑھ گئیں مگر جیسے ہی پاکستانی ٹیم نے سیمی فائنل جیتا تو  پورے ملک میں ایسے خوشیاں منائی گئیں کہ جیسے کپ ھم نے ابھی سے ھی جیت لیا ہو ، سیمی فائنل کی جیت کے ساتھ ہی فائنل کی جیت کی خواہش نے شدت سے جنم لے لیا اور ساتھ ہی میں نے اپنی مصروفیات کی ڈائری ( سیاسی ڈائری ہر گز نہیں ) کھولی اور دیکھا کہ میں اس دن کہاں مصروف ہون گا کونسا جہاز ہو گا ، ہو گا بھی یا نہیں ھوگا کا سوچتے ہوئے ڈائری کے صفحات پلٹے تو دیکھا ایک جہاز نے میچ سے ایک دن پہلے ہائی ٹائٹ ( سطح سمند کا اوپری سطح تک آنا )  میں لنگر انداز ہونا ھے اور میچ والے دن اور رات وہیں رک کر اس سے اگلے دن ہائی ٹائٹ میں واپس روانہ ہونا ہے ، میں اس خوشی میں آدھا میچ تو وہیں جیت چکا تھا۔ میچ والا  دن مجھے گزرے کل کی طرح آج بھی یاد ہے بھاویں مجھے حقیقی گزرے کل کا آدھا بھول ہو ہے ۔

رمضان چل رہے تھے ،خیر میچ سے ایک دن پہلے سحری کے بعد چند گھنٹے نیند کی اور کالج اٹینڈ کرکے  وہیں سے اپنی ہنڈا 125 بھگائی اور سیدھا آفس پہنچ کر وہاں سے سارے پیپرز لئے اور سیدھا امیگریشن آفس، وہاں سے سائن اسٹمپیں لگوا کر کسٹم والوں کو جہاز کی آمد کا بتا کر ( گو کہ انہیں مجھ سے پہلے ہی خبر ہوتی تھی ) وہاں سے سیدھا اپنے پورٹ کے اندر والے کیبن اور وہاں ڈاکومینٹس تیار کئے اور جہاز کی آمد ٹائم سے آدھا گھنٹہ پہلے برتھ پر جا کر تمام معاملات دیکھے ۔

اسی اثناء میں جہاز لنگر انداز ہوا اور میں نے اگلے آدھ گھنٹے میں سب کی امیگریشن اور کسٹم کلیئر کروائی اور سیدھا اپنے جہاز کی جانب سے دئے گئے کمرے میں پہنچ کر پیپرز رکھے وہاں سے واپس ڈیک پر آ کر جہاز کے کنٹینروں کی لسٹیں چیک کیں۔ کلرکس کو انکے گینگ ( کرین ) آلاٹ کئے اور اوپر جا کر کمرے میں ٹی وی لگا لیا اگلے روز ڈے نائٹ فائنل میچ تھا۔ کچھ ہی دیر میں میچ شروع ھوا وکٹوں کے ساتھ ساتھ حلق بھی سوکھتا اور پیاس بڑھ جاتی۔ ہر گرتی وکٹ ڈرا دیتی تھی کیونکہ پاکستانی ٹیم کا ایک وکٹ گرنے کی دیر اور باقی سوکھے پتوں کی طرح گرنا شروع۔ عمران خان کا کریز پر رہنا کافی حوصلہ افزارہا  ۔ بمشکل تمام اننگ مکمل ہوئی بالنگ شروع ہوئی چوکے چھکے پر دل بال کے ساتھ باونڈری سے باہر آتا جاتا رہا۔ انگلینڈ کی گرتی وکٹیں حوصلہ اور امید بڑھاتی رہیں اور آخر کار پچاسویں اوور کی دوسری بال پر عمران خان نے آخری وکٹ لے کر سینہ فخر سے چوڑا کر دیا۔ اتنی خوشی کہ یہاں اب بھی لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے ، رمضان میں چاند رات اور اگلے دن کو …عید کا سماں تھا ۔

وہ خوشی کے لمحات یاد کر کےاب بھی بدن میں کرنٹ دوڑ جاتا ہے۔ انٹرنیشنل لیول پر پاکستان کی پہلی بڑی فتح تھی۔ دنیا جہاں کے اخبارات اور ٹی وی پر پاکستان کا ذکر تھا، مگر ذکر نہیں تھا تو کل پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستان میں کرکٹ کی تاریخ والی پوسٹ میں ساتھ لگائی گئی ویڈیو میں، عمران خان کا بالکل ذکر تک نہیں تھا ۔ 1992 کے کپ سے کئی اسنیپ شاٹس اٹھائے گئے مگر ان میں عمران خان نہیں تھا ، پی سی بی ایک کھیلوں کا ادارہ ہونے کے باوجود پاکستان میں کرکٹ ورلڈ کپ لانے والے کو کیسے نکال سکتا ھے پی سی بی کی اس پوسٹ نے بہت افسرہ کیا ۔ سیاست کو کھیلوں سے پاک رکھنا چاھئیے آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں مگر 1992 کے ورلڈ کپ کی تاریخ سے عمران خان کو مائنس نہیں کر سکتے ۔ خدارا کھیل کو کھیل رہنے دیں اس سے سیاست نا کھیلیں ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481