اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

قومی زبان "اُردُو” اور "یومِ آزادی”

FB IMG 1657623668303 1

قومی زبان اُردُو اور یومِ آزادی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللّٰہ کریم ، قُرآنِ پاک کی سُورہ ابراہیم کی آیت نمبر 4 میں فرماتا ہے :-

” ہم نے اپنا پیغام دینے کے لئے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ، اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا تا کہ وہ اُنہیں اچھی طرح بات کھول کر سمجھائے ۔ پھر اللّٰہ جِسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جِسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے ، وہ بالا دست اور حکیم ہے”

مسلمان سائنس دانوں کی دریافتوں (ایجادات) کی بدولت چھٹی سے تیرہویں صدی یعنی 800 سال تک یورپ میں عربی زبان کی حکمرانی تھی۔ جب کہ چودہویں سے سولہویں صدی تک یہاں لاطینی زبان کا طوطی بولتا تھا، لیکن یورپ کے ماہرینِ تعلیم اور دانشور حکمرانوں نے عربی اور لاطینی کو اپنے ممالک کی تعلیمی اور دفتری زبان نہیں بننے دیا۔  حالانکہ دونوں مذکورہ ادوار میں عربی اور لاطینی نہ جاننے والوں کو جاہل تصوّر کیا جاتا تھا، جیسے آج انگریزی نہ جاننے والوں کی کوئی مسلّم معاشرتی حیثیت نہیں۔  لیکن پاکستانی حکمرانوں نے انگریزی کو دفتری اور تعلیمی زبان بنا کر پاکستان کے بہترین دماغوں کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یورپ کا پہلا ہُنر مند مداری (راجر بیکن) سائنس دان کہلایا اور ہمارے معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کہلوانے والے ہُنر مند لوہار ، موچی ، درزی اور جولاہے کہلوانے لگے۔

معروف عسکری ماہرِ لسانیات جناب شفیع منصور کہتے ہیں

” اُردُو کی حیثیت اور اہمیت اُس وقت تک واضح نہیں ہو گی جب تک اِسے صوبائی اور مرکزی سطح پر دفتروں میں رائج نہیں کیا جاتا ۔ جب تک مرکز میں انگریزی کی اجارہ داری ختم نہیں ہوتی اُردُو کی تدریسی حیثیت کا تعین بھی نہیں ہو سکے گا ۔ ہمیں دراصل یہ تحریک چلانی چاہیے کہ مرکزی حکومت اُردُو کو اس کا مقام دے اور اسے سرکاری دفتری زبان بنائے "۔

ڈاکٹر جمیل جالبی فرماتے ہیں:-

"قوم کی ذہانت اور صلاحیتوں کے قطرے انگریزی زبان کے سمندر میں گر کر معدوم ہو رہے ہیں ۔”

انگریزی زبان اور معاشرے کی سامراجیت کو معروف دانشور اوریا مقبول جان یوں بے نقاب کرتے ہیں ۔

” اِس ساری منافقت کا ایک اور سانحہ یہ ہے کہ اب ہر گلی محلّے میں ایسے سکول اور کالج کھُل گئے ہیں جہاں پر میٹرک سے ہی امتحان یورپ کی یونیورسٹیاں لیتی ہیں اور پھر یہ پاس ہونے والے طلباء صرف مغرب میں تعلیم حاصل کرنے اور وہیں آباد ہو جانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ اِس وقت ہمارے لاکھوں انجینئر ، پروفیسر اور سائنس دان مغرب جا بسے ہیں کیونکہ ہم نے اُنہیں تیار ہی اُس معاشرے کے لئے کیا تھا۔ "

یاد رہے کہ فتح مکہ کے موقع پر نبئ کریم ص نے قیدیوں کو رہا کرتے وقت چار ہزار درہم فی قیدی یا مسلمانوں کو پڑھانے لکھانے کی جو شرط رکھی تھی اُس شرط میں خطیر رقم کی نسبت پڑھنے لکھنے کو ترجیح حاصل تھی۔ پڑھنے لکھنے میں مختلف علاقوں سے آئے قیدیوں سے اُن کی زبان سیکھنا مقصود تھا تا کہ بعد میں تبلیغی مقاصد کے لیے اُنہی اقوام کی زبان کو افہام و تفہیم اور اُن کے حُکمرانوں سے تحریری رابطے کے لیے کام میں لایا جا سکے۔

نبئ پاک نے فرمایا

"دُشمن کی زبان سیکھو تا کہ اُس کے شر سے محفوظ رہ سکو”

امجد بٹ
صدر ۔ تحریک ترویجِ اُردُو

مری


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481