ایبٹ آباد میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے مریض کی ہلاکت پرلواحقین نے احتجاجاً میت سڑک پر رکھ کر ٹریفک معطل کر دی اور ذمہ دار ڈاکٹروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ شام بے نظیر بھٹو شہید ہسپتال ایبٹ آباد میں ایک مریض 32 سالہ نویدولد یوسف کو لایا گیا جو کہ دل کے پاس درد کی شکایت کر رہا تھا۔موجود لیڈی ڈاکٹر نے چیک کرنے کے بعد معدے کے درد کا انجکشن تجویز کیا جس پر وہاں موجود پیرا میڈیکل عملہ نے اسے انجیکشن لگا کر گھر بھیج دیا۔
کچھ ہی دیر بعد لواحقین مریض کو مردہ حالت میں لے کر ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچ آئے اور احتجاج شروع کر دیا۔ واقعے کی خبر جنگل کی اگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی۔ ڈاکٹروں نے بتایاکہ جب مریض ہمارے پاس آیا تو اس نے دل کے پاس درد کی شکایت کی جس پر ہم نے اسے پہلے ای سی جی تجویز کی۔ ای سی جی کی رپورٹ نارمل تھی اور ہم نے مریض کو رائزک انجیکشن ایڈوائز کیا۔جو کہ معدے کے مریض کو لگایا جاتا ہے اور اس سے موت واقعہ نہیں ہو سکتی۔
بعد ازاں متعلقہ اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عامرموقع پر پہنچ گئے اور لواحقین کے ساتھ مذاکرات کیے اور یقین دہانی کرائی کہ اگر ڈاکٹروں کی غفلت ثابت ہوئی تو ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ دوسری طرف لواحقین کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو ہم شاہراہِ ریشم اور مری روڈ کو مکمل بند کر دیں گے۔

