اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اے مَحبت تیرے انجام پہ روناآیا—جمیل الرحمن عباسی

jamil rehman abbsi

jamil rehman abbsi

(جمیل الرحمن عباسی)

سنا ہے کہ لڑکی مر گئی ہے   اور کچھ کھا کر مر گئی یعنی کچھ کر گئی۔ اَور کچھ نہ سہی ایک سوال تو کر گئی کہ  آخر کب تک؟؟

سنا ہے اس نے محبت کی تھی ۔  محبت کیا ہے کہ انسان  کی مٹی کو جذبات کے جس پانی میں گوندھا گیا اسی کی ایک  موج  ،جنس مخالف کی  طلب  ہے ۔ یہ جذبہ طلب جب  اپنا  احساس دلا کر من میں جوت جگاتا ہے تو اس کیفیت کو محبت کہا جاتا ہے ۔’’ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے ‘‘  کے مصداق  ہر انسان چاہے عورت ہو چاہے مرد ،  دل میں  اس محبت کا  جذبہ پوشیدہ ضرور رکھتا ہے ۔  تو ہر انسان میں پائی جانے والی یہ ایک لطیف جذباتیت  ہے ۔ البتہ  خوب یاد رکھنا  کہ اس کا سامنا  ،  اس تلخ  و سنگلاخ حقیقت سے ضرور ہو کر رہتا ہے   :’’  تم سے الفت کے تقاضے نہ نبھائے جاتے ‘‘ تو اگر انسان  اس نصیحت پہ دھیان کرے کہ محبت و الفت  کے تقاضے  نبھانا آسان نہیں ہے  بلکہ   اکثر   اوقات ، اکثر لوگ یہ تقاضے  نبھاتے نہیں تو وہ اپنے جذبہ الفت و محبت  پر  روک  لگا کر روگ سے محفوظ رہ سکتا  ہے ۔  اس  طرف  کچھ اشارت یوں  ہے کہ   جذبے کی اس طلب  کا کوئی نہ کوئی سبب بھی ضرور ہوتا ہے  چناں چہ  ان اسباب   پر کچھ روکاٹیں کھڑی کر کے  جذبہ محبت کو کچھ سالوں کے لیے مزید  پوشیدہ  رکھ کر ان  جذبات کے آگے  بند باندھا جا سکتا ہے۔ یہ   بند عارضی ہوتے ہیں دائمی نہیں   ۔ اس جذبہ محبت  جسے آخری تجزیے میں ’’ جنسی جذبہ ‘‘ کہہ دینا  مطابق حقیقت ہے ، کی  دائمی تکمیل کا راستہ نکاح ہی ہے  ۔اسی راستے پہ چل کر  انسان اس جذبے کی بے اعتدالیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے ۔  چناں یہی رمز ہے اس  حدیث ِ ابن ماجہ کی کہ ‘‘  ہم دو محبت کرنے والوں کے لیے نکاح  جیسی کوئی چیز  نہیں پاتے‘‘ ۔

 

عرض کیا گیا کہ جذبہ محبت  کے کچھ اسباب ہوتے ہیں جن سے یہ فروغ پاتا ہے ۔ مثلا ً ان میں سے ایک  اظہار ہے ۔ یہ  جذبات کے آگے باندھے گئے بند کا وہ پہلا شگاف ہے  جس کے بعد  جذبات کے سیلاب کو روکا نہیں جا سکتا ہے:

اس لیے حال دل نہیں کہتا

کہیں جذبات میں نہ  بہہ جاؤں

جذبہ  محبت کی  تلاطم خیز موجوں میں بہہ کر انسان   ایک  ایسے خیالی  جزیرے پر پہنچتا ہے جہاں  ’’ دوسرے   سب   ‘‘ہوتے ہوئے بھی نہیں ہوتے ۔انسان  ایک مزعومہ  تنہائی محسوس کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے  کہ یہاں کوئی  ہے ہی نہیں جو ہمیں دیکھ پائے اور خیالوں میں وہ اپنے محبوب کا ساتھ پاتا ہے :

تم  میرے   پاس ہوتے  ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

یہ ایک خاص کیفیت ہے ۔  یہ   شرر کی فردوسِ بریں ہے یا صباح کی جنت  ارضی ہے :

پہن کے انفاس کی قبائیں

اداس تنہائیوں کے لمحوں

میں ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیں

یہ وہ حال ہے کہ انسان ہر وقت  محبوب  کے خیالوں میں کھویا رہتا ہے:

اک سفینہ ہے تیری یاد اگر

اک سمند ر ہے میری تنہائی

محبوب کی یاد ، اس کو سوچنا ، اس  سے باتیں کرنا یا  اس  کی باتیں کرنا   یہ سب کچھ نفسیات کی زبان میں خود ترغیبی کہلاتاہے۔ جس میں انسان  موہوم کو مرسوم اور معدوم کو موجود تک  پہنچا  دیتا ہے ۔  رفتہ  رفتہ یہ خیالی دنیا  ’’ اتنی یقینی ‘‘ بن جاتی ہے کہ  انسان  کی  تنہائی محفل بن  جاتی ہے:

جس طرف آنکھ اٹھاؤں  تیری تصویراں ہیں

نہیں معلوم کہ یہ خواباں ہیں کہ تعبیراں ہیں

جذبات ِ محبت کی یہ  منزل عشق ہے ۔ جس کے بارے میں غالب نے درست تو یہ  کہا  کہ ’’ کہتے ہیں جسے عشق خلل ہے دماغ کا‘‘ ۔ لیکن  اسے آتش قرار دیتے ہوئے ’’ نادرست ‘‘ کہا کہ یہ ’’ لگائے نہ لگے بجھائے نہ بجھے‘‘ کہیں کوئی آگ خود لگی  ہے کبھی جب تک کوئی سبب نہ ہو!؟  تو دوسری آگوں کی طرح یہ بھی ایک آگ ہے کہ مِن جُملہ اس کے اس  کے اسباب میں سے  ایک اظہار بھی ہے ۔تو جنس مخالف  کی طلب کا  اظہار جب فریق مخالف کے سامنے کر دیا گیا تو جذبات  کی جھیل کا بند  ٹوٹ گیا ۔اب جذبہ محبت کی روک و تھام مشکل ہے وہ  انسان کو بہا کر  لے جاتا ہے:

 

جذبات کی رو میں بہہ گیا ہوں

کہنا جو نہ تھا وہ کہہ گیا  ہوں

تو انسان جب جذبات کے بہاؤ میں بہتا ہے تو صرف ان کہی  نہیں کہتا بلکہ وہ کچھ کر بھی گزرتا ہے جو کرنے لائق نہیں ہوتا ۔’’شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے ‘‘ چناں چہ   لدھیانے کے ناکام عاشقوں کے   بھرتی کے شعر  ،  جذبات سے مغلوب لوگوں  کی ہمت بندھاتے ہیں :

تم میں ہمت ہے تو  دنیا سے بغاوت کر  دو

ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کر لو

احمقانہ شعروں کی  جاہلانہ پیروی کرتے ہوئے کتنی ہی لڑکیاں ، راتوں رات    گھر کی دہلیز  پار کر لیتی ہیں ۔ نہ بابُل   کے گلے لگ کر روتی ہیں  اور نہ ممتا کی دعائیں لیتی ہیں،  نہ ہی سکھیوں  سہلیوں  کے چھیڑ خانی اور  ’’ با معنی‘‘ جملوں   سے    پھوٹنے والی مسکراہٹوں کو دانتوں تلے دبانے کا حسین  لمحہ انھیں نصیب ہوتا ہے ۔  گھر سے بھاگ کر  وہ اس طریقے سے  شادی رچا لیتی ہیں جس میں شادی نہیں  بلکہ غمی    اور ناز و انداز نہیں بلکہ  تھانے کچہری کی دھکم پیل ہوتی ہے ۔   اسے بجا طور پر کورٹ میرج کہا  جاتا ہے   کہ اس کے بعد لڑکی ’’ کورٹ ‘‘ میں پھینک  دی جاتی ہے۔  اسے لو  (love )میرج  بھی کہا جاتا ہے کہ  اس سے عورت کی حیثیت بہت ’’ لو‘‘ (low)ہو جاتی ہے۔

مطیع صاحب نے ایک نظم میں کہا کہ ’’ محبت ایک قضیہ ہے‘‘ ۔  قضیے کو ہماری  ہندکو میں  ’’ کجیا ‘‘ کہتے ہیں  یعنی  ایسی مشقت جو  نہ صرف   خود اختیاری ہو بلکہ اسے اٹھانے میں ایک گونہ لطف بھی میسر  آئے اگرچہ ابتداً ہی سہی ۔

چناں چہ محبت کے قضیے میں پھنس پھنسا کر  جب  لڑکی  کورٹ میرج   کی جکڑ بندیوں  میں  بندھتی ہے تو ایک کجیے میں جا پڑتی ہے۔    گھر والوں کی مرضی سے شادی کی جائے تو لڑکی پر دباؤ نہیں ہوتا  لیکن  جب لڑکی خود اپنی مرضی سے  گھر سے بھاگ کر شادی کرتی ہے تو بہت انڈر  پریشر ہوتی ہے ۔ ’’ سسرالی قبول نہیں کریں گے اور میں نے اپنا گھر خود بسانا ہے ۔ساری ذمہ داری میری اپنی ہے‘‘ ۔ اس پریشر میں اس سے  غلطیاں کچھ  زیادہ  ہی سرزد ہوتی ہیں ۔ دوسری طرف  سماجی اور خاندانی  روایات سے انحراف کے سبب ایسی لڑکیاں   ماں باپ  اور خاندان کی   راہنمائی  اور سرپرستی سے بھی  محروم ہو جاتی ہیں ۔تیسری  طرف سسرالی  انھیں  کبھی ’’ بہو       رانی  ‘‘ کا مقام نہیں دیتے ۔  جلتی پہ تیل کا  کام تو  ساس صاحبہ  کا دل جلانے والا  یہ  جملہ  کرتا ہے ’’ جو سگے ماں باپ کی نہ بن سکی وہ ہماری کیا بنے گی ‘‘ اور کبھی نند کا زہر میں بجھا تیر ’’ بھابھی ،  تو بھیا کے ساتھ  بھاگ آئی تھی ‘‘ جگر کو چھلنی کر دیتا ہے اور اس پر مصیبت یہ کہ  پورے خاندان کو چھوڑ کر جس لڑکے کو  ’’ خصم‘‘ کیا  تھا  وہ بھی طعنے دیے بنا نہیں  رہتا ’’   تُو اتنی نیک ہوتی تو۔۔۔۔۔۔‘‘

اس منظر  میں سب سے  زیادہ گھناؤنا ،  شرمناک   اور  موذی کردار   خاوند کا ہوتا ہے کہ وہ لڑکی جومحبت  کے  جوش میں ، زمانے سے بغاوت کر کے   تمھارے  چرنوں میں  آ بیٹھی   تم اس کا  دل بھی نہیں رکھ سکتے۔ حالاں کہ  محبت کے دو بول بھی ایسی لاوارث  بیوی کی دلجوئی کو بہت ہوتے ہیں :

واقف ہی نہ تھا رمز محبت سے وہ      ورنہ

دل کے لیے تھوڑی سی عنایت ہی بہت تھی

 

اپنی روایت سے ہٹنے والے  یہ  ’’ کَوے ‘‘ جب ہنس کی چال  چلتے ہیں  تو  ان کا وہی حال ہوتا ہے جو مٹی  پہ چلنے کا سلیقہ سیکھنے کے بجائے    سنگِ مرمر پر چلنے والوں کا ہوتا ہے ۔ چناں چہ یہ پھسلتے ہیں اور بہت پھسلتے ہیں ۔   غضب خدا کا  ، پہلے لڑکی کو ہمت دلا کر دنیا سے بغاوت پر اکساتے ہیں پھر  چاہتے ہیں کہ  فرماں بردار بیوی  بن کر رہے ۔ اپنے حق کے لیے ماں باپ کے سامنے آواز بلند کرنے کی تلقین کرنے والے چاہتے ہیں  کہ لڑکی  ساس سسر کے سامنے  ’’اللہ میاں کی گائے ‘‘ بن کر رہے  اور سب گھر والوں کی خدمت کرے ۔

محبت کی اس شادی میں ایک  دو طرفہ نفسیاتی الجھن بھی ہے ۔ وہ لڑکا جو:

’’محبت عبادت ،محبت پوجا

عشق خدا کا نام ہے دوجا

کا قائل ہوتا ہے اور  اپنی  محبوبہ کو  ہم قدم ، ہمنشین  ،    پتھر کا صنم اور محبت کا خدا  ، قرار دے کر   اقرار کرتا ہے:’’تمھی ہو بندگی میری تمھی میری عبادت ہو ‘‘ اور کبھی وہ کہتا ہے کہ’’ تو  حسن کی دیوی ہے اور میں ہوں تیرا پجاری ‘‘   لیکن یہ ایک جھوٹی بات ہے جو مرد کی سائیکی کے خلاف ہے ۔ چناں چہ شادی سے پہلے کا غلام  اور حسن  کا پجاری ، اب شادی کے بعد  پوجا ترک کے  خدا  ، یا چلیں مجازی خدا  بن کر اپنی پوجا کروانا چاہتا ہے۔ اب اس میں مسئلہ ہے ۔وہ جس کو پوجا گیا تھا  وہ ناری جو  پُجَن ہاری تھی اب پجارن کیسے بن سکتی ہے۔  مرد اپنی سائیکی سے مجبور  ، عورت سابقہ  ناز و  انداز پر مغرور ، اب نباہ ہو تو کیسے ہو ۔ یہاں ضرورت پڑتی ہے کسی عقل مند سسر کی جو باپ بن سکے اور کسی سیانی  ساس کی جو  ماں بن کر   دونوں کو بہلا پھُسلا کر ساتھ چلا سکے  لیکن  یہ دونوں صنفیں  آج کل  ویسے ہی معدوم ہیں اور   ’’ بغاوت ‘‘  کی شادی میں تو بطور خاص  یہ کردار  غائب ہو جاتے ہیں  ۔ چناں چہ اب ’’ مجازی خدا ‘‘  اپنے پروہتوں کے ساتھ  مل کر اپنی ’’داسی ‘‘ ( کنیز) کو  اپنی پوجا   اور گھر والوں کی خدمت میں لگانے کے لیے  زور زبردستی کا راستہ اختیار کر لیتا ہے اور اس میں وہ دانستہ و نا دانستہ ظلم کا راستہ اختیار کر  لیتا ہے۔ اب بیوی کہے تو کس سے کہے کہ  اپنے گھر والوں کو تو وہ پہلے  ہی چھوڑ چکی تھی :

ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی

مجبور تھے ہم،  اس سے محبت بھی بہت تھی

ڈانٹ ڈپٹ ، مار پٹائی ،  جذباتی تناؤ  اور ٹینشن کے ماحول میں کوئی  لڑکی نارمل کردار ادا نہیں کر سکتی لیکن   رویے کی خرابی  پر قصور وار پھر اسے ہی ٹھہرایا جاتا ہے:

پہلے رگ رگ سے مری خون نچوڑا  اُس نے

اب یہ کہتا ہے کہ رنگت ہی مری پیلی ہے

افرا تفری کے اس ماحول میں  لڑکی کو درست انداز سے سوچنے کا موقع بھی نہیں ملتا ۔ اس کے ساتھ یہ کیوں ہو  رہا ہے۔ بس وہ سوچتی ہے تو یہ  :

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

 

اب زندگی گزرتی  ہے تو  بس   روتے دھوتے  :

کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا  گلہ

منزل عشق میں ہر گام پہ رونا آیا

 

وہ محبوب  مرد جس کی چاہت کو پانے کے لیے لڑکی نے اپنا سب کچھ تج دیا تھا وہی اس کے درپے آزار رہتا ہے:

ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا    اپنا

قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح

کبھی نہ سوچا تھا ہم نے قتیلؔ اس کے لیے

کرے گا ہم پہ ستم وہ بھی ہر کسی کی طرح

 

محبت کی یہ شادی رچائی تو گئی تھی  ’’ شادمانی ‘‘ کے لیے لیکن یہ دکھوں کا  مرقع بن جاتی ہے  اور پھر محبت کے خوشوں  اور  خوشیوں کی آڑ میں  ان نادان    چڑیوں کو   جس طرح پھڑکایا اور تڑپایا  جاتا ہے وہ بہت دردناک ہے:

ماریا                              مالی                            کَس                          غلیلا
لے              داکھاں                    دِیاں                        آڑاں

میں                  اوہ                 چَندری              جس           دی       ڈولی
لُٹّ                                            لئی                        آپ                               کہاراں

’’ مالی نے انگور کی بیلوں   اور  گچھوں کی آڑ سے  ، غلیل کا نشانہ لے لے  کر مجھے  مارا۔ میں وہ بدنصیب ہوں کہ جس کی ڈولی ،  اس ڈولی کے اٹھانےو الے کہاروں ہی نے  لوٹ لی‘‘۔

اب آگے  کا قصہ یوں ہے کہ کچھ لوگ تو روتے دھوتے زندگی کرتے رہتے ہیں :

کیا  کہوں کس طرح سے جیتا ہوں

غم کو کھاتا ہوں      آنسو  پیتا         ہوں

اور کچھ بیچاریوں کا انجام   اس لڑکی جیسا ہوتا ہے جس نے ہمیں لکھنے پہ مجبور کیا ، بقول ’’  انشاء  دیوانے ‘‘ کے

’’اس رات یہ قصہ پاک کیا کچھ کھا ہی لیا  ’’ دکھیاری ‘‘ نے

کیا بات ہوئی کس طور ہوئی    اخبار سے لوگوں        نے            جانا

محبت  کی جنگ میں  ’’ بغاوت ‘‘ کے جس اسلحے سے  اس  نے زمانے کو شکست دی تھی ۔اسی  تیشے سے وہ  اپنی زندگی کے درخت کی جڑ کاٹ ڈالتی ہے :

وہ تھک’’  چکی تھی ‘‘ اور  اس کا تیشہ اسی کے سینے میں گڑ چکا تھا!

(جمیل الرحمن عباسی   بانڈی بیروٹ ، 24   جولائی   2023  )

 

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481