عمران خان کی گرفتاری کی نئی کہانی سامنے آ گئی
سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری کے حوالے سے ایک اور "اندرونی کہانی” سامنے آگئی۔ واضح رہے کہ مختلف صحافی ،اینکرز اب تک قوت تخیل اور کچی پکی معلومات کی بنیاد پر اس تک زمان پارک کے گھر سے عمران خان کی گرفتا ری سے متعلق کئی سنسنی خیز کہانیاں بیان کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں پاکستان کا 76 واں یوم آزادی ملی جوش و جذبے کیساتھ منایا جا رہا ہے
تاہم ذرائع کےمطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو صرف دو غیر مسلح پولیس افسران نےگرفتار کیا،ان میں سے ڈی ایس پی عہدےکا ایک افسر چیئرمین پی ٹی آئی کےگھر کی دیوار پھلانگ کر داخل ہوا، ڈی ایس پی کے اندر جانے پر بغیر مزاحمت کے گھرکا دروازہ کھولا گیا۔واضح رہے کہ قبل ازیں کئی سینئر صحافی نہ صرف دروازہ توڑ آپریشن کی خبر دے چکے ہیں بلکہ ایک سینئر صحافی نے تو دروازے کی مختلف آوازیں بھی نکالنے کی کوشش کی۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈی آئی جی عہدےکا ایک افسر گھرکے دروازے سے اندر گیا تو چیئرمین تحریک انصاف اور بشریٰ بی بی دونوں پولیس افسران کو دیکھ کر پریشان ہوگئے، بشری بی بی نے پوچھا آپ کون ہیں ؟
افسر نے کہا بہن ہم چیئرمین تحریک انصاف کو لینے آئے ہیں۔
اس کے بعد دونوں افسران چیئرمین پی ٹی آئی کو لےکر گاڑی میں بیٹھ گئے، ایک افسر نےکسی سے فون پر شہر میں امن و امان کی صورتحال پوچھی تو عمران خان نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو دوسرے افسر نے پنجابی میں بتایا، وہی افسر جس کی آپ نے آنکھ پھوڑی ہے۔
اس پر انہوں نےزخمی ہونے والے افسر سے معذرت بھی کی۔
ذرائع کے مطابق گاڑی میں بیٹھے ایک پولیس افسر نے چیئرمین تحریک انصاف کو کاجو اور بادام پیش کیے تو انہوں نے انکار کردیا۔
پولیس افسر نےکاجو اور بادام خودکھائے اور کہا کہ دیکھیں ہمیں تو کچھ نہیں ہوا تو چیئرمین پی ٹی آئی نے بھی کاجو اور بادام کھالیے۔
